Al-Risala · May 1982

پتھر کا سبق

Al-Risala, May 1982, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

راجستھان کا ایک طالب علم ہائی اسکول میں فیل ہوگیا۔ دوسرے سال اس نے پھر امتحان دیا۔ دوبارہ فیل ہو گیا۔ اس کے بعد جب اس کا تیسرے سال کا نتیجہ آیا اور اس نے دیکھا کہ وہ اب بھی فیل ہے تو اس کو سخت دھکا لگا۔ وہ ات بیزار ہوا کہ گھر سے بھاگ نکلا۔

چلتے چلتے وہ ایک گاؤں کے کنارے پہنچا۔ اس کو پیاس لگ رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک کنواں ہے جس پر کچھ عورتیں اور بچے پانی بھر رہے ہیں۔ وہ کنویں کے پاس پہنچا تاکہ اپنی پیاس بجھا سکے۔ مگر وہاں اس نے ایک منظر دیکھا۔ منظر بظاہر چھوٹا سا تھا مگر وہ اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنی پیاس بھول گیا۔ اس کو اچانک محسوس ہوا کہ اس نے پانی سے زیاوہ بڑی ایک چیز پا لی ہے۔

اس نے دیکھا کہ گاؤں کے لوگ جو پانی بھرنے کے لیے کنویں پر آتے ہیں، عام طور پر ان کے ساتھ دو عدد مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں۔ ایک گھڑے کو دہ کنویں کے قریب ایک پتھر پر ر کھتے دیتے ہیں اور دوسرے گھڑے کو کنویں میں ڈال کر پانی نکالتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ جس پتھر پر گھڑا رکھا جاتا ہے وہ گھڑا رکھ رکھتے گھس گیا ہے۔ "گھڑا مٹی کی چیز ہے" اس نے سوچا "مگر جب وہ بار بار بہت دنوں تک ایک جگہ رکھا گیا تو اس کی رگڑ سے پتھر گھس گیا۔ استقلال کے ذریعہ مٹی نے پتھر کے اوپر فتح حاصل کرلی۔ مسلسل عمل نے کمزور کو طاقت ور کے اوپر غالب کر دیا۔ پھر اگر میں برابر محنت کروں تو کیا میں امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیا کوشش کے اضافہ سے میں اپنی کمی پر قابو نہیں پا سکتا؟

یہ سوچ کر بھاگے ہوئے طالب علم کے قدم رک گئے۔ وہ لوٹ کر اپنے گھر واپس آگیا اور دوبارہ تعلیم میں اپنی محنت شروع کر دی۔ اگلے سال وہ چوتھی بار ہائی اسکول کے امتحان میں بیٹھا۔ اس بار نتیجہ حیرت انگیز طور پر مختلف تھا۔ کے پرچے اتنے اچھے ہوئے کہ وہ اول درجہ میں پاس ہو گیا۔ تین بار نا ناکام ہونے والے نے چوتھی کوشش میں نمایاں کامیابی پتھر کا یہ سبق نوجوان کی زندگی کے لئے اتنا اہم ثابت ہوا کہ اس کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ جو طالب علم ہائی اسکول میں مسلسل ناکام ہو کر بھاگا تھا وہ اس کے مسلسل فرسٹ آنے لگا۔ یہاں تک کہ ایم اے میں اس نے ٹاپ کیا۔ اس کے بعد وہ ایک اسکالر شپ پر اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونی ملک میں گیا۔ اور وہاں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں جو صرف ایک گاؤں میں پیش آیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جگہ ایسے "پتھر" موجود ہیں جو آدمی کو زندگی کا سبق دے رہے ہیں جو ناکامیوں میں سے کامیاب بن کر نکلنے کا اشارہ دیتے اگر آدمی کے اندر نصیحت لینے کا مزاج ہو تو وہ اپنے قریب ہی ایسا ایک "پتھر" پالے گا جو خاموش زبان میں اس کو وہی پیغام دے رہا ہو جو مذکورہ نوجوان کو اپنے پتھر سے ملا تھا۔

مشکلیں ہیرو بنا دیتی ہیں :

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی (امریکہ) میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے آفات و حوادث کی تحقیق کا مرکز (Disaster Research Centre) یہ ادارہ ۱۹۶۳ میں قائم ہوا۔ اب تک اس نے ایک سو سے زیادہ تعداد میں مختلف قسم کی بڑی بڑی انسانی آفتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس نے پایا کہ غیر معمولی مشکل مواقع پر انسان کے اندر غیر معمولی طور پر کچھ نئی قوتیں ابھر آتی ہیں جو اس کو حوادث کا شکار ہونے سے بچاتی ہیں۔ مثلاً ۱۹۶۱ میں ٹیکساس میں زبردست قسم کا ساحلی طوفان آیا مگر اس طوفان میں اس علاقہ کے صرف آدھے ملین لوگوں نے اپنا مکان چھوڑا۔ ۷۰ فی صد سے زیادہ آبادی اپنے مکانوں میں جمی رہی۔ جب کہ اس طوفان کے آنے کی اطلاع چار دن پہلے دی جا چکی تھی۔ ۱۹۷۱ میں کیلیفورنیا کے زلزلہ میں ایک بہت بڑا ڈیم کمزور ہو گیا جس سے ۷۰ ہزار آبادی کے لئے سنگین خطرہ لاحق ہو گیا۔ مگر ایسے نازک حالات میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے والوں کی تعدا د صرف۷ فی صد تھی۔

تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ حادثات کا شکار ہو جانے کے بعد بھی اکثر لوگ پر امید رہتے ہیں۔ دو شہروں میں ہولناک طوفان سے تباہ ہونے والے لوگوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا۔ ۱۰ فی صد سے بھی کم لوگوں نے مستقبل کے بارے میں کسی اندیشہ کا اظہار کیا بقیہ تمام لوگ تباہی کے باوجود اپنے مستقبل کے بارے میں پر امید تھے۔ حوادث کے بارے میں اپنی لمبی تحقیق کا خلاصہ مذکورہ ادارہ کی رپورٹ میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: واقعات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان مصیبتوں کے مقابلہ میں حیرت انگیز طور پر قایم یافتہ اور لچکدار واقع ہوئے ہیں۔ مصائب کے وقت انسان جس رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں، اس کو دہشت اور گھبراہٹ کے بجائے ہیرو ازم کے لفظ سے تعبیر کرنا زیادہ صحیح ہوگا۔

In conclusion, the reality of events suggests that human beings are amazingly controlled and resilient in the face of adversity. Perhaps heroism — not panic or shock — is the right word to describe their most common behaviour in time of انسان کو اس کے بنانے والے نے حیرت انگیز طور پر بے شمار صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔ اسی میں سے ایک صلاحیت یہ ہے کہ عین بربادی کے کھنڈر میں کھڑا ہو کر بھی وہ ختم نہیں ہوتا بلکہ اپنی نئی تعمیر کا منصوبہ سوچتا ہے اور بہت جلد اپنے نقصانات کی تلافی کر لیتا ہے۔ انسان کے اندر یہ فطری امکان ہم کو بہت بڑا سبق دے رہا ہے۔ کوئی فرد یا قوم اگر کسی حادثہ کا شکار ہو جائے تو اس کو ماتم اور شکایت میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ خدا کی دی ہوئی صلاحیت کو بروئے کار لا کر اپنے کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش میں لگ جانا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ حالات نے جہاں آپ کی کہانی ختم کر دینی چاہی تھی وہیں سے آپ کی زندگی کے ایک نئے شان دار باب کا آغاز ہو جائے ۔

Printed page