ایک وراثت یہ بھی ہے
Al-Risala, May 1982, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
کریم بخش سیدھے سادے دین دار آدمی تھے۔ گاؤں کی معمولی آمدنی پر گزر کر لیتے ۔ ۶۵ سال کی عمر میں وہ چار بچے چھوڑ کر مرے تو ان کے لئے انھوں نے کوئی قابلِ ذکر جائیداد نہیں چھوڑی تھی ۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے رحیم بخش شہر چلے آئے تاکہ اپنے لئے کمائی کی کوئی صورت کر سکیں ۔ شہر میں انھوں نے مختصر سرمایہ کے ساتھ ایک کاروبار شروع کر دیا۔
رحیم بخش کے والد نے ان کے لئے کوئی مادی وراثت نہیں چھوڑی تھی۔ مگر قناعت اور سادگی اور کسی سے لڑے بھڑے بغیر اپنا کام کرنے کی وراثت چھوڑی تھی۔ یہ وراثت رحیم بخش کے لئے بے حد مفید ثابت ہوئی ۔ کی سادگی اور قناعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ معمولی آمدنی کے باوجود وہ مسلسل ترقی کرنے لگے۔ ان کا لڑائی بھڑائی سے بچنے کا مزاج ان کے لئے مزید معاون ثابت ہوا۔ ہر ایک ان سے خوش تھا۔ ہر ایک سے ان کو تعاون مل رہا تھا۔ ان کی ترقی کی رفتار اگرچہ سست تھی مگر وہ ایک دن رکے بغیر جاری رہی۔
رحیم بخش کا کاروبار اگر چہ معمولی تھا مگر ان کی شرافت، ان کی بے غرضی اور ان کی ایمان داری نے ان کو اپنے ماحول میں اتنی عزت دے رکھی تھی جیسے کہ وہ کوئی بڑی حیثیت کے آدمی ہوں ۔ ان کے پاس سرمایہ بہت کم تھا مگر لین دین میں صفائی اور وعدہ کا پکا ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بازار میں بڑے بڑے تھوک بیوپاری ان سے کہتے کہ ”میاں جی، جتنا چاہے مال لے جاؤ۔ پیسہ کی پروا نہ کرو۔ پیسے بعد کو آجائیں گے “ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی سے جھگڑے کی نوبت آگئی ۔ مگر انھوں نے خود ہی اپنے کو چپ کر لیا ۔ وہ شریر آدمی کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے بلکہ خاموشی سے اپنے کاروبار میں لگ جاتے اور اس کے حق میں دعا کرنے رہتے۔ جب بھی ان کے دل میں شیطان کوئی بدمعالگی کا جذبہ ڈالتا تو ان کے والد کا معصوم چہرہ ان کے سامنے آکر کھڑا ان کو ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میں نے کوئی غلط معاملہ کیا یا کسی سے جھگڑا فساد کیا تو میرے باپ کی روح قبر میں تڑپ اٹھے گی۔ یہ خیال فوراً ان کے جذبات کو دبا دیتا۔ وہ دوبارہ اسی تعمیری راستہ پر چل پڑتے جس میں انھیں ان کے باپ نے چھوڑ اتھا۔
ان کا کاروبار بڑھا تو ان کو مزید معاون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اب انھوں نے اپنے بھائیوں کو بلانا یہاں تک کہ چاروں بھائی شہر میں منتقل ہو گئے۔ دھیرے دھیرے ان کے کاروبار کے چار مستقل شعبے ہو گئے۔ ہر شعبہ ایک ایک بھائی کے سپر دتھا۔ چاروں بھائی ایک ساتھ مل کر رہتے اور ساتھ کھاتے پیتے ۔ کاروباری اعتبار سے ہر بھائی اپنے اپنے شعبہ کو آزادانہ طور پر انجام دیتا تھا۔
کچھ دنوں کے بعد رحیم بخش کو محسوس ہوا کہہ بڑے بھائی ہونے کی حیثیت سے چونکہ وہی کاروبار کے مالک ہیں اس لئے بقیہ بھائی اپنے کام کو اس دل چسپی سے نہیں کرتے جیسا کہ کوئی آدمی اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتا ہو۔ اب رحیم بخش کے لئے دو صورتوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کا سوال تھا۔ یا تو کاروبار کو اپنے قبضہ میں لے کر بقیہ تینوں بھائیوں کو اس سے الگ کردیں اور اس کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لئے بھائیوں کی دشمنی خریدیں۔ دوسرے یہ کہ معاملات کو اسی طرح چلنے دیں۔ یہاں تک کہ بالآخر دہی ہو جو عام طور پر مشترک کاروبار میں ہوتا ہے۔ یعنی باہمی شکایت اور اس کے بعد تلخ یادوں کے ساتھ کاروبار کی تقسیم۔ رحیم بخش نے چند دن سوچا اور اس کے بعد سب بھائیوں کو جمع کرکے ساری بات صاف صاف ان کے سامنے رکھ دی۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے ابھی کوئی بات بگڑی نہیں ہے۔ بہترین بات یہ ہے کہ چاروں بھائی ایک ایک کاروبار کو لے لیں اور ہر ایک ذاتی طور پر اپنا کاروبار چلائے۔ اس طرح ہمارے والد کی روح کو سکون پہنچے گا اور مجھے یقین ہے کہ اس میں ہر ایک کے لئے زیادہ برکت ہوگی۔ تینوں بھائیوں نے کہا کہ ہم تو سراپا آپ کے احسان مند ہیں۔ اس لئے آپ جو بھی فیصلہ کر دیں وہ ہم کو منظور ہے۔ مختصر گفتگو کے بعد یہ طے ہوا کہ قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ چنانچہ اسی وقت قرعہ کے ذریعہ ہر بھائی کو ایک ایک کاروبار دے دیا گیا۔ اب چاروں بھائی اپنے اپنے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر ایک اپنے بچوں کو لے کر اپنے اپنے کام میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہے۔ چاروں کے درمیان پہلے سے بھی زیادہ اچھے تعلقات ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ چاروں نے الگ الگ اپنے مکانات بنا لئے ہیں۔ مگر رحیم بخش اب بھی اسی طرح سب کے بڑے بھائی ہیں جیسے وہ پہلے بڑے بھائی تھے۔ ایک بھائی جو بات کہ دے اس کو دوسرا بھائی کبھی نہیں ٹالتا۔ ایک گھر میں کوئی ضرورت پیش آجائے تو چاروں گھروں کی عورتیں اور بچے مل کر اس کو اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ ہر ایک کا اپنا کام ہو۔
اکثر باپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی اولاد کے لئے سب سے بڑی وراثت یہ ہے کہ وہ ان کے لئے مال اور جائداد چھوڑ کر اس دنیا سے جائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ خوش نصیب اولاد وہ ہے جس کے باپ نے اس کے لئے با اصول زندگی کی وراثت چھوڑی ہو۔ وہ اپنی اولاد کو یہ سبق دے کر دنیا سے گیا ہو کہ اپنی محنت پر بھروسہ کرو، لوگوں سے الجھے بغیر اپنا کام کرو۔ اپنے دائجی حق پر حال کے فائدوں سے زیادہ مستقبل کے امکانات پر نظر رکھو۔ خوش خیالیوں میں گم ہونے کے بجائے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرو۔ مادی وراثت سے زیادہ بڑی چیز اخلاقی وراثت مگر بہت کم باپ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔