Al-Risala · May 1982

Albert was a lazy dog.

Al-Risala, May 1982, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

البرٹ ایک سست کتا تھا۔ ۲۰ سال کی عمر تک البرٹ آئن سٹائن میں کوئی غیر معمولی آثار نظر نہ آتے تھے۔ مگر اس کے بعد اس نے محنت شروع کی تو وہ اس بلندی تک پہنچا جو موجودہ زمانہ میں بمشکل کسی دوسرے سائنس داں کو حاصل ہوئی ۔ اسی بنا پر اس کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے :

We could take heart that it is not necessary to be a good student to become Einstein. ہم کو جاننا چاہئے کہ آئن سٹائن بننے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی طالب علمی کے زمانہ میں ممتاز رہا ہو۔ نے اپنی پہلی سائنسی کتاب اس وقت شائع کی جب کہ اس کی عمر ۲۶ سال تھی۔ اس کے بعد سے اس کی شہرت بڑھتی ہی چلی گئی۔ آئن سٹائن کی زندگی بالکل سادہ تھی۔ وہ نہایت سادہ غذا کھاتا تھا ۔ وہ اکثر آدھی رات تک اپنے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کو اسرائیل کی صدارت پیش کی گئی تھی مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ سیاست انسانیت کا کینسر ہے۔ میں اس نے ہٹلر کے جرمنی کو چھوڑ دیا تھا۔ ہٹلر کی حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص آئن سٹائن کا سر کاٹ کر لائے گا اس کو ۲۰ ہزار مارک انعام دیا جائے گا۔ اس زمانہ میں یہ رقم بہت زیادہ تھی۔ مگر آئن سٹائن کی عظمت لوگوں کے دلوں پر اتنی قائم ہو چکی تھی کہ کوئی اس انعام کو حاصل کرنے کی جرات نہ کر سکا (۷ اکتوبر ۱۹۴۹)

تاریخ میں اس طرح کی بہت مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑا انسان بننے کے لئے بڑا بچہ پیدا ہونا ضروری نہیں۔ حیثیت سے آغاز کر کے آدمی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ جدوجہد کی شرطوں کو پورا کرے، بلکہ وہ لوگ زیادہ خوش قسمت ہیں جن کو مشکل مواقع میں زندگی کا ثبوت دینا پڑے، کیونکہ مشکل حالات عمل کا محرک ہوتے ہیں۔ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ نیز زندگی کے بہترین سبق ہمیشہ مشکل حالات میں ملتے ہیں۔ راحتوں میں نہیں بلکہ مشکلوں میں تیار ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں امکانات کی کوئی حد نہیں۔ یہاں کسی کو اپنے عمل کے لئے معمولی آغاز ملے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ معمولی حالات زندگی کا سب سے مضبوط زینہ ہیں۔ کی اکثر اعلیٰ ترین کامیابیاں معمولی حالات کے اندر ہی سے برآمد ہوئی ہیں۔

Printed page