Al-Risala · June 1982

جنتی نگاه

Al-Risala, June 1982, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اتنا حیرت ناک ہے کہ اس کو دیکھ کر آدمی خالق کی کاریگری میں کھو جائے ۔ تخلیق کے کمالات میں ہر طرف خالق کا چہرہ جھلک رہا ہے۔ ہمارے چاروں طرف جو دنیا ہے اس کو ہم بچپن سے دیکھتے دیکھتے عادی ہو جاتے ہیں ۔ اس سے ہم اتنا مانوس ہوجاتے ہیں کہ اس کے انوکھے پن کا ہم کو احساس نہیں ہوتا ۔ درخت، چڑیا، غرض جو کچھ بھی ہماری دنیا میں ہے سب کا سب بے حد عجیب ہے، ہر چیز خالق کا آئینہ ہے۔ مگر عادی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے عجوبہ پن کو محسوس نہیں کر پاتے۔ مگر یہی انسان کا امتحان ہے۔ اس کو معمولی چیزوں میں غیر معمولی جھلک دیکھنا ہے ۔ اگر آدمی اس دنیا کو استعجاب کی نظر سے دیکھ سکے تو ہر جگہ اس کو خدا کی موجودگی کا تجربہ وہ زمین پر اس طرح رہے گا جیسے کہ وہ خدا کے پڑوس میں ہو، جیسے کہ وہ خدا کی نظروں کے سامنے ہو۔

موجودہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھنے لگے ، وہ اپنے پاس خدا کی موجودگی کو محسوس کرلے ۔ اگر آدمی کے اندر جنتی نظر پیدا ہو جائے تو سورج کی کرنوں میں اس کو خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا۔ ہرے بھرے درختوں کے حسین منظر میں وہ خدا کا روپ جھلکتا ہوا پائے گا۔ ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمس ربانی کا تجربہ اپنی ہتھیلی اور پیشانی کو زمین پر رکھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوگا گویا اس نے اپنا وجود اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خدا ہر جگہ موجود ہے مگر اس کو وہی خوش قسمت آدمی دیکھتا ہے جس کے اندر خدا کو دیکھنے والی جنتی نگاہ پیدا ہو جائے ۔

Printed page