عبادت کرنے والے
Al-Risala, June 1982, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص کو کسی سے محبت ہو تو محبت کرنے والے ہی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آئے گا کہ اس کی یاد سے اس کا دل بھر آئے۔ اس کے برعکس جس کو اس آدمی سے کوئی لگاؤ نہ ہو وہ صرف وقتی تدبیر سے اس کی خاطر رونے والا نہیں بن سکتا۔ ایک شخص لوگوں کے درمیان تواضع کا طریقہ اختیار کرتا ہے اور دوسرا شخص ایک شخص معاملات میں انصاف کرتا ہے اور دوسرا بے انصافی سے پیش آتا ایک عاجزانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہے اور دوسرا متکبرانہ نفسیات کے ساتھ۔ شخص اعتراف کو اپنا طریقہ بنائے ہوئے ہے اور دوسرا ہٹ دھرمی کو۔ تو ایسی حالت میں یہ نا ممکن ہے کہ دونوں کی عبادت یکساں ہو۔ ان میں صرف پہلا شخص ہے جس کی عبادت خشوع کی عبادت بنے گی۔ دوسرا شخص خواہ کتنا ہی چاہے یہ نا ممکن ہے کہ وقتی طور پر عبادتی صورت بنا کر وہ اپنی عبادت کو خشوع کی عبادت بنالے۔ خشوع کی عبادت دراصل خاشعانہ زندگی کا ایک نتیجہ ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں خاشع نہ بنا ہو وہ کبھی خشوع کی عبادت نہیں کر سکتا۔
خدا کی عبادت کرنے والے خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ مگر اس عبادت کی توفیق اس کو ملتی ہے جو عبادت کے مخصوص اوقات کے علاوہ بھی خدا کا عابد بنا ہوا ہو نہ کہ وہ جو صرف وقتی طور پر عبادت کی صورت بنا لے۔ جنت ایک حقیقی جگہ ہے جو خصوصی اہتمام کے ساتھ حقیقی عبادت گزاروں کے لئے بنائی گئی ہے۔ حقیقی جنت ان لوگوں کو نہیں مل سکتی جو صرف جھوٹی عبادت کا سرمایہ لے کر خدا کے یہاں پہنچے ہوں۔