Al-Risala · June 1982

تمناؤں کی دنیا

Al-Risala, June 1982, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا نے انسان کو ایک ایسی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا جس کے اندر بہت سی خواہشیں اور لذتیں چھپی ہوئی ہیں۔ دنیا میں ان خواہشوں اور لذتوں کی تکمیل کا سامان بھی موجود ہے۔ مگر انسان جب انھیں پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ انھیں پورا نہیں کر سکتا۔ کہیں انسان کی عمر اس کی خواہشوں اور لذتوں کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے اور کہیں اس کی محدودیت۔ کہیں اس کی کوئی کمزوری رکاوٹ بن جاتی ہے اور کہیں کوئی ناخوش گوار اتفاق۔

کیا انسان کا مقدر صرف یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی خواہشیں لے کر دنیا میں آئے اور پھر یہ حسرت لے کر دنیا سے چلا جائے کہ وہ اپنی خواہشوں کو حاصل نہ کر سکا۔ بلکہ خدا نے جنت کی صورت میں اس کی خواہشوں اور لذتوں کی تکمیل کا ابدی سامان مہیا کر رکھا ہے۔ موت کے بعد آدمی ایک اور زیادہ کامل زندگی پالیتا ہے، وہ ایک ایسی دنیا میں دوبارہ آنکھ کھولتا ہے جو ہر قسم کی کمیوں سے پاک ہے۔ یہاں وہ سب کچھ بے حساب مقدار میں موجود ہے جس کو انسان نے موجودہ دنیا میں چاہا مگر وہ ان کو اپنے لئے حاصل نہ کر سکا۔

موت کے بعد کی یہ جنت ان خوش نصیب لوگوں کے لئے ہے جو موت سے پہلے جنتی عمل کا ثبوت دیں جو اپنے اونچے کردار سے اس کا استحقاق ثابت کریں۔ تمناؤں کی زندگی جس کو آدمی موجودہ دنیا میں نہ پا سکا اس کو وہ آخرت کی دنیا میں پائے گا۔ مگر یہ زندگی اسی کو ملے گی جو موجودہ دنیا میں اس کی قیمت ادا کر چکا ہو۔

Printed page