کھونے والا پاتا ہے
Al-Risala, June 1982, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
خوشیوں سے بھری ہوئی زندگی انسان کا سب سے بڑا خواب ہے۔ ہر آدمی اس تمنا کو بے گھر پیدا ہوتا ہے مگر ہر آدمی اس تمنا کو پورا کئے بغیر مر جاتا ہے۔ اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ تمام لوگ اپنے خواب کی تعبیر اسی موجودہ دنیا میں چاہتے ہیں۔ مگر موجودہ دنیا اس آرزو کی تکمیل کے لئے کافی نہیں۔
ہم اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی طرف ابھی سفر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم کو موت ہم مشینی ترقیاں وجود میں لاتے ہیں مگر نئے نئے مسائل پیدا ہو کر ساری ترقی کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہم اپنی پسند کے مطابق اپنا ایک گھر بناتے ہیں مگر دوسرے انسانوں کا بغض، حسد، گھمنڈ، ظلم اور انتقام ظاہر ہو کر ہم کو الجھا دیتے ہیں اور ہم اپنے آشیانہ کو خود اپنی آنکھوں سے بکھرتا ہوا دیکھ کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ آدمی کی تمنائیں بجا ہیں مگر ان کے پورے ہونے کی جگہ موت کے بعد آنے والی دنیا ہے نہ کہ موت سے پہلے کی دنیا ۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو ہماری موجودہ زندگی کو بامعنی بناتا اس کے بعد موجودہ دنیا جد و جہد کی دنیا بن جاتی ہے اور اگلی دنیا جد و جہد کا انعام پانے کی دنیا۔ موجودہ دنیا کو منزل سمجھنے کی صورت میں آدمی مایوسی کے سوا اور کہیں نہیں جب کہ آخرت کی دنیا کو منزل سمجھنے کا عقیدہ اس کے سامنے ابدی سکون کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
ایک ایسی دنیا جہاں کھونے کے سوا اور کچھ نہ ہو وہاں وہی نظریہ صحیح ہو سکتا ہے جو کھونے میں پانے کا راز بتاتا ہو۔