Al-Risala · June 1982

اسلامی زندگی

Al-Risala, June 1982, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی زندگی کا وجود میں آنا ایسا ہی ہے جیسے کسی درخت کا وجود میں آنا۔ ہرا بھرا درخت زمین پر اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب کہ اس نے اپنے آپ کو زمین و آسمان کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا ہو ، اسی طرح اسلامی انسان اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ خدا کی پوری کائنات کو اپنی غذا بنا چکا ہو۔

اسلامی زندگی نہ عملیاتی ورزشوں سے وجود میں آتی ہے اور نہ انقلابی نعروں سے۔ ایک بندہ اس وقت مومن و مسلم بنتا ہے جب کہ وہ تجلیات الہی کا مہبط بن جائے۔ جس طرح مادی سطح پر درختوں کے لئے ایک عالمی دسترخوان پھیلا رکھا ہے ، اسی طرح روحانی سطح پر انسان کے لئے ہر وقت اس کے فیضان کی بارش ہو رہی ہے۔ مادی کائنات سے اپنے آپ کو جوڑنے کے نتیجہ میں درخت وجود میں آتا ہے۔ اسی طرح الہی تجلیات کے سمندر میں نہانے سے وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہتے ہیں۔ درخت ہو یا انسان ، دونوں ہی ایک وسیع تر نظام غذا سے اپنے کو ہم آہنگ کر کے اپنی ہستی کو کمال کے مقام پر پہنچاتے ہیں۔ اسلامی انسان وہی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جیسا ایک درخت۔ فرق یہ ہے کہ درخت فطری جبر کے تحت وجود میں آتا ہے اور انسان خود اپنے آزادانہ عمل سے۔ جو شخص آج اللہ کے رزق پر جی رہا ہے وہ آخرت میں نہایت شاداب اور تندرست حالت میں اٹھے گا۔ اور جو لوگ اللہ کے رزق سے محروم ہیں ان کا حال بھی ہوگا جو آج خراب غذاؤں پر پلنے والے غریبوں کا نظر آتا ہے۔ وہ وہاں بدحال صورتوں کے ساتھ اٹھیں گے خواہ آج وہ کتنے ہی پر رونق نظر آتے ہوں۔

Printed page