عمل یا اعتراف
Al-Risala, June 1982, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان وہ ہے جو آدمی کے اندر اس طرح داخل ہو کہ وہ اس کی نفسیات کا جزو بن جائے ۔ وہ اس کے دل و دماغ پر پوری طرح چھا جائے ۔ آدمی کا سوچنا اور چاہنا، اس کا یقین و اعتماد، اس کی دلچسپیاں اور وفاداریاں، اس کا خوف اور اس کی محبت، سب اس کے ایمان کے تابع ہو جائیں۔ یہ ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ ایسے لوگ اسی دنیا میں خدا کی پناہ میں آجاتے ہیں، اور جو شخص دنیا ہی میں خدا کی پناہ میں آچکا ہو اس کے متعلق کون شبہ کر سکتا ہے کہ وہ آخرت میں خدا کی پناہ سے محروم ہوگا۔
دوسرے اہل ایمان وہ ہیں جن سے نیکی کے ساتھ برائیاں بھی ہوئیں مگر انھوں نے اپنی برائیوں کا اعتراف کر لیا۔ امید ہے کہ اللہ انھیں بھی معاف کر دے گا۔ کیونکہ وہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔
مضبوط ایمان والا وہ ہے جس کے یہاں ایمان اور عمل دونوں ایک چیز بن جائیں۔ مگر کمزور ارادہ کے لوگ اپنے ایمان اور عمل کے درمیان اتنی یکسانی پیدا نہیں کر پاتے۔ تا ہم وہ بھی اللہ کی رحمتوں میں حصہ دار ہوں گے، بشرطیکہ انھوں نے ڈھٹائی کے بجائے شرمندگی کا ثبوت دیا ہو۔ انھوں نے تاویلوں کا سہارا لینے کے بجائے کھلے طور پر اعتراف کر لیا ہو۔ وہ بحث کرنے کے بجائے چپ ہو گئے ہوں ۔ ان کی کوتاہیوں کی نشان دہی کی جائے تو وہ بہانے کے بجائے اپنا سر جھکا لیں۔ اگر وہ اپنے رب کے سامنے عمل کا تحفہ نہ پیش کر سکے ہوں تو انھوں نے اپنے رب کے سامنے عجز کے آنسو پیش کئے ہوں۔ جو لوگ یہ آخری چیز بھی پیش نہ کر سکیں ان کو خدا بخشے گا تو کس بہانے بخشے گا۔