Al-Risala · June 1982

جنت کی وراثت

Al-Risala, June 1982, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین پر انسان کو آزادی حاصل ہے مگر یہ مستقل آزادی نہیں ہے۔ یہ صرف وقتی آزادی ہے اور خاص منصوبے کے تحت دی گئی ہے۔ یہ دراصل امتحان کی آزادی ہے ۔ کائنات کا مالک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو آزادی پا کر بھی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرتا۔ اس کے بعد خدا ایسے لوگوں کو اپنے انعامات سے نوازے گا اور ان لوگوں کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گا جو آزادی پا کر بگڑ گئے۔

دنیا کا موجودہ نظام صرف اس وقت تک ہے جب تک جانچ کا یہ عمل پورا نہیں ہو جاتا۔ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد زمین کا مالک زمین کا انتظام براہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے۔ اچھے اور برے ایک دوسرے سے الگ کر دئے جائیں گے۔ اچھے لوگوں کو ابدی طور پر جنتی زندگی حاصل ہوگی اور برے لوگ ابدی طور پر جہنمی حالات میں دھکیل دئے جائیں گے۔ موجودہ دنیا وہ مقام ہے جہاں آنے والی جنتی دنیا کے شہری چنے جا رہے ہیں۔ لوگ آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے آپ کو اللہ کا حکم بردار بنائیں گے۔ جو مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی اللہ کی مرضی کو اپنے اوپر طاری کریں گے وہی اللہ کے نزدیک اس قابل ٹھہریں گے کہ وہ اللہ کی جنتی دنیا کے باسی بن سکیں۔ آج امتحان کے وقفہ میں ہر طرح کے لوگ زمین پر بسے ہوئے ہیں مگر امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد صرف صالح لوگ خدا کی اس ہری بھری دنیا کے وارث قرار پائیں گے اور بقیہ لوگوں کو اس سے بے دخل کر کے دور پھینک دیا جائے گا جہاں وہ ابدی طور پر حسرتوں اور مایوسیوں کا مزا چکھتے رہیں ۔

Printed page