Al-Risala · June 1982

جنتیوں کا انتخاب

Al-Risala, June 1982, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ امتحان کی دنیا میں انسانوں کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ مگر انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس نے خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے بھر رکھا ہے۔ پھر خدا نے اتنی بڑی برائی کو کیوں گوارا کیا۔ صرف اس لئے کہ اس کے بغیر اس اعلیٰ نوع کا انتخاب نہیں کیا جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ اختیار اور آزادی کے ماحول ہی میں وہ انسان چنے جا سکتے ہیں جن کے متعلق خدا کے نگراں فرشتے یہ گواہی دیں کہ یہ وہ روحیں ہیں جنھوں نے مکمل اختیار رکھتے ہوئے اپنے کو خدا کے لئے بے اختیار کر لیا تھا۔ بے پناہ برائیاں در اصل ایک بے پناہ بھلائی کی قیمت ہیں۔ یہ بھلائی کہ انسانوں کے جنگل سے وہ سعید روحیں چھان کر نکالی جائیں جو پورے شعور اور مکمل ارادہ کے ساتھ اپنے کو خدا کا تابعدار بنا لیں جو محض حقیقت پسندی کی بنا پر خدا کی محکومی اختیار کریں نہ کہ مجبوری کی بنا پر۔

یہ وہ انوکھی ہستیاں ہیں جن کو یہ موقع تھا کہ وہ حق کو جھٹلا دیں مگر انھوں نے حق کو جن کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی انا کا جھنڈا بلند کریں مگر وہ اپنے کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر خدا کو صدر نشین بنانے پر راضی ہو گئے۔ جن کو یہ آزادی ملی ہوئی تھی کہ وہ اپنی قیادت کا گنبد کھڑا کریں مگر انھوں نے اپنے گنبد کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈھا دیا اور صرف حق کو اونچا کرنے میں انھوں نے خوشی حاصل کی۔ اس قسم کی روحیں اس کے بغیر چنی نہیں جا سکتیں کہ ان کو مکمل آزادی کے ماحول میں رکھا جائے اور آزادی کا حقیقی ماحول قائم کرنے کی ہر قیمت کو برداشت کیا جائے۔

Printed page