Al-Risala · June 1982

مختصر رو داد اجتماع بھوپال

Al-Risala, June 1982, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

حلقہ الرسالہ کا پہلا کل ہند اجتماع ۱۷ اپریل کو بھوپال (صوفیہ مسجد) میں منعقد ہوا۔ اجتماع کا آغاز ۱۷ اپریل صبح ۱۰ بجے جناب مولانا پیر سعید میاں صاحب مجددی کی تقریر سے ہوا۔ اس سے پہلے جناب قاری عبد الحافظ صاحب نے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی اور مولوی صدیق صاحب قاسمی نے جناب پیر سعید میاں صاحب کی ایک عربی نعت سنائی، جناب پیر سعید میاں صاحب کی تقریر کے بعد جناب مولانا محسن عثمانی صاحب ندوی نے حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب کا ایک مقالہ (احیاء اسلام) پڑھ کر سنایا۔ یہ نشست تقریبا ایک بجے ختم ہوئی۔ دوپہر سے تین بجے تک نماز ظہر طعام اور استراحت کے لئے وقفہ رہا۔ تین بجے کے بعد دوسری نشست شروع ہوئی، پہلے مولانا محسن عثمانی ندوی نے حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب کا دوسرا مقالہ (اصحاب رسول) پڑھ کر اس کے بعد اظہار خیال کے پروگرام کا آغاز ہوا۔ جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے تشریف لائے ہوئے اصحاب نے اظہار خیال فرمایا۔ یہ پروگرام عشاء کی نماز کے بعد تک جاری رہا۔ جناب عبداللہ مصطفیٰ صاحب (امریکہ) جناب جان محمد صاحب (انگلینڈ) جناب احمد بختیار الدین صاحب (مقیم سعودی عرب) مولانا حبیب الرحمن صاحب (حیدر آباد) مولانا ہاشم القاسمی صاحب (حیدر آباد) مولانا محسن عثمانی ندوی (دہلی) مولانا عبید اللہ کوٹی ندوی (فتح پور) جناب محمد اسلم جمالی (پھلواری شریف) جناب تجمل حسین صاحب (پٹنہ) ڈاکٹر نوشاد علی ندوی (لکھنؤ) معراج مبین ایم اے (کشمیر) جناب عثمان سعید (نانڈیر) جناب کشن جیونت راؤ پٹیل (مہاراشٹر) سمیت ۲۱ اصحاب نے اظہار خیال کے پروگرام میں حصہ لیا۔ دوسرے دن بعد نماز فجر مولانا عبید اللہ صاحب کوٹی ندوی نے درس حدیث دیا۔ پھر ناشتہ کے لئے وقفہ کے بعد دس بجے صبح سے پروگرام کا آغاز ہوا ابتدا میں قاری محمد صدیق صاحب قاسمی نے قرآن کریم کی تلاوت اس کے بعد حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب نے خطاب فرمایا۔ جو کہ ایک گھنٹہ سے زیادہ تک جاری یہ خطاب مکمل رپورٹ کے ساتھ آئندہ الرسالہ میں ملاحظہ فرمائیں) یہ نشست بارہ بجے ختم ہوئی۔ درمیانی وقفہ کے بعد اس دن کی تیسری اور آخری نشست دوپہر تین بجے سے شروع ہوئی۔ جس میں پہلے مولانا حمید اللہ ندوی نے وہ تجاویز پڑھ کر سنائیں جو اس اجتماع کے لئے اظہار خیال کے پروگرام کی روشنی میں ایک کمیٹی نے مرتب کی تھیں۔ اس کے بعد مولانا عبید اللہ صاحب ندوی نے کتاب الاسلام کا باب "اسلامی مرکز" پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب نے خطاب فرمایا۔ اس کے بعد جناب پیر سعید میاں صاحب نے تقریر فرمائی۔ موصوف ہی کی دعا پر اس آخری نشست کا اختتام ہوا۔ عصر کی نماز کے بعد محفل چائے کے دوران حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب سے استفادہ کا سلسلہ جاری رہا جو کہ غیر متوقع طور پر ایک

علمی و دینی نشست کی شکل اختیار کر گیا۔ بعد نماز مغرب طعام سے فارغ ہو کر بیرونی مہمانوں کی واپسی شروع ہوئی جس کا سلسلہ 9 تاریخ کی شام تک چلتا رہا۔

اجتماع میں یوپی، بہار، دہلی، کشمیر، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور حیدر آباد کے ممتاز اصحاب نے شرکت کی۔ پاس شدہ تجاویز حلقہ الرسالہ کے فکر کو تنظیمی ڈھانچہ دینے کے لئے مرکز اسلامی کا نام تجویز کیا گیا۔ حلقہ الرسالہ کے داعی، مفکر اور مربی ہونے کی حیثیت سے مولانا وحید الدین خاں صاحب مرکز کے سرپرست و صدر ہوں گے۔

مرکز اسلامی کی ایک مرکزی کمیٹی ہوگی اور اس کے ماتحت ریاستی کمیٹیاں ہوں گی۔ حلقہ الرسالہ کے کارکنوں سے مشورہ کے بعد مرکز ریاست کے لئے کنوینر مقرر کرے گا اور وہ اپنی ریاستی کمیٹی تشکیل دے گا۔ یہ ریاستی کمیٹی مرکز کے مشورہ سے ریاست میں کام کا طریق کار متعین کرے گی۔ ناظم عمومی کے لئے مولانا حمید اللہ ندوی کو مقرر کیا گیا۔

صرف صدر کا عہدہ قابل انتخاب ہوگا باقی ذمہ داروں کو صدر نامزد کرے گا۔

اسلامی مرکز کے مقاصد و طریق کار کے سلسلے میں ایک کتابچہ شائع کیا جائیگا جس کی ترتیب کا کام مولانا عبید اللہ صاحب ندوی کے سپرد کیا گیا۔

ناظم عمومی سر پرست کے مشورہ سے مرکزی کمیٹی تشکیل کریں گے۔

اسلامی مرکز کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مرکزی و ریاستی کمیٹیاں فنڈ کی فراہمی کی مختلف شکلیں اختیار کریں گی۔ مرکزی و ریاستی کمیٹیاں اس بات کی کوشش کریں گی کہ ملک کے کسی شہر میں ایک مرکزی عمارت ہو اور اسی طرح علاقائی سطح پر عمارتیں ہوں ۔

مرکزی کمیٹی کی طرف سے ریاستی کمیٹیوں کو کام کے سلسلے میں ہدایات و مشورے دئے جاتے رہیں گے۔ تقریباً ایک سال بعد مرکز اسلامی کا نمائندہ اجتماع کسی مناسب مقام پر منعقد کیا جائے گا۔ تاریخ کا تعین مرکزی کمیٹی کرے گی۔

اسلامی مرکز کے مشن کو عربی زبان میں پیش کرنے کے لئے "رسالة الاسلام‘‘ نامی ایک مجلہ کا اجرا عمل میں لایا جائے گا۔ اس عربی مجلہ کی ادارت اور ترتیب کی ذمہ داری مولانا محمد ہاشم القاسمی (حیدر آباد) کے سپرد کی گئی۔

تعاون کی اپیل اسلامی مرکز کا مقصد جدید تقاضوں کے مطابق اسلام کی اشاعت اور ملت اسلامیہ کی تعمیر ہے۔ اسلامی مرکز کے ساتھ تعاون کرنا اللہ کے راستے میں تعاون کرنا ہے۔ اسلامی مرکز پچھلے دس سال سے خاموش خدمت میں مصروف ہے۔ مگر یہ کام زیادہ تر انفرادی قربانی کے بل پر ہو رہا ہے، ابھی تک اس کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں۔ متعدد اہم شعبے وسائل کی کمی کی وجہ سے شروع نہ کئے جا سکے ۔ الرسالہ اور دوسرے کام جو جاری ہیں وہ تمام تر خسارے پر چلائے جا رہے ہیں ۔ ان حالات میں اسلامی مرکز اپنے ہمدردوں کے تعاون کا شدید طور پر منتظر ہے۔ یاد رکھئے اسلامی مرکز کی اعانت وقت کی سب سے اہم دینی مد میں اعانت ہے۔

اس سلسلہ میں عمومی اعانت کے علاوہ زکوٰۃ وغیرہ کی رقمیں بھی بھیجی جاسکتی ہیں ۔ رقم بھیجتے ہوئے اس کی مد کی ضرور صراحت فرمائیں ۔

وحید الدین خاں صدر اسلامی مرکز دفتر الرساله مانتهلی ۔ قاسم جان اسٹریٹ ۔

Printed page