جنت کے شہری
Al-Risala, June 1982, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کا ماحول وہ ماحول ہو گا جہاں ہر طرف خدا کی حمد ہو رہی ہوگی، خدا کی بڑائی کے سوا کسی اور کی بڑائی کا وہاں چرچا نہ ہوگا، اس لئے وہی لوگ جنت کی دنیا میں رہنے کے قابل ٹھہریں گے جو آج کی دنیا میں خدا کی حمد اور اس کی بڑائی سے سرشار رہے ہوں، اپنی یا کسی دوسرے کی بڑائی کے احساس سے جن کا سینہ خالی رہا ہو۔ کی دنیا میں قول و عمل کا فرق نہ ہوگا۔ وہاں کوئی کسی کو دھوکا نہ دے گا۔ وہاں کوئی کسی کا استحصال کرنا نہ چاہے گا۔ وہاں کوئی کسی کو آزار نہ پہنچائے گا۔ اس لئے جنت کا باشندہ وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے آج کی زندگی میں اپنے عمل سے دکھا دیا ہو کہ وہ شہریت کے ان اعلیٰ معیاروں پر پورا اترتا ہے۔
جنت مکمل طور پر مثبت سرگرمیوں کی دنیا ہوگی، اس لئے وہاں کی آبادیوں میں بسنے کا اجازت نامہ صرف انہیں لوگوں کو ملے گا جنہوں نے آج کی دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ خالص مثبت مزاج رکھنے والے لوگ ہیں اور منفی اور تخریبی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ جنت کی دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں آدمی دوسروں کی شرارتوں سے محفوظ ہوگا، اس لئے جنت کی بستیوں میں رہنے کے قابل وہی شخص ہے جس نے دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو دوسروں کو اپنے حسد اور اپنی شرارت سے محفوظ رکھنے والا ہے۔ جنت کا ماحول گندگیوں اور بے ہودگیوں سے پاک ہوگا اس لئے جنت کی کالونیوں میں بسانے کے لئے انہیں لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا جو ہر قسم کی بے ہودگیوں سے دور رہنے والے ثابت ہوئے ہوں۔