Al-Risala · June 1982

جنتی عمل

Al-Risala, June 1982, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

جنتی عمل وہ ہے جو آدمی کے اندر جنت کے پھول کھلا رہا ہو، جس کو کرنے کے دوران آدمی کو خود بھی کچھ ملے۔ اگر آدمی بظاہر سرگرمیاں دکھا رہا ہو اور اس کا اپنا وجود کچھ پانے سے محروم ہو تو اس کی سرگرمیوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی عمل ہے جس کے دوران آدمی کے ذہن میں شعور کی چنگاری پڑے۔ اس کے دل میں سوز و تڑپ کا کوئی لاوا اس کی روح کے اندر کوئی کیفیاتی ہلچل پیدا ہو۔ اس کے اندرون میں کوئی ایسا حادثہ گزرے جو برتر حقیقتوں کی کوئی کھڑکی اس کے لئے کھول دے۔

آخرت کے پیمانہ میں اہمیت کی چیز یہ نہیں ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ چیز یہ ہے کہ آپ کیا ہو رہے ہیں۔ اگر آپ کی مصروفیات بہت بڑھی ہوئی ہوں۔ کے لئے آپ کے پاس بہت سے کارنامے ہوں مگر آپ کی اندرونی ہستی خالی ہو تو آپ کی مصروفیات محض بے فائدہ سرگرمیاں ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہوائیں ہوں مگر ان سے آکسیجن پانی ہو مگر اس سے سیرابی حاصل نہ ہو۔ غذا ہو مگر اس سے آدمی کو قوت نہ ملے۔ مگر وہ روشنی نہ دے رہا ہو تو ایسا ہونا ہونا نہیں ہے بلکہ نہ ہونے کی بدترین شکل ہے۔ غیر جنتی انسان وہ ہے کہ جب وہ بولے تو اس کے الفاظ اس کے دل کی دھڑکن وہ عمل کرے مگر اس کا عمل اس کے دل کو نہ چھوئے۔ اس کے برعکس جنتی انسان وہ ہے جس کا عمل اس کے لئے روحانی تجربہ بن رہا ہو۔ اس کی ہستی کو کیفیت کی غذائیں مل رہی ہوں۔ اس کی ظاہری کارروائیاں اس کے اندرونی وجود میں ہلچل پیدا کرنے کا سبب بن جائیں۔

Printed page