قیمت نہ دینا
Al-Risala, June 1982, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کی قیمت آدمی کا اپنا وجود ہے۔ جو شخص اپنے وجود کو اللہ کے لئے قربان کرے گا وہی جنت کو پائے گا۔ وجود کی قربانی دیے بغیر جنت کا حصول ممکن نہیں۔ ہر آدمی کی زندگی میں وہ لمحہ آتا ہے جب کہ خدا کا دین اس سے کسی قسم کی قربانی مانگتا نفس کی قربانی ، شخصیت کی قربانی ، مال کی قربانی ، زندگی کی قربانی۔ پر جو شخص مطلوبہ قربانی پیش کردے وہ خدا کے انعام کا مستحق ہو گیا۔ جو شخص ہچکچا کر رک جائے وہ خدا کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گیا ۔
جنت اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ ہماری کوئی بھی چیز اس کا بدل نہیں بن سکتی۔ تعالی نے ایک بہت معمولی چیز کو اس کی قیمت بنا دیا ہے۔ یہ ہماری قربانی ہے۔ جنت کے درمیان بس اتنا ہی فاصلہ ہے کہ وہ خدا کی راہ میں اپنی بے قیمت جان کو پیش وہ اس مقصد کے لئے اپنے حقیر مال کو لٹا دے ۔ وہ خدا کے کام میں اپنی مختصر عمر کو صرف کر دے ۔ سچائی کو مان لینا قربانی ہے ۔ اپنے اثاثہ کو اللہ کے لئے دینا قربانی ہے ۔ اپنے وقت اور قوت کو خدا کی راہ میں لگانا قربانی ہے۔ مزاج بات کو خدا کی خاطر سہہ لینا قربانی ہے۔
کتنی بڑی چیز کی یہ کتنی چھوٹی قیمت ہے۔ مگر آدمی یہ معمولی قیمت دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ آدمی اپنی مختصر زندگی گزار کر اس حال میں دنیا سے چلا جاتا ہے کہ اس نے جنت کی قیمت ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا تھا۔