Al-Risala · June 1982

جنتی کردار

Al-Risala, June 1982, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کی لطیف دنیا میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ مایوس نہ ہوں بلکہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ کسی سے ان کو تکلیف پہنچے تو اس کے حق میں دعائیں دیں۔ کسی سے معاملہ پڑے تو انصاف کے مطابق اس کے حقوق ادا کوئی تنقید کرے تو اس کو برا مانے بغیر ٹھنڈے دل سے سن لیں۔ کسی سے شکایت ہو تب بھی اس کے بارے میں انصاف کا رویہ نہ چھوڑیں۔ جب بھی کسی سے معاملہ پڑے تو دوسرے شخص کو ان سے بہتر سلوک کا تجربہ ہو۔

مومن وہ ہے جو دنیا کی زندگی میں خدا کا ایسا پھول بن جائے جو اپنی کثافت کو بھی مہک کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ ایسی پاک زندگی گزارنے کی توفیق ان لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کو اس طرح یاد کرنے لگیں جس طرح کوئی آدمی سانس لیتا ہے۔ وہ اللہ کو اس طرح پالیں کہ وہ ان کی روح کے اندر تیر جائے، وہ ان کی دل کی دھڑکنوں میں شامل ہو جائے ، وہ اللہ کے خوف و محبت میں نہا اٹھیں۔

جہاں لوگوں میں سرکشی بھڑکتی ہے، مومن تواضع سے جھک جاتا ہے۔ امڈتی ہے وہ محبت کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ جب بدخواہی کا موقع ہو تو وہ خیر خواہی کا ثبوت دیتا ہے۔ جہاں حقوق دبائے جاتے ہیں وہ انصاف کے ساتھ حقوق لوٹاتا جب اعتراف کرنے میں وقار گرتا ہے تو وہ سچائی کا اعتراف کر لیتا ہے۔ جوابی کارروائی کا ذہن ابھرتا ہے تو اس وقت بھی وہ وہی کرتا ہے جو انصاف کے مطابق ہو۔

Printed page