Al-Risala · June 1982

داعی خدا کا نمائندہ

Al-Risala, June 1982, pp. 48–49

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا داعی خدا کے سمندر میں نہاتا ہے ۔ وہ خدا سے الفاظ پا کر بولتا ہے۔ اس کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کے گیت گائے ۔ وہ فطرت کے ساز پر خدا کے ابدی نغمے چھیڑے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ پھر بھی وہ اس سے کوئی اثر نہیں لیتا۔ وہ اپنے بند سینہ کو نہیں کھولتا۔

خدا کی طرف سے ایک پکار نے والے کا وجود میں آنا کسی مشین پر بجنے والے ریکارڈ کا وجود میں آنا نہیں ہے۔ یہ روح انسانی میں ایک ایسے انقلاب کا برپا ہونا ہے جس کی شدت جوالامکھی پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔ داعی کا بولنا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر لانا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اپنے خون کو سیاہی بنانے کے بعد وجود میں آتا ہے۔ نغمے محض نغمے نہیں ہوتے بلکہ روح انسانی میں ایک لطیف ترین خدائی بھونچال کی آواز ہوتے ہیں۔

مگر اس دنیا کا یہ سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے کہ ایسے ربانی کلمات بھی انسان کو نہیں پگھلاتے ۔ داعی اپنے پورے وجود کے ساتھ نذیر عرياں بن جاتا ہے اس کے باوجود آدمی اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ انسان کے سامنے جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں مگر وہ وجد میں اس کو بھڑکتے ہوئے جہنم کا نقشہ دکھایا جاتا ہے پھر بھی اس پر گریہ طاری نہیں اس کے سامنے خدا خود آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اس کے باوجود وہ سجدہ میں نہیں گرتا۔ انسان سے زیادہ نازک مخلوق خدا نے کوئی نہیں بنائی مگر انسان سے زیادہ بے حسی کا ثبوت بھی اس دنیا میں کوئی نہیں دیتا۔

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر قرآن کا مطلوب انسان دین کیا ہے مولانا وحید الدین خان کے قلم سے مذہب اور جدید چیلنج

دین کیا ہے؟

Printed page