Al-Risala · June 1982

Safe harbour awaits you both in the end

Al-Risala, June 1982, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

ان چند لفظوں میں زندگی کی بہت گہری حقیقت بیان کر دی گئی ہے۔ آدمی ایک مقصد کی طرف بڑھتا ہے، مقصد کو حاصل کرتے میں اسے ناکامی ہوتی ہے۔ وہ ہمت چھوڑ بیٹھتا ہے۔ ایک ناکامی کو وہ ساری ناکامی سمجھ لیتا وہ سمجھتا ہے کہ اب میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے سابقہ مقام کی طرف لوٹ آئے تب بھی وہ ناکام نہیں۔ یہ اس کی ایک کامیاب حیثیت ہی تھی جس نے اسے یہ موقع دیا کہ وہ کشتی پائے اور اس پر سوار ہو کر اس کو چلاتا ہوا آگے بڑھے۔ پھر اگر وہ اپنی اس سابقہ کامیاب حیثیت کی طرف لوٹے اور اس کو دوبارہ پالے تو اس میں ناکامی کا کیا سوال۔

دریا کے دونوں طرف ساحل ہوتے ہیں۔ اگر آدمی آگے نہ بڑھ سکے تو پیچھے لوٹ کر بھی وہ ایک ساحل کو پالے گا۔ یہی معاملہ زندگی کے سفر کا بھی ہے۔ یہاں بھی سفر کے دونوں طرف ساحل ہیں، ایک مقام وہ ہے جدھر آپ بڑھنا چاہتے ہیں۔ دوسرا مقام وہ ہے جس کو چھوڑ کر آپ آگے بڑھے تھے۔ اگر آپ اگلے مقام تک نہ پہنچ سکیں تو پیچھے لوٹ آئیے۔ کیونکہ یہاں بھی ایک مقام آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ مگر اکثر لوگ یہ غلطی کرنے ہیں کہ ایک امکان کو کھو کر وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دوسرا امکان بھی ان سے کھویا جا چکا ہے۔

کسی کا قول ہے "جو سورج کل صبح کو نکلا تھا وہی آنے والے دن کو دوبارہ چمکنے والا ہے" یہ ایک حقیقت ہے کہ گزرے ہوئے وقت کا ماتم کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آنے والے وقت کا استعمال کیا جائے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حکمت کا لحاظ کرتے ہوں۔

ایک طالب علم دسویں پاس کر چکا تھا۔ اس کے بعد اس نے گیارھویں درجہ کا امتحان دیا۔ وہ اس امتحان میں فیل ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر اتنی مایوسی چھائی کہ اس نے خود کشی کر لی۔ اس کو یاد نہ رہا کہ اگر وہ علم کی گیارھویں سیڑھی تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے تو اس سے کیا ہوا۔ دسویں سیڑھی پر تو اب بھی اس کے پاؤں جمے ہوئے ہیں۔

پیچھے لوٹ آتا تو وہ "دسویں پاس" کی حیثیت سے بھی دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتا تھا۔ یا دوبارہ محنت کرکے گیارہویں درجہ کے امتحان میں کامیابی حاصل کر سکتا تھا۔ مگر اس کی مایوسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ صرف اگلا کنارہ یاد رکھ سکا۔ اس کے پیچھے بھی ایک کنارہ تھا مگر وہ اس کو بھول گیا۔ اگر وہ کچھ اور نہ کرتا، صرف اپنے پیچھے کی طرف لوٹ آتا تو وہ دیکھتا کہ ایک محفوظ ساحل اس کا انتظار کر رہا ہے۔ مگر اس نے صرف اپنے آگے دیکھا، وہ اپنے پیچھے نہ دیکھ سکا، نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے زندگی کے عین کنارے کھڑے ہو کر اپنے کو زندگی سے محروم کر لیا۔ ناکامی کے واقعات ہر آدمی کی زندگی میں پیش آتے ہیں اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ آدمی جب ناکام ہو تو اس کے دل کو جھٹکا لگے۔ اپنی غلطیوں کا احساس کر کے اس کو سخت شرمندگی لاحق ہو۔ ناکامی کا یہ احساس اس وقت بہت مبارک ہے جب کہ وہ نئی، زیادہ صحیح جدوجہد کے لئے آدمی کو اکسائے۔ لیکن ناکامی کا احساس اگر صرف افسوس کرنے اور اپنے کو گھلانے کے ہم معنی بن جائے تو یہ ایک ناکامی کے بعد اپنے کو دوسری اور زیادہ بری ناکامی کے حوالے کرنا ہے۔ یاد رکھیے جو ناکام نہ ہو وہ ابھی زندگی میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور جو ناکامی سے صرف کڑھن لے کر لوٹا اس نے زندگی کو یا کر دوبارہ زندگی کو کھو دیا۔ ماہر کا یہ قول نہایت درست ہے کہ "_________ اصلاح کی تدبیر کئے بغیر نادم ہونا ایسا ہی ہے جیسے سوراخ بند کئے بغیر جہاز میں سے پانی نکالنا۔

Printed page