Al-Risala · June 1982

وقت کی اہمیت

Al-Risala, June 1982, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص فوج میں معمولی سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوا۔ اس کے بعد ترقی کرتے کرتے بڑا فوجی افسر اس فوجی افسر نے ایک بار اپنی زندگی کا تجربہ بتاتے ہوئے کہا "فوج میں میری غیر معمولی ترقی کا سبب صرف میری یہ خصوصیت تھی کہ مجھ کو اگر دس بجے ڈیوٹی پر جانا ہوتا تو میں نو بجے تیار رہتا تھا۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر یہ بہت اہم بات ہے۔ یہ تمام ترقیوں کا راز ہے۔ معاملات میں وقت کی بے حد اہمیت ہے۔ جو شخص وقت کا جتنا زیادہ پابند ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ ترقی کے منازل طے کرے گا۔ اکثر ناکامیوں اور مصیبتوں سے بچنے کا واحد راز یہ ہے کہ وقت کو نہ کھویا جائے۔ بالکل سچ کہا ہے "وقت سے پہلے اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کرو، تمھاری گاڑی کبھی نہیں چھوٹے گی"۔ آپ کو ایک ٹرین پکڑنی ہے جو دس بج کر ۳۰ منٹ پر چھوٹتی ہے۔ آپ کے گھر سے اسٹیشن تک کا راستہ ۳۰ منٹ کا ہے۔ اب اگر آپ یہ سوچیں کہ وقت سے پہلے جانے کی کیا ضرورت۔ اور گھر سے صرف پانچ منٹ پہلے روانہ ہوں تو یہ عین ممکن ہے کہ راستہ میں کوئی غیر متوقع واقعہ پیش آ جائے جو آپ کے سفر کو ۳۰ منٹ کے بجائے ۴۰ منٹ یا ۵۰ منٹ کا بنا دے اور نتیجہ یہ ہو کہ آپ کی گاڑی چھوٹ جائے۔

اسٹیشن اس حال میں پہنچیں کہ وہاں آپ کو یہ سننے کے لئے ملے کہ آپ کی گاڑی آپ کے آنے کے صرف چند منٹ پہلے روانہ ہوگئی۔ جو شخص وقت سے پہلے اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اس کی ٹرین کبھی نہیں چھوٹتی۔ مگر جو آدمی عین وقت پر اسٹیشن پہنچنا چاہے گا عین ممکن ہے کہ اسٹیشن پہنچ کر اس کو یہ خبر سننی پڑے کہ ٹرین

وقت کی پابندی حقیقتاً تیز روی کا نام ہے نہ کہ سادہ معنوں میں صرف پابندی کا۔ کارکردگی کا ثبوت صرف وہ شخص دے پاتا ہے جو وقت کے بارے میں مبالغہ آمیز حد تک حساس ہو۔ وقت سے آگے چلنے کی کوشش کرے وہی وقت کے ساتھ چل پائے گا۔ جو شخص وقت سے آگے بڑھنے کا مزاج رکھتا ہو وہی وقت کو پکڑنے میں کامیاب ہو گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص وقت سے پہلے تیار ہونے کی کوشش کرے وہی وقت پر تیار ہو کر اپنے کام پر پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی عین وقت پر اپنی تیاری شروع کرے وہ ہمیشہ وقت سے پیچھے رہے گا ۔ ایسا آدمی کبھی ٹھیک وقت پر اپنے کام پر نہیں

آدمی اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے۔ اور نہ کسی آدمی کو موجودہ دنیا میں سارا اختیار حاصل ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کے راستہ میں دوسروں کی طرف سے بار بار مختلف قسم کی رکاوٹیں پیش آتی رہتی بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اندازہ کچھ کرتا ہے اور ہو کچھ جاتا ہے۔ اس بنا پر وقت کے مطابق کام کرنے کی صورت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ ہر کام کے لئے وقت سے کچھ پہلے تیاری شروع کردی جائے۔ آپ کوئی پروگرام بنائیں تو اس اتفاقی رکاوٹ کا لحاظ کر کے اپنا پروگرام بنائیں جو غیر متوقع طور پر پیش آکر آپ کے منصوبہ کو بگاڑ دینے والی ہے۔ اگر آپ اپنے پروگراموں میں اس حکمت کو ملحوظ رکھیں تو یقینی طور پر آپ غیر ضروری خلل اندازیوں سے بچ سکتے ہیں۔ اور پھر آپ کے اوپر سیموئل ٹیلر کے یہ الفاظ صادق نہ آئیں گے کہ ”مشکل ایسا عذر ہے جس کو تاریخ کبھی قبول نہیں کرتی “ آپ کو ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جو ایک ضروری کام نہ کر سکیں گے اور اس کے بعد کہیں گے کہ کیا کریں وقت نہیں ملا۔ یہ وقت نہ ملنے کا واقعہ صرف اس لئے پیش آیا کہ انھوں نے اپنے وقت کو برباد کیا ۔ وقت کی کمی ہمیشہ وقت کی بربادی کی قیمت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر بروئر نے بالکل صحیح کہا ہے کہ جو لوگ وقت کا سب سے زیادہ غلط استعمال کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ وقت کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔

Printed page