Al-Risala · July 1982

علاقائی اجتماعات

Al-Risala, July 1982, pp. 12–3

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی مرکز کے نمائندہ اجتماع بھوپال (۱۷-۱۸ اپریل ۱۹۸۲) میں متفقہ طور پر یہ بات طے کی گئی ہے کہ موجودہ سال کے دوران مختلف مقامات پر مرکز کے علاقائی اور مقامی اجتماعات کئے جائیں، اس کے بعد اگلے سال مرکز کا دوسرا سالانہ اجتماع کسی مناسب مقام پر منعقد کیا جائے ۔ ان علاقائی یا مقامی اجتماعات میں حسب سہولت مولانا وحید الدین خاں صاحب (صدر اسلامی مرکز) اور مولانا حمید اللہ ندوی (سیکرٹری اسلامی مرکز) شریک ہوں گے۔ جہاں جہاں الرسالہ کا حلقہ ہے یا اسلامی مرکز سے اتفاق کرنے والے لوگ ہیں، ان سے گزارش ہے کہ دفتر ماہنامہ الرسالہ کے پتے پر خط و کتابت وہ ہے اس پرانے سکرے کا حصہ ہے کر کے پروگرام طے فرمائیں پر پر خورورپ

تعاون کی اپیل اسلامی مرکز کا مقصد جدید تقاضوں کے مطابق اسلام کی اشاعت اور ملت اسلامیہ کی تعمیر ہے۔ اسلامی مرکز کے ساتھ تعاون کرنا اللہ کے راستے میں تعاون کرنا ہے۔ اسلامی مرکز پچھلے دس سال سے خاموش خدمت میں مصروف ہے۔ مگر یہ کام زیادہ تر انفرادی قربانی کے بل پر ہورہا ہے۔ ابھی تک اس کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں۔ متعدد اہم شعبے وسائل کی کمی کی وجہ سے شروع نہ کئے جاسکے۔ الرسالہ اور دوسرے کام جو جاری ہیں وہ تمام تر خسارے پر چلائے جارہے ہیں۔ ان حالات میں اسلامی مرکز اپنے ہمدردوں کے تعاون کا شدید طور پر منتظر ہے۔ یاد رکھئے اسلامی مرکز کی اعانت وقت کی سب سے اہم دینی مد میں اعانت ہے۔

اس سلسلہ میں عمومی اعانت کے علاوہ زکوٰۃ وغیرہ کی رقمیں بھی بھیجی جاسکتی ہیں ۔ رقم بھیجتے ہوئے اس کی مدد کی ضرور صراحت فرمائیں وحید الدین خاں صدر اسلامی مرکز دفتر الرسالہ متھلی ۔ قاسم جان اسٹریٹ ۔

انسان نے ہمیشہ خدا کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہے اور اپنے آپ کو سمجھنے میں بھی۔ اس نے خدا کو اپنے جیسا سمجھ لیا اور اپنے آپ کو خدا جیسا۔ یہی ہر دور کے انسان کی غلطی رہی ہے۔ ساری انسانی تاریخ اسی غلطی اور اس کے نتائج کی

خدا کو اپنے جیسا سمجھنا یہ ہے کہ خدا کو انسانی سطح پر اتار لایا جائے۔ الحاد اور شرک کی تمام قسمیں اسی غلطی کی پیداوار ہیں۔ الحاد بھی خدا کو انسان پر قیاس کرنے کا دوسرا نام ہے اور شرک بھی۔

انسان ہمیشہ باپ اور ماں کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے، وہ کسی جننے والے کے ذریعہ جنا جاتا ہے۔ پر گمان کر لیا گیا کہ خدا اگر ہے تو اس کو جننے والا بھی کوئی ہونا چاہئے۔ کسی کو خدائے پہلے ہونا چاہئے جو خدا کو وجود اب چونکہ انسان کو خدا سے لم یزل کا پیدا کرنے والا کوئی نظر نہ آیا اس لئے اس نے خدا کے وجود کا انکار انسان اپنی تخلیق کی صورت میں اپنے خالق کو دیکھ رہا تھا۔ مگر وہ اپنے ایک غلط مفروضہ کی وجہ سے اس کو ماننے پر تیار نہ ہوا۔

جن لوگوں نے خدا کو مانا انھوں نے یہی غلطی دوسرے انداز سے کی۔ انھوں نے دیکھا کہ انسان جب کوئی کام انجام دیتا ہے تو بہت سے لوگوں کی مدد سے انجام دیتا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خدا کے بھی شریک اور مددگار فرض کر لئے۔ انسان کے یہاں بڑے لوگوں کی سفارشیں چلتی ہیں۔ چنانچہ مان لیا گیا کہ خدا کے بھی کچھ مخصوص اور قریبی لوگ ہیں جو خدا کے دربار میں اثر رکھتے ہیں اور خدا ان کی سفارشیں قبول کرتا ہے۔ انسان جذبات سے مغلوب وہ اکثر حق کے تقاضوں کو چھوڑ کر جذباتی میلان کے تحت فیصلے کرتا ہے۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ عقیدہ بنا لیا گیا کہ خدا محض گروہی تعلق کی بنیاد پر کچھ لوگوں سے ایسا معاملہ کرتا ہے جو معاملہ وہ دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہیں کرتا۔ اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کی نفی ہے۔ مگر انسان اپنی نادانی سے اکثر اپنے ذہن میں ایسے متضاد خیالات کو جمع کر لیتا ہے جن کا بیک وقت درست ہونا ممکن نہیں۔ اپنے آپ کو خدا جیسا سمجھنا یہ ہے کہ آدمی یہ گمان کر لے کہ وہ اپنی تقدیر کا مالک آپ ہے۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ وہ اپنی زندگی کا اصول آپ وضع کرے اور اپنے حلال و حرام کو خود اپنی عقل سے متعین کرے۔ اس قسم کی ہر کوشش گویا اپنے آپ کو خدا کے مقام پر بٹھانا ہے، جو چیز صرف خدا کا حق ہے اس کا حق دار اپنے آپ کو سمجھنا ہے۔ مگر ایسا ہر گمان اس کائنات میں سراسر باطل ہے۔ کیونکہ انسان صرف ایک عاجز مخلوق ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے خالق کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔

Printed page