قدرت کے آغوش میں
Al-Risala, July 1982, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک پہاڑی مقام ہے۔ میں سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر بیٹھا ہوں۔ کی قدرتی مخمل ہمارا فرش ہے۔ ہمارے چاروں طرف آفاقی حسن کے مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔ سے ڈھکی ہوئی پہاڑیاں، قدرتی چشموں کی موسیقی، فرحت بخش ہوا کے جھونکے، سورج کی سہانی کرنیں، نیلا آسمان اور اس میں جگہ جگہ سفید بادل کی گل کاریاں، چڑیوں کے چہچہانے کی لطیف آوازیں، تمدن کے ہنگاموں اور آلائشوں سے دور قدرت کی خاموش فضا، یہ سب چیزیں عجیب ناقابل بیان منظر پیدا کر رہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کائناتی کا حسین چہرہ اپنے حسین تر خالق کا آئینہ بن گیا ہو۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا خدایا، تو اس سے زیادہ ہے کہ میں اپنے لفظوں میں تجھ کو بیان کر سکوں۔ میں نے تیری حمد میں جو کچھ کہا وہ جھوٹ تھا۔ کیونکہ میں نے تیری بے پایاں ہستی کو بیان نہیں کیا بلکہ اس کو گھٹا دیا۔ میں نے تیرا چرچا کیا مگر میں نے تیرا چرچا نہیں کیا، کیونکہ تو اس سے بلند ہے کہ تیرا چرچا کرنے کے لئے کوئی شخص الفاظ پا سکے۔ میں نے تیری عبادت کی، مگر میں نے تیری عبادت نہیں کی، کیونکہ تو اس سے برتر ہے کہ کوئی انسان تیری عبادت کا حق ادا کر سکے۔ پہاڑ کا ہمالیائی ماحول خدا کے جلال و جمال کو اس طرح نمایاں کر رہا تھا کہ اس کے مقابلہ میں اپنی ہر چیز حقیر اور بے قیمت نظر آئی۔ یہاں بیٹھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آدمی خدا کی آفاقی دنیا میں پہنچ گیا ہے۔ تمام منفی جذبات اور سطحی داعیات خدا کی وسیع دنیا میں تحلیل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ خود پرستی کائنات کی عظمتوں کے سامنے اپنا وجود کھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اللہ کی عقیدت کے سوا دوسری تمام عقیدتیں اور پرستاریاں ایسی ہو جاتی ہیں جیسے مالک کائنات کی بارگاہ میں ان کو جگہ نہ مل رہی ہو۔ دنیا پرستی یہاں کی جنتی فضاؤں میں ایک ایسی حقیر چیز بن جاتی ہے جس پر آدمی کو خود شرم آنے لگے۔ میں کائنات حسن کے اس ماحول میں گم تھا کہ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ خدا کی یہ دنیا ہی خدا کے ذکر کی سب سے موزوں جگہ ہے۔ یہاں کی ربانی فضا ہی اس کام کے لئے سب سے زیادہ مناسب ہے کہ یہاں وہ ربانی انسان پیدا کئے جائیں جو سارے عالم کو کوفا ربانیین (ربانی بنو) کی دعوت دے سکیں۔ یہاں کے جنتی پڑوس ہی میں وہ انسان تیار کئے جا سکتے ہیں جو لوگوں کو یہ پیغام دیں کہ جنت کی طرف دوڑو
اور جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جی چاہتا ہے کہ یہاں ایک تربیتی ادارہ قائم ہو جس میں لوگ دس دس، میں بیس کی تعداد میں آکر شریک ہوں۔ یہاں کی آفاقی فضاؤں میں ہی وہ تربیت گاہ بن سکتی ہے جس میں وہ انسان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو خدا میں جیتے ہوں۔ جو انسانی پستیوں کے بجائے خدائی بلندیوں میں اپنی روح کی غذا پارہے ہوں۔ جو فانی دنیا کے بجائے ابدی دنیا میں سانس لیتے ہوں۔ کائنات میں غور و فکر آدمی کو خدا سے جوڑتا ہے، جب کہ انسانی بحثوں میں خوض سے صرف ذہنی مو شگافیاں وجود میں آتی ہیں۔ ایک کے اندر معرفت خداوندی کی غذا ہے اور دوسرے کے اندر اختلاف و انتشار کا سامان۔ اس قسم کا پہاڑی مقام جو قدرتی مناظر سے گھرا ہوا ہو وہ یقیناً سب سے زیادہ موزوں جگہ ہے جہاں خدا کے بندوں کو خدا پرستی کا درس دیا جائے۔
یہاں ہر طرف قدرتی چشمے ہیں جن سے سال بھر شفاف پانی بہتا رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب کوئی کہنے والا کہے کہ اللہ کا فیضان ہدایت ہر وقت تمہارے لئے برس رہا ہے اس میں سے اپنا حصہ لو تو پانی کے بہتے ہوئے چشمے اپنی دھیمی موسیقی کے ساتھ اس کی تائید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آپ کہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اس کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے جھک جاؤ تو پہاڑوں کی بلندیاں اپنی خاموش زبان میں بول پڑتی ہیں کہ کہنے والے نے سچ کہا۔ جب آپ لوگوں سے کہیں کہ ایمان کو اس طرح اپناؤ کہ وہ تمھاری پوری ہستی کو تر و تازہ کردے تو چاروں طرف اگے ہوئے سرسبز و شاداب درخت اس قول کی مجسم تفسیر بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب آپ کہیں کہ اختلاف اور شکایت سے اوپر اٹھ کر زندگی گزارو تو آسمان کی بلندیاں اپنے آفاقی پھیلاؤ کے ساتھ اس کی خاموش تصدیق بن جاتی ہیں۔ جب آپ کہیں کہ ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسروں سے ٹکرائے بغیر اپنی سرگرمیوں کو جاری کرے تو یہاں کی کھلی ہوئی کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار اٹھتی ہے کہ معجی ترقی کا راز بلا شبہ اس دنیا میں یہی ہے، اس کے سوا اور کسی چیز میں نہیں۔
خدا سے قریب ہونے کی سب سے بہتر جگہ خدا کی کھلی ہوئی کائنات ہے مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا کی قربت کو کوئی شخص تنگ و تاریک حجروں میں تلاش کر رہا ہے اور کوئی سیاست و تمدن کے ہنگاموں میں کوئی اپنے مادی مسائل میں الجھا ہوا ہے اور کوئی اپنے قومی مسائل میں۔ انسانی روح کی غذا اور اصل واقعات خدا وندی میں رکھی گئی ہے مگر لوگ واقعات انسانی کو اپنی روح کی غذا بنائے ہوئے ہیں۔ حالت میں خدا کی زمین اگر ربانی انسانوں سے خالی ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں