یہ بگاڑ ہے یا اصلاح
Al-Risala, July 1982, pp. 23–28
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے : کہو کہ خدا اس پر قادر ہے کہ وہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے، تمھارے اوپر سے یا تمھارے قدموں کے نیچے سے ، یا تم کو گروہ گروہ کر کے بھڑا دے اور تمھارے ایک کو تمھارے دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھائے ۔ دیکھو ہم کیونکر اپنی نشانیاں طرح طرح سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں (الانعام ۶۵) اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی قوم پر نافرمانی کے سبب سے خدا کا جو عذاب آتا ہے وہ تین صورتوں میں آتا ایک وہ جو اوپر سے آئے۔ جیسے پتھر برسنا یا طوفانی ہوا اور شدید بارش ۔ دوسرے وہ جو پاؤں کے نیچے سے آئے ، جیسے زلزلہ یا سیلاب وغیرہ ۔ تیسرا وہ جس کو داخلی عذاب کہا جاسکتا ہے، یعنی باہمی ٹکراؤ اور آپس کی پہلا اور دوسرا عذاب ہمیشہ ان قوموں پر آتا ہے جن پر نبی کے ذریعہ اتمام حجت کیا گیا ہو، اس کے باوجود وہ منکر ہی رہے۔ ختم نبوت کے بعد اب چونکہ کوئی نبی آنے والا نہیں ۔ اس لئے اب امت مسلمہ کے لئے ان دونوں عذابوں کا خطرہ نہیں ۔ البتہ تیسری قسم کے عذاب سے وہ مامون نہیں ہے۔ جب بھی اس امت میں غفلت اور سرکشی بڑھے گی وہ اس تیسرے عذاب کی لپیٹ میں آجائے گی ۔
ایک روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مختلف کتب حدیث میں آئی ہے ۔ حافظ ابن کثیر نے مذکورہ آیت کی تفسیر کے تحت احمد ، نسائی ، ابن حبان اور ترمذی کے حوالے سے جو روایت درج کی ہے اس کو ہم یہاں نقل کرتے ہیں :
عن خباب بن الارت انه قال وافيت رسول حضرت خباب بن ارت کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ اللہ صلى الله عليه وسلم في ليلة صلاهاكلها حتى صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب کہ آپ نے ساری رات نماز كان مع الفجرفسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم پڑھی ۔ یہاں تک کہ جب فجر کا وقت آگیا تو آپ نے سلام پھیر من صلاته فقلت يا رسول الله لقد صليت الليلة کر اپنی نماز ختم کی۔ میں نے کہا ، اے خدا کے رسول ، آج کی صلاة ما رأيتك صليت مثلها فقال رسول الله صلی رات آپ نے ایسی نماز پڑھی جیسی نماز پڑھتے ہوئے میں نے الله عليه وسلم اجل انها صلاة رغب ورهب سألت اس سے پہلے آپ کو نہ دیکھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ربی عز وجل فيها ثلاث خصال فاعطانی اثنتین ومنعنی نے فرمایا ہاں، وہ ڈراور اشتیاق کی نماز تھی۔ میں نے اس سألت ربی عز وجل ان لا يهلكنا بما اهلکت میں اپنے رب سے تین باتیں مانگیں۔ اس نے دو باتیں مجھ به الامم قبلنا فاعطانيها - وسألت ربی عز وجل کو دے دیں اور ایک سے منع فرمایا۔ میں نے اپنے رب سے یہ ان لا يظهر عليناعدوا من غيرنا فاعطانيها - وسألت مانگا کہ وہ ہم کو اس طرح ہلاک نہ کرے جس طرح پچھلی
ربی عزوجل ان لا يلبسنا شيعا فمنحنيها امتیں ہلاک کی گئیں۔ اس نے مجھ کو دے دیا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہمارے اوپر ہمارے باہر کے دشمن کو (کامل طور پر) مسلط نہ کرے۔ یہ بھی اس نے مجھ کو دے دیا۔
پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہم کو گروہوں میں نہ بانٹے۔
اس کی قبولیت سے اس نے انکار کر دیا۔
ایک اور روایت میں مزید یہ الفاظ ہیں کہ میں اپنی امت پر گمراہ قائدین کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا۔ جب میری امت میں ایک بار تلوار چل جائے گی تو وہ قیامت تک اس سے اٹھائی نہ جائے گی (انی لا اخاف علی امتی الا الائمة المضلین فاذا وضع السيف في امتي لم يرفع عنهم الى يوم القيامة)
امت مسلمہ کے بگاڑ پر ہونے کی کم از کم ایک یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ گروہوں میں بٹ جائے اور اس کے ایک گروہ کی طاقت دوسرے گروہ کے خلاف استعمال ہونے لگے۔
موجودہ زمانہ میں بگاڑ کی یہ علامت مسلمانوں میں پوری طرح نمایاں ہو چکی ہے۔ آج ان میں ایسے مذہبی مسائل اور سیاسی نظریات فروغ پا رہے ہیں جو انھیں باہم حریف بنا کر ایک کو دوسرے سے ٹکرا دیں۔ ایسے لیڈر اٹھ رہے ہیں جو خود اپنے ملک کو فتح کر کے اس کے اوپر اپنی کامرانی کا جھنڈا لہرا ئیں ۔ ان میں ایسے بہادر ابھر رہے ہیں جو خود اپنی قوم کے اداروں پر دھاوا بول کر ان پر قبضہ کر لیں اور ان کے اموال کو اپنے لئے غنیمت بنالیں ۔ ان میں ایسے مفکرین اور مدیرین پیدا ہورہے ہیں جو اپنی قوم کے کچھ لوگوں کو ” برائی کی علامت“ قرار دے کر ان کے خلاف محاذ آرائی کریں اور ان کے قتل و غارت کا منصوبہ بنائیں۔ ان میں ایسی جماعتیں وجود میں آرہی ہیں جو خود اپنی قوم کی دوسری جماعتوں کی بیخ کنی کو نشانہ بنا کر کام کریں غرض یہ پوری قوم بے شمار گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ ہر شخص جس کے پاس کچھ طاقت ہے وہ اپنے بھائی کو اس کا مزہ چکھانے کے لئے بے قرار نظر آتا ہے۔
آج پوری امت، فرد سے لے کر گروہ تک، باہمی تصادم میں مشغول ہے۔ ملت کے افراد کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوم کے آدمی کو برداشت کر سکتے ہیں مگر اپنی قوم کے آدمی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسری اقوام کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے ہر ایک بزدل ہے، مگر اپنی قوم سے لڑنے کے لئے ہر ایک بہادر بنا ہوا ہے ۔ امت مسلمہ کی طاقت جو اغیار کے استیصال کے لئے تھی وہ خود ساختہ الفاظ بول کر خود اپنی قوم کے لوگوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ یہ بلاشبہ خدا کے غضب کی علامت ہے، خواہ ہم بطور خود اس کو خدا کی رحمت قرار دے کر خوش ہو رہے ہوں۔
تذکیر القرآن ۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الر تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيمِ ﴿١﴾ أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ إِنَّ هٰذَ الَسٰحِرٌ مُّبِينٌ ﴿٢﴾ سورہ یونس مکیہ شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الف لام را، یہ پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔ کیا لوگوں کو اس پر حیرت ہے کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو ڈراؤ اور جو ایمان لائیں ان کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس سچا مرتبہ ہے منکروں نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے ۲-۱ پیغمبر کا کلام انتہائی محکم دلائل پر مبنی ہوتا ہے، وہ اپنے غیر معمولی انداز کی بنا پر خود اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ اس کے باوجود ہر زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کا انکار کیا۔ اس کی وجہ انسان کی ظاہر پرستی ہے۔ پیغمبر اپنے معاصرین کی نظر میں عام انسانوں کی طرح بس ایک انسان ہوتا اس کے گرد ابھی عظمت کی وہ تاریخ جمع نہیں ہوتی، جو بعد کے زمانہ میں اس کے نام کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے۔ اس لئے پیغمبر کے زمانہ کے لوگ پیغمبر کو محض ایک انسان سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پیغمبر کو نہ خدا کے بھیجے ہوئے کی حیثیت میں دیکھ پاتے اور نہ مستقبل میں بننے والی تاریخ کے اعتبار سے اس کا اندازہ کر پاتے، جب کہ ہر آدمی اس کی پیغمبرانہ عظمت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ پیغمبر کا کلام سراپا اعجاز ہوتا ہے جو سننے والوں کو بے دلیل کر دیتا ہے۔ مگر منکرین اس کی اہمیت کو گھٹانے کے لئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ادبی ساحری ہے۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پا کر اس کے اوپر عیب لگانے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ پیغمبر کے کلام کی صداقت کو مشتبہ کرتے ہیں۔ پیغمبر کا کلام جن لوگوں کو مفتوح کر رہا تھا ان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ محض سادگی میں پڑے ہوئے ہیں، ورنہ یہ سارا معاملہ الفاظ کے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ زبان کی جادوگری ہے نہ کہ کوئی واقعی اہمیت کی چیز۔ پیغمبر کا اصل مشن انذار و تبشیر ہے۔ یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرانا اور جو لوگ خدا سے ڈر کر دنیا میں رہنے کے لئے تیار ہوں ان کو جنت کی خوش خبری دینا۔ پیغمبر اس لئے آتا ہے کہ لوگوں کو اس حقیقت واقعہ سے آگاہ کر دے کہ آدمی اس دنیا میں آزاد اور خود مختار نہیں ہے اور نہ زندگی کا قصہ آدمی کی موت
کے ساتھ ختم ہو جانے والا ہے۔ بلکہ موت کے بعد ابدی زندگی ہے اور آدمی کو سب سے زیادہ اسی کی فکر کرنا چاہئے۔ جو شخص غفلت برتے گا یا سرکشی کرے گا وہ موت کے بعد کی دنیا میں اس حال میں پہنچے گا کہ وہاں اس کے لئے دُکھ کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔
ظاہر پرست انسان ہمیشہ یہ سمجھتا ر ہاہے کہ عزت اور ترقی اس شخص کے لئے ہے جس کے پاس دنیا کا اقتدار ہے ، جو دنیا کی دولت کا مالک ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہ عزت و ترقی تو وہ ہے جو موجودہ عارضی زندگی میں انسانوں کے درمیان ملتی ہے۔ مگر عزت اور ترقی دراصل وہ ہے جو مستقل زندگی میں خدا کے یہاں حاصل ہو۔ وہی عزت و ترقی حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ دائمی بھی۔ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۖ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٣﴾ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا ۖ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ ۚ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ ﴿٤﴾ بے شک تمھارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں (ادوار) میں پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔ وہی معاملات کا انتظام کرتا ہے ۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں۔ اللہ تمھارا رب ہے پس تم اسی کی عبادت کرو، کیا تم سوچتے نہیں۔ اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک وہ پیدائش کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے ان کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جنھوں نے انکار کیا ان کے انکار کے بدلے ان کے لئے کھولتا پانی اور دردناک عذاب ہے ۳-۴ کائنات میں مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ علمی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان چیزوں کا ظہور بیک وقت نہیں ہوا بلکہ تدریج کے ساتھ ایک کے بعد ایک ہوا ہے۔ قرآن اس تدریجی تخلیق کو چھ ادوار (Periods) میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ دوری تخلیق ثابت کرتی ہے کہ کائنات کی پیدائش شعوری منصوبہ کے تحت ہوئی پھر کائنات کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کا نظام حد درجہ محکم قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح عمل کرتی ہے جس طرح مجموعی تقاضے کے تحت اسے عمل کرنا چاہئے۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا ایک زندہ مدبر ہے جو ہر لمحہ اس کا انتظام کر رہا ہے۔
تذکیر القرآن ۲ کائنات کا یہ حیران کن نظام خود ہی پکار رہا ہے کہ اس کا مالک اتنا کامل اور اتنا عظیم ہے جس کے یہاں کسی سفارشی کی سفارش چلنے کا کوئی سوال نہیں۔ کائنات اپنی خصوصیات کے آئینہ میں اپنے خالق کی خصوصیات کو بتا رہی ہے۔
ساری کائنات میں "قسط" کا نظام قائم ہے۔ یہاں ہر ایک کے ساتھ یہ ہو رہا ہے کہ جو کچھ وہ کرتا ہے اسی کے مطابق نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے۔ ہر ایک کو وہی ملتا ہے جو اس نے کیا تھا اور ہر ایک سے وہ چھن جاتا ہے جس کے لئے اس نے نہیں کیا تھا۔ زمین کا جو حصہ رات کے اسباب جمع کرے وہاں تاریکی پھیل کر رہتی ہے اور زمین کا جو حصہ روشنی کے اسباب پیدا کرے اس کے اوپر روشن سورج چمک کر رہتا ہے۔ یہ مادی نتائج کا حال ہے۔ مگر اخلاقی نتائج کے معاملہ میں دنیا کی تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ انسان نیکی کرتا ہے اور اس کو نیکی کا پھل نہیں ملتا۔ انسان سرکشی کرتا ہے مگر اس کی سرکشی اپنا نتیجہ دکھائے بغیر جاری رہتی ہے۔ خالق کی جو مرضی اس کی دوسری مخلوقات میں چل رہی ہے اس کی وہی مرضی انسان کے معاملات میں کیوں ظاہر نہیں ہوتی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں خدائی انصاف کے ظہور کو خدا نے بعد کو آنے والی دنیا کے لئے مؤخر کر دیا ہے۔ پہلی زندگی انسان کو عمل کے لئے دی گئی ہے، دوسری زندگی اس کو اپنے عمل کا نتیجہ پانے کے لئے دی جائے گی ۔ اور دوسری زندگی کا ظہور یقیناً اتنا ہی ممکن ہے جتنا پہلی زندگی کا ظہور۔ هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَا ءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَّتَّقُونَ © اللہ ہی ہے جس نے سورج کو چمکتا بنایا اور چاند کو روشنی دی اور اس کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے ان کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور اللہ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔
تذکیر القرآن ۱۲ بلکہ آگ گا جہنم بن جائے، وہ زندگی کے بجائے موت کا پیغام ثابت ہو۔ چاند ایک حد درجہ ریاضیاتی حساب کے مطابق اپنے مدار پر ٹھیک ٹھیک گردش کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ چاند بذات خود بے نور ہونے کے باوجود ہمارے لئے نہ صرف ٹھنڈی روشنی دے بلکہ مہینہ اور سال کی قدرتی تقویم بھی فراہم کرے۔ فلکیاتی نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات میں گہری مقصدیت ہے، اور مقصدیت والی کائنات کا آخری انجام بے مقصد نہیں ہو سکتا۔
پھر ہماری دنیا میں رات کے بعد دن کا آنا مادی تمثیل کی زبان میں اس اخلاقی حقیقت کو بتا رہا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ قانون نافذ ہے کہ تاریکی کے بعد روشنی پھیلے، اندھیرے کے بعد اجالے کا ظہور ہو۔ حقوق کی پامالی کے بعد حقوق کی ادائیگی کا نظام آنے والا ہے۔ انسان کی سرکشی کی جگہ خدائی انصاف کو غلبہ ملنے والا یہاں اس وقت کا آنا مقدر ہے جب کہ دھاندلی ختم ہو اور حق کے اعتراف کا ماحول چاروں طرف قائم
آخرت کی حقیقتوں کو خدا نے نشانیوں کے انداز میں ظاہر کیا ہے۔ بالفاظ دیگر، خدا موجودہ دنیا میں دلیل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے نہ کہ محسوس مشاہدہ کے روپ میں۔ پھر خدا جس روپ میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اسی روپ میں ہم اس کو پا سکتے ہیں نہ کہ کسی اور روپ میں۔
خدا نے اس دنیا میں ہدایت کے راستے کھول رکھے ہیں مگر یہ ہدایت انھیں کا مقدر ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق اس کی پیروی کرنے کے لئے تیار ہوں۔ یہاں وہی لوگ صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق پائیں گے جو دلیل کی زبان میں بات کو سمجھنے اور ماننے کے لئے تیار ہوں۔ جو لوگ سچی دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ گویا خدا کے آگے نہیں جھکے۔ انھوں نے خدا کو نہیں مانا۔ ایسے لوگوں کو اپنے لئے جہنم کے سوا کسی اور چیز کا انتظار نہ کرنا چاہئے۔
زمین و آسمان میں اگرچہ بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ انھیں لوگوں کے لئے سبق بنتی ہیں جو ڈر رکھنے والے ہیں۔ ڈر یا اندیشہ وہ چیز ہے جو آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ جب تک آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو وہ اس معاملہ پر پورا دھیان نہیں دے گا اور نہ اس کے پہلوؤں کو سمجھے گا۔ پوری کائنات ایک زبردست تخلیقی توازن میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا اشارہ ہے کہ کائنات کا مالک ایسا مالک ہے جو انسان کو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح پہلی زندگی جس کا ہم تجربہ کر رہے ہیں وہ اس کا یقینی ثبوت ہے کہ دوسری زندگی بھی ممکن ہے۔ موجودہ دنیا میں مادی نتائج کا نکلنا مگر اخلاقی نتائج کا نہ نکلنا تقاضا کرتا ہے کہ ایک اور دنیا بنے جہاں اخلاقی نتائج اپنی پوری صورت میں ظاہر ہوں۔ یہ سب انتہائی محکم باتیں ہیں مگر ان کا محکم ہونا وہی شخص جانے کا جو اندیشہ کی نفسیات کے تحت زندگی کے معاملہ کو دیکھتا ہو۔