پاره ۱۱
Al-Risala, July 1982, pp. 29–32
By Maulana Wahiduddin Khan
تذکیر القرآن ۲ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَرَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَاطْمَاَنُّوْا بِهَا وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ؗ اُولٰٓئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا یَكْسِبُونَ ؗ اِنَّ الَّذِیْنَ اَمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ ؗ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ؗ دَعْوَاهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمُ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوَاهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؗۙ بے شک جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہوں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضی اور مطمئن ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے بے پروا ہیں، ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا یہ سبب اس کے جو وہ کرتے تھے۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے، اللہ ان کے ایمان کی بدولت ان کو پہنچا دے گا ۔ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں۔ اس میں ان کا قول ہو گا کہ اے اللہ تو پاک ہے۔ اور ملاقات ان کی سلام ہوگی۔ اور ان کی خری بات یہ ہو گی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا ۔ جہنم کس کے لئے ہےــــــ ان لوگوں کے لئے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہو گا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہو گئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میں انھیں جو کچھ امتحان کے طور پر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہو جائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میں اتنا دل لگا لیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہو جائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے ، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہیں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔ "اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا" اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لئے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہو جائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آ جاتا ہے، وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کا آغاز کر سکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالا آخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کر کے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پیدا کر کے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ
تذکیر القرآن ۲ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پر ہیز کرے۔
اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لئے مستقل عملی رہنمای بن جائے۔
آخرت کی جنت ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ خدا کے براہ راست جلووں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خدا کے بالواسطہ جلووں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لئے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لئے وہاں کی آبادی میں وہی لوگ جگہ پائیں گے جنہوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لئے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔
وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ فَنَذَرُ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ * اگر اللہ لوگوں کے لئے عذاب اسی طرح جلد پہنچا دے جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں جلدی کرتا ہے تو ان کی مدت ختم کر دی گئی ہوتی۔ لیکن ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو وہ ایسا ہو جاتا ہے گویا اس نے کبھی اپنے کسی برے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لئے ان کے اعمال خوش نما بنا دئے گئے ہیں خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی شخص قابل انعام عمل کرے تو اس کا عمل فوراً اس کے اعمال نامہ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص قابل سزا فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو خدا اس کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ کسی نہ کسی موڑ پر متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کرلے۔ خدا کا یہ قانون انسان کے لئے بہت بڑی رحمت ہے، ورنہ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ ہر وقت برائی کرنے پر آمادہ رہتا ہے، اور اگر لوگوں کو ان کی برائیوں پر فوراً پکڑا جائے
لگے تو ان کی مہلت بہت جلد ختم ہو جائے اور زمین کی پشت چلنے والے انسانوں سے خالی ہو جائے ۔ دنیا کی زندگی میں سرکش وہ لوگ بنتے ہیں جو دنیا میں یہ سمجھ کر رہیں کہ مرنے کے بعد انہیں خدا کا سامنا نہیں جو پکڑ کے اندیشے سے خالی ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں کہ جو دھاندلی چاہیں کریں اور جو فساد چاہیں پھیلائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے ورمیان سچائی اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک ہی حقیقی محرک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی یہ سمجھے کہ سب طاقت وروں کے اوپر ایک طاقت در ہے۔ اس کے آگے بے بس ہے۔ وہ ایک دن تمام انسانوں کو پکڑے گا اور ہر ایک مجبور ہوگا کہ اپنے بارے میں اس کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ آدمی بار بار کسی نہ کسی تکلیف یا حادثہ کی زد میں آ جاتا ہے، آدمی محسوس کرنے لگتا ہے کہ خارجی طاقتوں کے مقابلہ میں وہ بالکل بے بس ہے۔ اس وقت آدمی بے اختیار ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اعتراف کر لیتا ہے۔ مگر یہ حالت صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ مصیبتوں کی گرفت میں ہو، مصیبت سے نجات پاتے ہی وہ دوبارہ ویسا ہی غافل اور سرکش بن جاتا ہے جیسا وہ پہلے تھا۔ ایسے لوگوں کے اظہار بندگی کو خدا تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ اظہار بندگی وہ مطلوب ہے جو آزادانہ حالات میں کی جائے، مجبورانہ حالات میں ظاہر کی ہوئی بندگی کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ۔
آدمی ایک توجیہہ پسند مخلوق ہے ۔ وہ ہر عمل کا ایک جواز تلاش کرتا ہے۔ اگر آدمی سرکشی کو اپنے لئے پسند کرے تو اس کا ذہن بھی اسی طرف مڑ جائے گا۔ وہ عملاً سرکشی کرے گا اور اس کا ذہن اس کی سرکشی کو درست ثابت کرنے کے لئے اس کو خوبصورت الفاظ فراہم کرتا رہے گا۔ اسی کا نام تزئین اعمال ہے۔ آدمی اپنی غلطیوں کو خوش نما الفاظ میں بیان کر کے اپنے کو مطمئن کر لیتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آگ کا انگارہ اپنے ہاتھ میں لے لے اور سمجھے کہ وہ اس کو نہیں جلائے گی کیونکہ اس کا نام اس نے سرخ پھول رکھ دیا ہے ۔ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا ۚ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا ۚ كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ ﴿١٣﴾ ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾ اور ہم نے تم سے پہلے قوموں کو ہلاک کیا جب کہ انہوں نے ظلم کیا۔ اور ان کے پیغمبران کے پاس کھلی دلیلوں کے ساتھ آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔ ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو۔ پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو ۱۳۔
تذکیر القرآن ۲ پیغمبر اپنی قوموں کے پاس بینات کے ساتھ آئے مگر انہوں نے نہ مانا۔ بینہ جمع بینات کے معنی دلیل کے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا داعی ہمیشہ بینات کی بنیاد پر اٹھتا ہے۔ لوگوں کو اسے دلائل کی سطح پر پہچاننا پڑتا ہے۔ جو لوگ ظاہری عظمتوں اور عوامی استقبالیوں میں خدا کے داعی کو پانا چاہیں وہ کبھی اس کو نہیں پائیں گے، کیونکہ خدا کا داعی وہاں موجود ہی نہیں ہوتا۔ نبی معجزہ دکھاتا ہے۔ مگر معجزہ آخری مرحلہ میں اتمام حجت کے لئے آتا ہے، دعوتی مرحلہ میں سارا کام دلائل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
کسی شخص یا گروہ کا ظالم ہونا یہ ہے کہ وہ دلیل کے روپ میں ظاہر ہونے والی دعوت خداوندی کو نہ پہچانیں اور اپنے خود ساختہ معیار پر نہ پانے کی وجہ سے اس کا انکار کر دیں۔ ایسے لوگ اپنی اس روش کی وجہ سے خدائی قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔
ماضی کی جن قوموں پر انکار نبوت کے جرم میں خدا کا عذاب نازل ہوا وہ سرے سے نبوت کی منکر نہ تھیں۔ یہ تمام قومیں کسی نہ کسی سابق پیغمبر کو مانتی تھیں ۔ البتہ انہوں نے وقت کے پیغمبر کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ پچھلے پیغمبر کا معاملہ یہ تھا کہ اس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات قائم ہوگئی تھیں اور قومی عصبیتیں اس کے ساتھ وابستہ ہو چکی تھیں۔ جب کہ معاصر پیغمبر بھی اس قسم کی اضافی خصوصیات سے خالی انہوں نے اس گزرے ہوئے پیغمبر کا اقرار کیا جو نسلوں کی روایات کے نتیجہ میں ان کا قومی پیغمبر بن چکا تھا، جس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا تاریخی عظمت کے مینار سے اپنے کو منسوب کرنے کے ہم معنی تھا۔ انہوں نے اپنے قومی پیغمبر کو پیغمبر مانا مگر اس پیغمبر کا انکار کر دیا جس کو صرف دلیل اور برہان کے ذریعہ جانا
یہ جرم خدا کی نظر میں اتنا شدید تھا کہ وہ لوگ نبی کے منکر قرار دے کر ہلاک کر دیے گئے۔ "پھر ہم نے اس کے بعد تم کو ملک میں خلیفہ بنایا"۔ خلیفہ کے اصل معنی ہیں بعد کو آنے والا۔ جانشینِ خاص طور پر، اقتدار میں جانشین کے لئے بولا جاتا ہے۔ یہ جانشینی انسان کی ہوتی ہے نہ کہ خدا کوئی انسان اقتدار میں خدا کا جانشین نہیں ہو سکتا۔ انسان ہمیشہ کسی مخلوق کا جانشین ہوتا ہے۔ قرآن میں جہاں بھی خلافت کا لفظ آیا ہے وہ مخلوق کی جانشینی کے لئے ہے نہ کہ خدا کی جانشینی
کسی کو خلیفہ (جانشین) بنانا اعزاز کے لئے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لئے ہوتا ہے۔ بنانے کا مطلب ایک کے بعد دوسرے کو کام کا موقع دینا ہے، ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو امتحان کے میدان میں کھڑا کرنا ہے۔ جیسے ہندوستان میں دیسی راجاؤں کی جگہ مغلوں کو اختیار دیا گیا۔ پھر ان کو ہٹا کر انگرییزان کے جانشین بنائے گئے۔ اس کے بعد انہیں ملک سے نکال کر اکثریتی فرقہ کے لئے جگہ خالی کی گئی ان میں سے ہر بعد کو آنے والا اپنے پہلے کا خلیفہ تھا۔