Al-Risala · July 1982

فساد کا ذمہ دار

Al-Risala, July 1982, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

منتخب التواریخ علامہ عبدالقادر بدایونی کی مشہور کتاب ہے موصوف شہنشاہ اکبر کے ہم عصر ہیں۔ اور اس کے دربار میں رہے ہیں۔ وہ اکبر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک بادشاہ تھا جو حق کا طالب تھا اور اپنے اندر نفیس جوہر رکھتا تھا بادشا ہے کہ جو ہر نفیس داشت و طالب حق) اکبر اپنی ابتدائی زندگی میں بڑا دیندار اور عبادت گزار تھا۔ اس نے سات عالم صرف نماز کی امامت کے لئے مقرر کر رکھے تھے جن میں ایک خود ملا عبدالقادر بدایونی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اکبر کے دربار میں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ہوتی تھی جس میں بادشاہ خود شریک ہوتا تھا (ہر پنج وقت برائے خاطر جماعت در دربار می گفتند) اکبر جب سفر کے لئے نکلتا تو اس کے ساتھ ایک خاص خیمہ نماز کا ہوتا تھا جس میں بادشاہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا۔ شہنشاہ اکبر کے اس دیندارانہ مزاج کا یہ قدرتی نتیجہ ہوا کہ اس کے دربار میں علماءء جمع ہونے لگے۔ اکبر کو حدیثیں سننے اور مسائل دین پر گفتگو کرنے سے خاص دلچسپی تھی۔ اس مقصد کے لئے وہ علماء کی صحبتوں میں دیر دیر تک بیٹھتا تھا، ملا بدایونی نے لکھا ہے کہ اکبر کے گرد جمع ہونے والے علماء کی تعداد ایک سو سے بھی اوپر تک پہنچ گئی تھی (جماعت مناظرین و مباحثین چه محقق چه مقلد از صد نفر متجاوز بودند) بادشاہ کے گرد جمع ہونے والے یہ علماء قدرتی طور پر بادشاہ کی عنایتوں میں حصہ پانے لگے۔ بس یہیں سے وہ حالات پیدا ہوئے جس نے ایک دیندار بادشاہ کو بے دین بنا ڈالا۔

ظاہر ہے کہ سو آدمی بیک وقت بادشاہ کے قریب نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ چنانچہ پہلا جھگڑا نشست گاہوں پر شروع ہوا۔ ہر ایک اس کوشش میں رہتا کہ وہ بادشاہ کے قریب بیٹھے۔ اب جس کو قریب جگہ نہ ملتی وہ جلن میں اسی طرح بادشاہ کے انعامات میں جس کو کم حصہ ملتا وہ اس سے حسد کرنے لگتا جس کو اتفاق سے زیادہ انعام مل گیا ہو۔

علماء کا حال یہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو گرانے کے لئے ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگے۔ بدایونی کے الفاظ میں علماء کے گروہ سے بہت سی بیہودگی ظاہر ہوئی (بدنفسی ہا ازیں جماعت ظاہر شدند) ایک نے دوسرے کے خلاف زبان کی تلوار نکالی، ایک دوسرے کی نفی اور تردید میں لگ گیا۔ ان کا اختلاف یہاں تک بڑھا کہ ایک نے دوسرے کو کافر بنایا، ایک نے دوسرے کو گمراہ ثابت کیا (با یک دیگر تیغ زباں کشیدہ در مقام تنافی و تقابل بودند و اختلاف بجائے رسید که تکفیر و تضلیل همدگر می نمودند) نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاہی دربار میں ان علما کی گردنوں کی رگیں پھول آئیں، آوازیں بلند ہوئیں اور زبردست شور برپا ہوا

برگ کردن علما زماں برآمدہ آواز ہائے بلند و ددمہ بسیار ظاهر شد)

علما کی ان نازیبا حرکتوں سے بادشاہ کا متاثر ہونا فطری تھا۔ اس کو سخت گراں گزرا در خاطر اشرف گراں آمد) اس کے بعد بادشاہ نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نامعقول عالموں کو آئندہ بادشاہ کی مجلس میں آنے نہ دیں۔ اس کے باوجود علما کی حرکتیں بند نہ ہوئیں۔ ان کی باتیں بادشاہ کے لئے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافہ کا سبب بنتی رہیں۔ علما کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے کی ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا۔ ان چیزوں نے بادشاہ کو شک میں ڈال دیا۔ کی حیرانی بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا ( درشک انداخته حیرت برحیرت افزود و مقصود از میاں رفت)

درباری علما میں سے ایک ملا عید اللہ سلطان پوری تھے۔ ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تھا۔ نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تھی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکھا ہے ” ان کا انتقال ہوا تو بادشاہ کے حکم سے ان کے مکان کا جائزہ لیا گیا۔ جولاہور میں تھا۔ اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کو وہم کی کنجیوں سے بھی کھولنا ممکن نہ تھا۔ حتی کہ سونے سے بھرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنھیں مُردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تھا۔ شاہ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تھے جو اکبر کے زمانہ کے سب کے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے۔ پورے ملک کے خطبہ اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انھیں اختیار تھا۔ شہنشاہ اکبر ان کا اتنا زیادہ احترام کرتا تھا کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتا تھا۔ مگر مذکورہ مخدوم الملک اور ملا عبد النبی کے درمیان رقیبانہ کش مکش ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراہ ثابت کرنے کے لئے رسالے لکھے۔ ایک نے دوسرے کی بابت لکھا کہ چونکہ انھیں بواسیر ہے اس لئے ان کے پیچھے نماز ناجائز ہے۔ دوسرے نے لکھا کہ تم اپنے باپ کے عاق کئے ہوئے بیٹے ہو اس لئے تمھارے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔ اس قسم کی لایعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تھا۔ شہنشاہ اکبر ابتدا ءً نہایت دین دار تھا اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکھتا تھا۔ مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکھنے کے بعد وہ دین سے بھی بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بھی۔ علما کا یہ حال تھا کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے۔ ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اسی فعل کو حلال قرار دیتا۔ ملا بدایونی لکھتے ہیں :

علما عهد خویش را بهتر از غزالی و رازی تصور نموده بودند اکبر اپنے زمانہ کے علما کو غزالی اور رازی سے بہتر رکاکت ہائے ایشاں را دیده قیاس غائب بر شاهد سمجھتا تھا۔ جب اس نے ان کی پست حرکتوں کو دیکھا تو حال

کردہ سلف رائیز منکر شدند پر ماضی کو قیاس کرکے سب کا منکر ہوگیا۔

اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہوگیا۔ ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار ہی میں اہمیت اختیار کرگئے ۔ اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں رہی ۔ ابو الفضل اکبر کے سامنے علماء کا مذاق اُڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا ۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں: کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابو الفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی، فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو۔

حسد اور کبر یہودی علماء کا عام مرض تھا ۔ یہی ہمارے علماء کا بھی سب سے زیادہ عام مرض بن گیا ہے۔ صحابہ کرام بھی دین کے عالم تھے ۔ مگر ان کے درمیان حسد اور کبر کا وجود نہ تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بعد کے زمانہ کے علماء کے اندر یہ اخلاقی برائی اس قدر عمومی طور پر پیدا ہوگئی ۔ اس کی وجہ خود علم کا فرق ہے۔ کے زمانہ میں عالم ہونے کا مطلب کچھ اور تھا اور بعد کے زمانہ میں عالم ہونے کا مطلب کچھ اور ۔ صحابہ کرام کا نصاب تعلیم صرف قرآن و حدیث تھا ، اس کے برعکس بعد کے زمانہ میں دینی نصاب کے نام سے جو تعلیمی نصاب رایج ہوا اس میں قرآن و حدیث برائے نام رہ گئے اور اصل اہمیت دوسرے فنون نے لے لی ۔ اس فرق کا نتیجہ لازماً ظاہر ہونا تھا ، کیونکہ قرآن و حدیث کے علم سے آدمی کے اندر خشیت پیدا ہوتی ہے (فاطر ۲۸) اور فنی علوم سے احساس برتری (غافر ۸۳)

علم کے ساتھ عام طور پر بڑائی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس سے مستثنیٰ صرف خدا کا علم ہے۔ خدا کا علم ایک ایسا علم ہے جس میں آدمی مالک کائنات کی عظمت اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ ہے کہ خدائی علم آدمی کے اندر خاکساری پیدا کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے علوم آدمی کے اندر عجب اور گھمنڈ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

خدائی علم ابتدائی زمانہ میں صرف خدا کی کتاب اور رسول کی سنت پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں اس کو فنی بنانے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ فنی بنانے کی کوشش میں سادہ خدائی علم اس سطح پر پہنچ جاتا ہے جو عام دنیوی علوم کی سطح ہے۔ مشکل اصطلاحیں ، پیچیدہ اسلوب، منطقی ترتیب ، دور از کار بحثیں وغیرہ مل کر دینی علم کو ایسی شکل دے دیتے ہیں کہ وہ کہنے کے لئے بظاہر ایک دینی علم ہوتا ہے۔ مگر اپنے مجموعی تاثر کے اعتبار سے وہ ایک عام علم بن جاتا ہے۔ اس کو پڑھنے سے آدمی کے اندر نہ کوئی ربانی شعور جاگتا ہے اور نہ اس کے دل میں خوف خدا کا کوئی قطرہ ٹپکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے علم کے ماہرین وہی کچھ کریں گے جس کی ایک تصویر اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔

Printed page