Al-Risala · July 1982

دیباچہ تذکیر القرآن

Al-Risala, July 1982, pp. 38–39

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن اگرچہ ایک اعلمیٰ ترین علمی کتاب ہے، اس میں فطری حدود کے اندر علم و عقل کی پوری رعایت رکھی گئی ہے۔ مگر قرآن میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے معروف علمی اور فنی انداز اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ فنی آداب اور علی تفصیلات کو چھوڑ کر اصل بات کو مؤثر دعوتی اسلوب میں بیان کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا مقصد علمی مطالعہ پیش کرنا نہیں ہے، اس کا مقصد تذکیر و نصیحت ہے اور تذکیر و نصیحت کے لئے ہمیشہ سادہ اسلوب کارآمد ہوتا ہے نہ کہ فنی اسلوب۔

تاہم یہ ایک طالب علمانہ ضرورت ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک آدمی قرآن کے بیانات کی علمی تفصیلات اور اس کے فنی پہلوؤں کو جاننا چاہے۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ قرآن کی تفسیر کے لئے کیا انداز اختیار کیا جائے نہ قرآن کی تفسیر اگر اس کے اپنے سادہ دعوتی اسلوب میں کی جائے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ تفسیر میں نصیحت اور تذکیر کی فضا باقی رہے گی جو قرآن کا اصل مقصود ہے مگر ایسی صورت میں خالص علمی تقاضوں کی رعایت نہ ہو سکے دوسری طرف اگر علمی و فنی پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مفصل تفسیر لکھی جائے تو بعض خاص طبیعتوں کو وہ پسند آسکتی ہے مگر عام لوگوں کے لئے وہ ایک مقدس دستاویز بن کر رہ جائے گی۔ مزید یہ کہ وہ قرآن کے اصل مقصد۔ تذکیر و نصیحت کو مجروح کرنے کی قیمت پر ہوگا۔

اس مسئلہ کا ایک سادہ حل یہ ہے کہ تفسیر اور معلومات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ قرآن کے ساتھ جو تفسیر شائع کی جائے وہ خود تو نصیحت اور تذکیر کے انداز میں ہو۔ اس کے بعد اس سے الگ ایک مستقل کتاب قاموس القرآن یا قرآنی انسائیکلوپیڈیا کے طور پر مرتب کر کے شائع کی جائے۔ اس دوسری کتاب میں وہ تمام فنی بحثیں اور علمی اور تاریخی معلومات ہوں جو قرآنی حوالوں کو تفصیلی انداز میں سمجھنے کے لئے ضروری ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام سے متعلق آیات کے ذیل میں جو تفسیر لکھی جائے اس میں تو آنجناب کی زندگی کے صرف قابل عبرت پہلوؤں کی وضاحت ہو جن کی طرف قرآن میں اشارے کئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ آپ کے بارے میں جو تاریخی اور اثریاتی معلومات ہیں ان کو قاموس القرآن میں جمع کر دیا جائے جن کو آدمی لفظ "ابراہیم" کے تحت دیکھ سکے۔ طرح نحوی، فقہی، کلامی اور طبیعیاتی مسائل کی تفصیل بھی قرآن کی انسائیکلو پیڈیا میں درج ہوں نہ کہ قرآن کی تفسیر میں۔

تذکیر القرآن اسی نہج پر قرآن کی ایک خدمت ہے ۔ تذکیر القرآن کو ہم نے اصل مطالبِ قرآن کی یاد دہانی تک محدود رکھا ہے ۔ اور جہاں تک دیگر علمی و فنّی معلومات کا تعلق ہے وہ انشاء اللہ علیحدہ کتاب کی صورت میں مرتب کرکے شائع کی جائیں گی ۔

یہ اندازِ عین وہی ہے جو خود قرآن نے اختیار کیا ہے۔ قرآن میں طبیعیات اور فلکیات کے حوالے ہیں مگر ان کی تفصیلات کو خدا نے چھوڑ دیا کہ بعد کے زمانہ کے اہلِ علم انہیں دریافت کرکے ان کو مدون کریں۔ میں قدیم شخصیتوں کا ذکر ہے۔ مگر خدا نے یہ کام آئندہ آنے والے والے ماہرینِ اثریات کے لئے باقی رکھا کہ وہ ان کی تحقیق کریں اور ان کی تاریخی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کریں۔ خدا قرآن میں خود ان تمام واقعات کو شامل کرسکتا تھا۔ مگر وہ صرف اس قیمت پر ہوتا کہ قرآن میں عبرت اور نصیحت کی فضاختم ہو جائے ۔ چنانچہ خدا نے ، ہر چیز سے باخبر ہونے کے باوجود، سارا زور صرف نصیحت کی باتوں پر دیا اور بقیہ تفصیلات کو دوسروں کے لئے چھوڑ دیا۔ قرآن میں ایک طرف معلومات کی نوعیت کی بے شمار تفصیلی باتوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ بنیادی نصیحت والی باتوں کو بار بار دہرایا گیا ہے حتیٰ کہ بہت سے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ قرآن میں مضامین کی تکرار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا یہ مقصد نہیں کہ لوگ اس معلومات کی ایک کتاب سمجھ کر پڑھ لیں۔ قرآن خدا اور آخرت کی باتوں کو لوگوں کی روح کی غذا بنانا چاہتا ہے۔ کسی چیز کو آدمی معلوماتی طور پر پڑھے تو اس کی تکرار اس کو ناگوار ہوگی۔ مگر جو چیز آدمی کی زندگی میں روح کی غذا بن کر داخل ہو جائے اس کی ہر تکرار آدمی کو نئی لذت دیتی ہے۔ جہاں لذت ہو وہاں تکرار کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ قرآن میں یہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا تاکہ وہ لوگ چھٹ کر الگ ہو جائیں جو معلومات اور تکرار کی اصطلاحوں میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ انسان چن لئے جائیں جن کے لئے قرآنی حقیقتیں لذتِ روح کا درجہ حاصل کر چکی ہوں۔

Printed page