قرآن ایک دعوتی کتاب
Al-Risala, July 1982, pp. 39–41
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن عام طرز کی علمی تصنیف نہیں، وہ ایک دعوتی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو ساتویں صدی عیسوی کے ثلث اول میں ایک خاص قوم کے اندر اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا اور اس کو اپنے پیغام کی پیغام بری پر مامور فرمایا ۔ اس پیغمبر نے اپنے ماحول میں یہ کام شروع کیا اور اسی کے ساتھ قرآن کا تھوڑا تھوڑا حصہ حسبِ ضرورت اس کے اوپر اترتا رہا۔ یہاں تک کہ ۲۳ سال میں پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے ساتھ قرآن کی بھی تکمیل ہو گئی۔ قرآن اگر چہ خدا کی ابدی رہنمائی ہے مگر مذکورہ ترتیب نے اسی کے ساتھ اس کو تاریخی کتاب بھی بنا دیا ہے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ابدی رہنمائی کو تاریخ کے سانچہ میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ میں بعد کے زمانہ میں قرآن کی تفسیر کرنا آدمی کو ایک نئے مسئلہ سے دوچار کر دیتا ہے۔ قرآن کی تفسیر اگر اس ابتدائی پس منظر کی روشنی میں کی جائے جس میں قرآن کے احکام اترے تھے تو قرآن قدیم زمانہ کی ایک تاریخی کتاب معلوم ہوگی ۔ اس کے برعکس قرآن کی تفسیر اگر اس کی ابدی اہمیت کی بنیاد پر کی جائے تو اس کا تاریخی پہلو مجروح ہوتا ہوا دکھائی
اس مسئلہ کی وجہ سے بعد کے زمانہ میں قرآن کی تفسیر کرنا ایک ایسا کام بن ہے جس میں دوگونہ پہلوؤں کو نبھانا ضروری ہو۔
تذکیر القرآن میں یہی دو گونہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں تاریخی پس منظر بھی مختصر طور پر دکھایا گیا ہے مگر اس طرح نہیں کہ قرآن ایک تاریخی کتاب معلوم ہونے لگے۔ اسی طرح اس میں قرآنی تعلیمات کو آج کے حالات کے مطابق کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔ مگر ایسا نہیں کہ قرآن اپنی تاریخی بنیاد سے بالکل علیحدہ ہو جائے۔ قرآن کا مقصد نزول قرآن کس لئے اتارا گیا ہے، ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے بارے میں خدا کی اسکیم کو بتانے کے انسان کو خدا نے ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ موجودہ محدود دنیا میں پچاس سال یا سوسال گزار کر اس کو آخرت کی دنیا میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ جہاں اس کو مستقل طور پر رہنا ہے۔ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت کی دنیا اس کا انجام پانے کی جگہ۔ آج کی زندگی میں آدمی جیسا عمل کرے گا اسی کے مطابق وہ اپنی اگلی زندگی میں اچھا یا برا بدلہ پائے گا۔ کوئی اپنی نیک کرداری کے نتیجہ میں ابدی طور پر جنت میں جائے گا اور کوئی اپنی بدکرداری کی وجہ سے ابدی طور پر جہنم میں۔ قرآن اس لئے اتارا گیا کہ اس سنگین مسئلہ سے آدمی کو باخبر کرے اور اس کو بتائے کہ اگلی زندگی میں برے انجام سے بچنے کے لئے اسے اپنی موجودہ زندگی میں کیا کرنا چاہئے۔
خدا نے انسان کو فہم و شعور کے اعتبار سے اسی صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے جو اس کو انسانوں سے مطلوب ہے۔ پھر اس نے گردو پیش کی پوری کائنات کو مطلوبہ درست کردار کا عملی مظاہرہ بنا دیا ہے۔ تاہم یہ سب کچھ خاموش زبان میں ہے۔ انسانی فطرت احساسات کی صورت میں اپنا کام کرتی ہے اور فطرت کے مظاہر تمثیل کی صورت میں۔ قرآن اس لئے آیا کہ فطرت اور کائنات میں جو کچھ خاموش زبان میں موجود ہے وہ نطق کی زبان میں اس کا اعلان کر دے تاکہ کسی کے لئے اس کا سمجھنا مشکل نہ رہے۔ فطرت اور کائنات اگر آدمی کی خاموش رہنما ہیں تو قرآن ایک ناطق رہنما۔ مزید یہ کہ قرآن ایک ایسے پیغمبر پر اتارا گیا جو غلبہ کا پیغمبر تھا۔ پچھلے انبیاء صرف داعی کی حیثیت سے بھیجے گئے ۔ ان کا کام اس وقت ختم ہو جاتا تھا جب کہ وہ اپنی مخاطب قوم کو خدا کی مرضی سے پوری طرح آگاہ کر دیں۔ انھوں نے اپنی مخاطب قوموں کی زبان میں کلام کیا۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کی بات نہیں مانی۔ پچھلے زمانوں میں خدا کی مرضی انسان کی زندگی میں عملی صورت اختیار نہ کر سکی۔ پیغمبر آخر الزماں کو خدا نے غلبہ کی نسبت دی۔ یعنی آپ کے لئے فیصلہ کر دیا گیا کہ آپ کا مشن صرف پیغام رسانی پر ختم نہ ہوگا بلکہ خدا کی خصوصی مدد سے اس کو عملی واقعہ بننے تک پہنچایا جائے گا۔ اس خدائی فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے دین کے حق میں ہمیشہ کے لئے ایک مزید تائیدی بنیاد فراہم ہو گئی، یعنی مذکورہ بالا اہتمام کے علاوہ انسان کی حقیقی زندگی میں خدا کی مرضی کا ایک کامل عملی نمونہ۔ پچھلے زمانہ میں خدا کے جتنے پیغمبر آئے وہ سب اسی دعوت کو لے کر آئے جس کو لے کر پیغمبر آخر الزماں کو بھیجا گیا مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ عام طور پر ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان کے پیغام کو نہ مانا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کو اپنی
دنیوی مصلحتوں کے خلاف سمجھتے تھے۔ ان کو غلط طور پر یہ اندیشہ تھا کہ اگر انھوں نے خدا کے سچے دین کو پکڑا تو ان کی بنی بنائی دنیا تباہ ہو جائے گی۔ قرآن کی تاریخ اس اندیشہ کی عملی تردید ہے۔ قرآن کے ذریعہ جو تحریک چلائی گئی اس کو خدا نے اپنی خصوصی نصرت کے ذریعہ دعوت سے شروع کر کے واقعہ بننے کے مرحلہ تک پہنچایا اور اس کے عملی نتائج کو دکھا دیا۔ طرح خدا کے دین کی ایک مستقل تاریخ وجود میں آگئی۔ اب قیت تک لوگ حقیقی تاریخ کی زبان میں دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کے سچے دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کس طرح زمین و آسمان کی تمام برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ پھر اسی کے ذریعہ قرآن کی مستقل حفاظت کا انتظام بھی کر دیا گیا۔ ایک بڑے جغرافیہ میں اہل اسلام کا اقتدار اور وہاں اسلامی تہذیب و تمدن کا غلبہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ قرآن کو ایسا حفاظتی ماحول مل جائے جہاں کوئی اس میں کسی قسم کی تبدیلی پر قادر نہ ہو سکے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا غلبہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال سے قرآن کا چوکی دار بنا ہوا ہے۔