ربانی دستر خوان
Al-Risala, July 1982, pp. 41–42
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کو کچھ لوگ فضائل کی کتاب سمجھتے ہیں، کچھ لوگ مسائل کی کتاب اور کچھ لوگ سیاست کی کتاب۔ میں جزئی صداقت ہے مگر ان میں سے کوئی بھی قرآن کی صحیح تعبیر نہیں۔
قرآن کو فضائل کی کتاب ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی آیتوں اور سورتوں میں طلسماتی برکتیں چھپی ہوئی ہیں۔ قرآن کے محض الفاظ کو دہرالینا ان برکتوں کے حصول کے لئے کافی ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو قرآن کی وہ تمام آیتیں بے معنی ہو جاتی ہیں جن میں آدمی کو غور کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ قرآن ایسی آیتوں سے بھرا ہوا ہے جو آدمی کو اکساتی ہیں کہ وہ الفاظ سے گزر کر معانی کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کرے۔ وہ قرآن میں تدبر کرے اور قرآنی زاویہ نگاہ سے اپنے آپ کو اور کائنات کو دیکھے۔ ان تعلیمات کی روشنی میں دیکھے تو قرآن کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہے جن کی فکری قوتیں بیدار ہوں، جو قرآن سے ذہنی غذا حاصل کریں اور عبرت کی نگاہ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزاریں۔ ایسی حالت میں قرآن کو فضائل کی کتاب کہنا قرآن کی تصغیر ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ذہنوں کو کھولنے والی کتاب نہیں۔ برکت کی کتاب ہے جس کو بند ذہن کے ساتھ پڑھا جائے اور پھر بند غلاف میں محفوظ کرکے رکھ دیا جائے ۔ اسی طرح قرآن کو مسائل کی کتاب کہنا بھی قرآن پر ظلم کرنا ہے۔ "مسائل" کے لفظ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قرآن ایسے اعمال کی کتاب ہے جن کو ظاہری آداب کے ساتھ ادا کر لینا کافی ہو۔ حالانکہ قرآن میں اس کے مطلوب اعمال کے ظاہری آداب کا ذکر ہی نہیں۔ قرآن آدمی کو ایمان کی دعوت دیتا ہے مگر وہ اس ایمان کو ایمان نہیں مانتا جو داخل القلب ایمان نہ ہو، جس میں صحت مخارج کے ساتھ بس کلمہ ایمان کے الفاظ کو دہرادیا گیا ہو۔ قرآن کے نزدیک حقیقی ایمان وہ ہے جو روح میں اتر جائے، جس میں آدمی کے دل کی دھڑکنیں شامل ہو جائیں۔ قرآن نماز کو فلاح کا ذریعہ بتاتا ہے مگر قرآن کی مطلوب نماز وہ ہے جو خشوع کی نماز ہو نہ کہ سہوکی نماز۔ قرآن چاہتا ہے کہ لوگ اللہ کا ذکر کریں۔ مگر وہ ذکر نہیں جو تکرار لسان کے طور پر ہوتا ہے بلکہ ایسا ذکر جس میں وہ والہانہ شیفتگی شامل ہو جو قومی ہیروؤں کے ذکر میں ہوتی ہے بلکہ اس
سے بھی بڑھ کر یہ کہ قرآن کے نزدیک قربانی بہت بڑا عمل ہے مگر وہ قربانی نہیں جو گوشت اور خون کے ہم معنی ہو بلکہ وہ قربانی جو آدمی کے لئے تقویٰ کا ذریعہ بن جائے۔ اس طرح کے بے شمار احکام ہیں جو بتاتے ہیں کہ قرآن معروف معنوں میں مسائل کی کتاب نہیں بلکہ حقیقت کی کتاب ہے۔ وہ انسان کے اندر زندہ عمل دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ محض ظاہری آداب و قواعد والا عمل ۔
قرآن میں یقیناً بعض سیاسی نوعیت کے احکام ہیں۔ مگر قرآن کو کتاب سیاست سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے بعض جزئی مشابہت کی بنا پر انسان کو معاشی حیوان سمجھنا۔ اس نقطہ نظر کے حاملین یہ دیکھتے ہیں کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا کہ دعوت و تبلیغ سے شروع ہو کر آپ کا مشن حکومت و سیاست تک پہنچا۔ اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ خدا کے پیغمبر اس لئے آتے ہیں کہ مخصوص احکام کی بنیاد پر خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان کا مشن الگ الگ نہ تھا بلکہ سب کا مشن ایک تھا۔ حتیٰ کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کا ذکر کر کے نبی آخر الزماں سے کہا گیا ہے کہ تم بھی انھیں کی پیروی کرو (فبہد اھم اقتدہ) ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ جب نبیوں کا مشن خدائی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے تو آخری نبی کے سوا دوسرے نبیوں نے بھی آپ کی طرح حکومت کیوں نہ قائم کی۔
اس نقطہ نظر کے حاملین اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ عمل کی حد تک تمام نبیوں نے خدائی حکومت کے قیام کے لئے جد و جہد کی۔ البتہ کسی کا عمل کوشش کے مرحلہ میں رہ گیا اور کسی کا عمل آخری نتیجہ تک پہنچا۔ مگر یہ جواب متعدد وجوہ سے غلط ہے۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لیجئے ۔ اگر آنجناب کا مشن یہ تھا کہ مصر کے اقتدار سے فرعون کو بے دخل کر کے وہاں خدائی قانون کی حکومت قائم کریں تو ایسا کیوں ہوا کہ جب خدا نے فرعون کو ہلاک کر دیا اور اس کی پوری جنگی طاقت کو سمندر میں غرق کر دیا تو حضرت موسیٰ مصر کو چھوڑ کر صحرا ئے سینا میں چلے گئے ۔ اگر آپ کا مشن مصر میں حکومت الہیہ قائم کرنا تھا تو فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں اس کا پورا موقع آپ کے لئے کھل چکا تھا۔ ایسی حالت میں مصر کو چھوڑ کر چلے جانے کی کیا توجیہہ کی جائے گی ۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی نعمتوں کا ابدی خزانہ ہے، قرآن خدا کا تعارف ہے۔ قرآن بندے اور خدا کا مقام ملاقات ہے ۔ مگر اس قسم کے مفروضہ خیالات نے قرآن کو لوگوں کے لئے ایک ایسی کتاب بنا دیا جو یا تو ایک چلیں زمین ہے جہاں آدمی کی روح کے لئے کوئی غذا نہیں یا وہ کسی شاعر کے مجموعہ کلام کی طرح ایک ایسا لفظی مجموعہ ہے جس سے ہر آدمی بس اپنے مخصوص ذہن کی تصدیق حاصل کرلے ۔ وہ اصلاً خود اپنے آپ کو پائے اور یہ سمجھ کر خوش ہو کہ اس نے خدا کو پالیا ہے۔