Al-Risala · July 1982

قرآن فہمی کے شرائط

Al-Risala, July 1982, pp. 42–44

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن ایک فکری کتاب ہے اور فکری کتاب میں ہمیشہ ایک سے زیادہ تعبیر کی گنجائش رہتی ہے۔ اس لئے قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پڑھنے والا خالی الذہن ہو۔ اگر پڑھنے والے کا ذہن خالی نہ ہو تو وہ قرآن میں خود

اپنی بات پڑھے گا۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت کی مثال لیجئے:

ومن الناس من يتخذ من دون الله اندادا کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا مقابل يحبونهم كحب الله والذين آمنوا اشد حبا بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ ۱۶۵ بقرہ ﷺ کے ساتھ ہونا چاہئے۔ حالاں کہ ایمان رکھنے والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔

ایک شخص جو سیاسی ذوق رکھتا ہو اور سیاسی ایکٹر پچائڑ کو کام سمجھتا ہو وہ جب اس آیت کو پڑھے گا تو اس کا ذہن پوری آیت میں بس انداد (مد مقابل) پر رک جائے گا۔ وہ قرآن سے " مد مقابل " کا لفظ لے لے گا اور بقیہ مفہوم کو اپنے ذہن سے جوڑ کر کہے گا کہ اس سے مراد سیاسی مد مقابل ٹھہرانا ہے، اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آدمی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کو خدا کا سیاسی مد مقابل بنائے۔ اس تشریح کے مطابق یہ آیت اس کے لئے اس بات کی اجازت نامہ بن جائے گی کہ جس کو وہ خدا کا " سیاسی مد مقابل " بنا ہوا دیکھے اس سے ٹکراؤ شروع کردے۔ اس کے برعکس جو آدمی سادہ ذہن کے ساتھ اس کو پڑھے گا وہ " انداد " کے لفظ پر نہیں رکے گا بلکہ پوری آیت کی روشنی میں اس کا مفہوم متعین کرے گا۔ ایسے شخص کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہاں مد مقابل ٹھہرانے کی جس صورت کا ذکر ہے وہ باعتبار محبت ہے نہ کہ باعتبار سیاست یعنی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ آدمی کو سب سے زیادہ محبت صرف خدا سے کرنا چاہئے۔ " حب شدید " کے معاملہ میں کسی دوسرے کو خدا کا ہمسر نہیں بنانا چاہئے۔

قرآن کا ایک عمومی مفہوم ہے اور اس کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کر قرآن کو پڑھے۔ مگر جو شخص قرآن کے گہرے معانی تک پہنچنا چاہے اس کو ایک اور شرط پوری کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ اس راہ کا مسافر بنے جس کا مسافر اس کو قرآن بنانا چاہتا ہے۔ قرآن آدمی کی عملی زندگی کی رہنما کتاب ہے اور کسی عملی کتاب کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی عملاً ان تجربات سے گزرے جن کی طرف اس کتاب میں رہنمائی کی گئی ہے۔ یہ عمل کوئی سیاسی یا سماجی عمل نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر ایک نفسیاتی عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنے نفس کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے نہ کہ حقیقۃ کسی خارج کے مقابلہ میں۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی ظاہری دنیا کی سطح پر نہ جئے بلکہ غیب کی دنیا کی سطح پر جئے۔ اس سلسلے میں جن مراحل کی نشان دہی قرآن میں کی گئی ہے ان کو وہ شخص کیسے سمجھ سکتا ہے جو ان مراحل سے آشنا نہ ہوا ہو۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی صرف اللہ سے ڈرے اور صرف اللہ سے محبت کرے۔ اب جس کا دل اللہ کی محبت میں نہ تڑپا ہو، جس کے بدن کے رونگٹے اللہ کے خوف سے نہ کھڑے ہوئے ہوں وہ کیسے جان سکتا ہے کہ اللہ سے ڈرنا کیا ہے اور اللہ سے محبت کرنا کیا۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی خدائی مشن میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرے کہ وہ اس کو اپنا ذاتی مسئلہ بنا لے ۔ اب جس شخص نے خدا کے کام کو اپنا ذاتی کام نہ بنایا ہو وہ کیوں کر جانے گا کہ خدا کے ساتھ اپنے کو شامل کرنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ آدمی انسانوں کے چھیڑے ہوئے مسائل میں گم نہ ہو بلکہ خدا کی طرف سے برسنے والے فیضان میں اپنے کو گم کرے ۔ اب جس شخص پر ایسے صبح و شام ہی نہ گزرے ہوں جب کہ خدا کے فیضان

میں وہ نہا اٹھے وہ کیسے سمجھ سکتا ہے کہ خدائی فیضان میں نہانے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی جہنم سے بھاگے اور جنت کی طرف دوڑے۔ اب جو شخص اس طرح زندگی گزارے کہ جہنم کو اس نے اپنا مسئلہ نہ بنایا ہو اور جنت اس کی ضرورت نہ بنی ہو اس کو کیا معلوم کہ جہنم سے بھاگنا کیا ہوتا ہے اور جنت کی طرف دوڑنا کیا معنی رکھتا ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی اللہ کی عظمت و کبریائی کے احساس سے سرشار ہو۔ اب جو شخص اپنی عظمت و کبریائی کے مینار میں لذت لے رہا ہو اس کو اس کیفیت کا ادراک کہاں ہو سکتا ہے جب کہ آدمی خدا کی کبریائی کو اس طرح پا تا ہے کہ اپنی طرف اس کو عجز کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

قرآنی عمل اصلاً نفس یا انسان کے اندرونی وجود کی سطح پر ہوتا ہے۔ مگر انسان کسی خلا میں زندگی نہیں گزارتا بلکہ دوسرے بہت سے انسانوں کے درمیان رہتا ہے۔ اس لئے قرآنی عمل باعتبار حقیقت ذاتی عمل ہونے کے باوجود دو پہلوؤں سے دوسرے انسانوں سے بھی متعلق ہو جاتا ہے۔ ایک اس اعتبار سے کہ آدمی جس قرآنی راستہ کو خود اپناتا ہے اسی راستہ کو اختیار کرنے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔ یہ رشتہ آدمی کو بے شمار تجربات سے گزارتا ہے جو مختلف صورتوں میں آخر وقت تک جاری رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مختلف قسم کے انسانوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے طرح طرح کے تعلقات معاملات پیش آتے ہیں۔ کسی سے لینا ہوتا ہے اور کسی کو دینا کسی سے اتفاق ہوتا ہے اور کسی سے اختلاف، کسی سے دوری ہوتی ہے اور کسی سے قربت۔ ان مواقع پر آدمی کیا رویہ اختیار کرے اور کس قسم کا رد عمل پیش کرے، قرآن ان امور میں اس کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ اگر آدمی اپنی خواہش پر چلنا چاہے تو قرآن کا یہ باب اس پر بند رہے گا اور اگر وہ اپنے کو قرآن کی ماتحتی میں دیدے تو اس پر قرآنی تعلیمات کے ایسے بھید کھلیں گے جو کسی اور طرح اس پر کھل نہیں سکتے۔ قرآن آدمی کو جو مشن دیتا ہے وہ حقیقتہ کوئی "نظام" قائم کرنے کا مشن نہیں ہے۔ بلکہ اپنے آپ کو قرآنی کردار کی صورت میں ڈھالنے کا مشن ہے۔ قرآن کا اصل مخاطب فرد ہے نہ کہ سماج۔ اس لئے قرآن کا مشن فرد پر جاری ہوتا ہے نہ کہ سماج تاہم افراد کی قابلِ لحاظ تعداد جب اپنے آپ کو قرآن کے مطابق ڈھالتی ہے تو اس کے سماجی نتائج بھی لاز ماً نکلنا شروع ہوتے یہ نتائج ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے بلکہ حالات کے اعتبار سے ان کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ قرآن میں مختلف انبیاء کے واقعات انھیں سماجی نتائج یا سماجی رد عمل کے مختلف نمونے ہیں اور اگر آدمی نے اپنی آنکھیں کھول رکھی ہوں تو وہ ہر صورتِ حال کی بابت قرآن میں رہنمائی پاتا چلا جاتا ہے۔ قرآْن فطرتِ انسانی کی کتاب ہے۔ قرآن کو وہی شخص بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے جس کے لئے قرآن اس کی فطرت کا ثانی بن جائے۔

Printed page