تذکیر القرآن کی خصوصیات
Al-Risala, July 1982, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
تذکیر القرآن کا خاص مقصد قرآن کی یاد دہانی ہے۔ قرآن کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ نصیحت ہے۔ کی ترتیب میں سب سے زیادہ اسی پہلو کا لحاظ کیا گیا ہے کہ وہ پڑھنے والے کے لئے نصیحت بن سکے۔ تذکیر القرآن کو تین حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصہ تقریباً دس پاروں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ سورہ فاتحہ سے
سورہ توبہ تک۔ دوسرا حصہ سورہ یونس سے سورہ عنکبوت تک۔ تیسرا حصہ سورہ روم سے سورہ ناس تک۔ قرآن عام انسانی کتاب کی طرح ابواب کے انداز میں نہیں ہے بلکہ شذرات کے انداز میں ہے۔ کی سورتوں اور عبارتوں میں ایک گہری ترتیب بھی ہے۔ مگر اس کا عام انداز یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ایک پورا پیغام ہے۔ ایک ایک "پیراگراف" میں ایک ایک بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تذکیر القرآن میں اسی شذراتی انداز کو تشریح کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن کا ایک ٹکڑا یا ایک "پیراگراف" لے کر اس میں جو بات کہی گئی ہے اس کو ایک مرتب تشریح کی صورت میں بیان کیا گیا ایسا اس لئے کیا گیا ہے تاکہ متعلقہ تشریح کو پڑھتے ہوئے قاری کے ذہن میں معانی کا سلسلہ نہ ٹوٹے اور وہ قرآن کی تذکیری غذا مسلسل لیتا چلا جائے۔
تذکیر القرآن کی ترتیب یہ رکھی گئی ہے کہ پہلے قرآن کا زیر تشریح ٹکڑا (پیراگراف) درج کیا گیا ہے۔ نیچے اس کا ترجمہ ہے۔ ترجمہ کے بعد ایک لکیر دے کر متعلقہ ٹکڑے کی تشریح ہے۔ جہاں تشریح ختم ہوتی ہے وہاں پھر قرآن کا اگلا ٹکڑا درج کرکے دوبارہ مذکورہ ترتیب سے ترجمہ اور تشریح درج ہے۔ ایک کے بعد ایک پوری سورہ کی تفسیر ہے۔ اس ترتیب میں قاری ہر تشریح کو پڑھتے ہوئے بیک وقت اس کا متن بھی سامنے رکھ سکتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی۔
تذکیر القرآن میں یہ حکمت ملحوظ رکھی گئی ہے کہ ہر صفحہ پر ایک پوری بات آجائے۔ آدمی اگر ایک صفحہ پڑھے تب بھی قرآنی نصیحت کا کوئی حصہ اسے مل جائے اور زیادہ صفحات پڑھے تب بھی۔
ترتیب یہ رکھی گئی ہے کہ صفحہ کے اوپر قرآن کے ایک ٹکڑے (پیراگراف) کا ترجمہ ہے۔ اس کے بعد ایک لکیر دے کر اس کے نیچے تفسیر ہے۔ ان چند آیتوں میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان باتوں کا حد درجہ پابند رہتے ہوئے ان کو ایک مسلسل مضمون کی صورت میں اس طرح لکھا گیا ہے کہ ہر صفحہ کی تفسیر اسی صفحہ پر ختم ہو جائے۔ تذکیر القرآن میں ترجمہ کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے وہ نہ پوری طرح لفظی ہے اور نہ پوری طرح با محاورہ۔ درمیان کی ایک صورت اختیار کی گئی ہے۔ دونوں ہی انداز کے اپنے اپنے فائدے ہیں اور درمیانی انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں پہلوؤں کی رعایت شامل رہے۔
تفسیر میں عام طور پر تفصیل سے پرہیز کیا گیا ہے۔ زیادہ تر جو چیز پیش نظر رکھی گئی ہے وہ یہ کہ قرآن کی فطری سادگی اس کی تفسیر میں بھی باقی رہے ۔ قرآن ایک طرف خدا کے جلال کا اظہار ہے اور دوسری طرف وہ انسان کی عبدیت کا آئینہ ہے۔ تفسیر میں بس انہیں اصل پہلوؤں کوغیر فنی انداز میں نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔