Self will not accept not-self
Al-Risala, August 1982, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ چھوٹے سلف (انسان) کی خود داری کی ایک مثال ہے۔ اسی پر بڑے سِلف (خدا) کی غیرت اور خودداری کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام غیرت مندوں سے زیادہ غیرت مند اور تمام یکتا پسندوں سے زیادہ یکتا پسند ہے۔ خدا کسی حال میں بھی کسی قسم کی دوری کو گوارا نہیں کرتا۔ وہ ہر دوسرے قصور کو معاف کر دے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔
وہ کون خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے مقبول بندے ٹھہریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے سلف کے خول کو توڑ کر خدا کے سلف میں گم ہونے پر راضی ہو گئے جو اپنی یا کسی دوسرے کی یکتائی کو بھلا کر خدا کی یکتائی کے آگے جھک گئے۔ جنہوں نے ہر قسم کے شرک کو چھوڑ کر توحید خالص کو اختیار کر لیا۔ انسان کے لئے اگرچہ یہ مشکل ترین کام ہے کہ وہ اپنے سوا کسی دوسرے کا اقرار کرے ۔ جب بھی کوئی شخص کسی دوسرے کو مانتا ہو نظر آئے تو وہ یا تو خوف کی بنیاد پر ہوگا یا مصلحت کی بنیاد پر۔ تاہم یہی وہ عطیہ جو کوئی انسان کبھی کسی کو نہیں دیتا اسی کا مطالبہ انسان کے خالق نے انسان سے کیا ہے۔ اور اسی کا نام اسلام ہے۔ مسلم وہی ہے جو اپنی خودی کا اثاثہ اپنے خالق کو دینے پر راضی ہو جائے ۔ جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کی سپر دگی میں دے دے۔ جو ہر اعتبار سے خدا کا تابع فرمان اس میں شک نہیں کہ یہ انسان کے لئے ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے۔ مگر اسی کو خدا نے اپنی جنت کی قیمت بنا دیا ہے۔ جنت کی انوکھی نعمت اسی خوش نصیب کے حصہ میں آئے گی جو اس انوکھے عطیہ کی صورت میں اس کی قیمت پیش کر دے۔