Al-Risala · August 1982

ارتقاء علم کی کسوٹی پر

Al-Risala, August 1982, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

حیاتیاتی ارتقا کے متعلق چارلس ڈارون کی کتاب ۱۸۵۹ میں شائع ہوئی تو مغربی اقوام کے درمیان اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ اس کتاب میں زندگی کی پیدائش کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا گیا تھا وہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس کے پہلے ایڈیشن میں ٹائٹل پر حسب ذیل نام درج تھا : The Origin of Species of natural Selection, or the Preservation of Favoured Species in the Struggle for Life ڈارون کے نظریہ کا خلاصہ یہ تھا کہ کسی جاندار سے جب چند بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان میں تھوڑا تھوڑا فرق ہوتا ہے ۔ ان میں سے کسی کا فرق اس کو دوسرے ہم جنسوں کے مقابلہ میں زیادہ بہتر پوزیشن میں کر دیتا ہے، اسی بنا پر وہ زندہ رہتا ہے اور دوسرے ختم ہو جاتے ہیں ۔ یہ فرق توالد و تناسل کے ذریعہ بڑھتا یہاں تک کہ لاکھوں سال میں یہ نوبت آتی ہے کہ ایک نوع کا جانور دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتا مثلاً بکری کا گھوڑا بن جانا۔ اس طرح مختلف جاندار ارتقا کی سیڑھیوں پر چڑھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ انسان وجود میں آ جاتا ہے ۔

بظاہر اس خوبصورت نظریہ میں بہت سے خلا تھے۔ مثلاً یہ کہ ارتقا اگر ایک مسلسل عمل ہے تو کیوں ایسا ہے کہ زمین کے طبقات سے حاصل ہونے والے متحجرات صرف کمال کے مرحلہ کو پہنچے ہوئے انواع حیات کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ کیوں نہ ایسا ہوا کہ درمیانی مرحلہ کی قسمیں بھی کثیر تعداد میں موجود ہوتیں ۔ یعنی ایسے جانور جو آدھا ایک جیسے ہوں اور آدھا دوسرے جیسے:

If evolution has been a continuous process, why does the fossil record only show us apparently settled and established species. Why does it not include an abundance of intermediate forms. ڈارون کا جواب یہ تھا کہ متحجرات کا ذخیرہ ابھی نا تمام ہے ۔ آئندہ جب زیادہ متحجرات دستیاب ہو چکے ہوں گے تو یہ کمی دور ہو جائے گی ۔ ڈارون کے بعد مزید بہت زیادہ متحجرات انسان کے علم میں آئے۔ کمی اس کے باوجود بدستور باقی رہی ۔

اس قسم کی کثیر خامیوں کے باوجود ڈارونزم کو کیوں اتنی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظریہ ۱۹ ویں صدی کے مغربی انسان کی نو آبادیاتی توسیع پسندی کے عین مطابق تھا۔ برٹرینڈ رسل کے الفاظ میں ” یہ آزاد اقتصادیات کے اصول کو نباتات اور حیوانات کی دنیا تک وسیع کرنا تھا : It was an extension to the animal and vegetable world of laissez-faire economics.

Printed page