قدیم معقولات
Al-Risala, August 1982, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
بو علی سینا ایک مشہور مسلم فلسفی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس نے مرنے سے پہلے اپنے فلسفیانہ خیالات سے توبہ کی اور آخر میں کہا: "خدا سچا ہے اور بو علی سینا جھوٹا ہے" ، بو علی سینا کا فلسفہ کفر کا فلسفہ نہ تھا۔ وہ اسلامی عقائد کو قدیم فلسفیانہ اسلوب میں بیان کرنے کی ایک کوشش تھی۔ پھر اس نے ایسا کیوں کیا۔ اس کی وجہ اسلوب بحث کا وہ فرق ہے جو قرآن وحدیث کے اسلام اور متکلمین کے اسلام میں پایا موت کے وقت بو علی سینا ، رازی اور دوسرے متکلمین کو اس کا احساس ہوا اور انہوں نے فلسفیانہ اسلام پر مرنے کے بجائے قرآنی اسلام پر مرنا پسند کیا۔
پھر ایسا کیوں ہوا کہ اسلام کا علم کلام قرآن کے فطری اسلوب میں مرتب ہونے کے بجائے فلسفے کے منطقی اسلوب میں مرتب کیا گیا، اس کا سبب دفتی حالات تھے۔ بنو امیہ کے عہد کے آخر اور بنو عباس کے عہد کے آغاز میں شام و مصر وغیرہ کے علاقوں کے یہودی اور مسیحی کثرت سے مسلمان ہوئے۔ اس سے کلیسا کے ذمہ داروں کو پریشانی ہوئی۔ مسیحی کلیسا صدیوں سے فلسفیانہ بحث مباحثہ میں مشغول تھا۔ اس کے مقابلہ میں عرب مسلمان فلسفیانہ طرز کلام سے بالکل نا آشنا تھے۔ انھوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں سے فلسفیانہ مناظرے شروع کردئے۔
"خدا کی فطرت کس کو کہتے ہیں، اس سے مراد کیا ہے کہ خدا قادر مطلق اور عالم مطلق ہے۔ علم اور خدا کی صفات میں کیا تعلق ہے۔ اگر خدا نے اپنے ناقابل تغیر فیصلہ سے ہر چیز کی تقدیر معین کردی ہے تو پھر انسان کے فاعل مختار ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ مسلمان اس قسم کی بحثوں سے نا آشنا تھے، جب کہ مسیحی علماء ان کے تعلیم و تعلم میں مشغول ہونے کی وجہ سے ان میں خوب ماہر ہو چکے تھے۔ چنانچہ ابتداء مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
دمشق کا سینٹ جان جب اس انداز پر بحث کرتا تو وہ مسلمانوں کو بے جواب کر دیتا۔ نے اپنے مخالفین کو ، جو یونانی بحث و مناظرہ کے ہتھیاروں سے مسلح تھے ، زیادہ مدت تک تفوق کا موقع نہیں دیا۔ انھوں نے فلسفہ ومنطق کو پڑھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اس انداز بحث کے ماہر بن گئے جو یونانی اور شامی حکما کی کتابوں میں موجود تھا۔ حتیٰ کہ المامون (۲۱۸ - ۱۹۸ھ) کے زمانہ میں بغداد میں بیت الحکمت کے قیام
کے بعد انھوں نے اپنے حریفوں پر واضح برتری حاصل کرلی۔
اسلام ادر غیر اسلام کے مقابلہ میں اسلام جیت گیا۔ یہ انداز کلام اگر چہ قرآن وحدیث کے لئے اجنبی تھا۔ تاہم اگر اس کی حیثیت ایک وقتی ہتھیار کی ہوتی تو اس سے اسلام کو کوئی حقیقی نقصان نہ ہوتا۔ مگر غلطی یہ ہوئی کہ اس کو اسلام کے نصاب تعلیم کا جز ربنادیا گیا۔ اب ایسے علماء پیدا ہونے لگے جو اس انداز کلام کے ماہر اس طرح اسلامی تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ ایک وقتی اہمیت کی چیز اسلام کا مستقل جز ر بنتی چلی گئی ، حتیٰ کہ وہ مقدس حیثیت اختیار کرگئی۔ اب اس کو بدلنا لوگوں کو ایسا ہی معلوم ہونے لگا جیسے قرآن و حدیث کو بدلنا ۔ " خدا اور اک کی علت ہے ۔ اور اک نفس کی علت ہے ۔ نفس فطرت کی علت ہے۔ فطرت تمام افراد اشیاء کی علت ہے اور پھر خدا ہر شے کی علت ہے " ، اس قسم کی پر پیچ باتیں کرنے والا عالم ہے ۔ اور جو ایسی باتیں نہ کر سکے وہ جاہل۔
اس کے بعد شدید تر غلطی یہ ہوئی کہ اسلامی علوم ، مثلاً علم عقائد ، علم فقہ، علم کلام اسی مخصوص فنی زبان میں مرتب کر دئے گئے ۔ چنانچہ آج کوئی شخص اصول فقہ کی کتابوں کو اس وقت تک سمجھ نہیں سکتا جب تک وہ اس چیز سے بخوبی واقف نہ ہو جس کو معقولات کہا جاتا ہے، یہاں پہنچ کر وہ چیز مسلمانوں کو قرآنی اسلام سے دور کرنے کا سبب بن گئی جس کو ابتداً ئی غیر مسلموں کو اسلام سے قریب لانے کے لئے ایک علمی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
آج کا مسلمان دو چیزوں کے درمیان ہے ۔ وہ یا تو قرآن وحدیث والے فطری اسلام کو لے اور منطقی اسلام کو چھوڑ دے یا منطقی اسلام کو لے اور قرآن وحدیث والے فطری اسلام کو چھوڑے رکھے۔ یقینی ہے کہ بیک وقت وہ دونوں چیزوں کو نہیں لے سکتا۔ ایک چیز کو لینے کے لئے بہر حال اس کو دوسری چیز چھوڑنی پڑے گی۔
موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اسلامی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ وہ اسلامیات کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان کے اندر قرآنی ذہن پیدا نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے اسلامی مطالعہ کا مرکز قرآن ہے ہی نہیں۔ وہ قرآن یا اسلام کے مطالعہ کے نام پر مذکورہ بالا قسم کی فنی کتابیں پڑھتے ہیں نہ کہ اصل قرآن ۔ پھر جو اسلام وہ پڑھتے ہیں وہی ان کا دینی ذہن بنائے گا نہ کہ وہ اسلام جو انھوں نے پڑھا ہی نہیں۔