Al-Risala · August 1982

کسی کو برے نام سے نہ پکارو

Al-Risala, August 1982, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عطار بن یسارکہتے ہیں کہ جب حضرت صفیہ (زوجہ رسول) خیبر سے مدینہ آئیں تو حارثہ بن نعمان کے گھر اتاری گئیں ۔ جب انصار کی عورتوں نے یہ خبر سنی تو وہ ان کو دیکھنے کے لئے جمع ہوگئیں ۔ حضرت عائشہ بھی اپنے اوپر نقاب ڈالے ہوئے آئیں ۔ جب وہ دیکھ کر واپس ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے عائشہ تم نے کیا دیکھا ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایک یہودیہ دیکھی ۔ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو ، کیونکہ وہ اسلام لے آئی اور اس کا اسلام اچھا رہا (قالت : رايت يهودية ، فقال : لا تقولي ذلك ! فانها اسلمت وحسن اسلامها ، طبقات ابن سعد )

اس ماحول میں کوئی خیر نہیں جہاں احتساب پر پابندی ہو۔

حضرت ابو بکرہ بیمار ہوئے تو ان کے لڑکے چیخ پڑے۔ حضرت ابو بکرہ نے کہا کہ مجھ پر چلاؤ نہیں۔ خدا کی قسم کوئی جان جو نکالی جانے والی ہو اس کا نکالا جانا مجھے ابو بکرہ کی جان نکالے جانے سے زیادہ پسند نہیں۔ یہ سن کر لوگ ان کے لڑکوں نے کہا اے باپ کیوں۔ انھوں نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھ پر وہ زمانہ آجائے جب کہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کر سکوں اور اس زمانہ میں کوئی خیر نہ ہوگا (انی اخشی ان ادرک زماناً لا استطيع ان آمر بالمعروف ولا انہی عن منکر ولا خیر يومئذ، ، طبرانی) خدا کا ڈر آدمی کی زبان کو روک دیتا ہے خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔ انھوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور پھر کہا کہ عورتوں کی مہر میں زیادتی نہ کرو۔ اور جب بھی مجھے کسی کے بارے میں یہ اطلاع ملے گی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر (تقریباً ۴۰۰ درہم) سے زیادہ مہر مقرر کیا ہے تو میں اس زیادتی کو لے کر بیت المال میں جمع کر اس کے بعد وہ منبر سے اترے تو قریش کی ایک عورت ان کے سامنے آئی۔ اس نے کہا : اے امیر المؤمنین، خدا کی کتاب زیادہ قابل اتباع ہے یا آپ کا قول اکتاب الله احق ان يتبع ام قولك ) حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ مگر یہ بات تو نے کس لئے کہی۔ عورت نے کہا: آپ نے ابھی لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کی مہر زیادہ نہ باندھیں ۔ حالانکہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: وآتيتم احدا هن قنطاراً فلا تاخذوا منه شيئاً ۔ یعنی اگر تم نے ان میں سے کسی کو ڈھیر سا مال دیا ہے تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ حضرت عمر نے کہا ہر شخص عمر سے زیادہ عالم ہے (کل احد افقه من عمر) اس جملہ کو تین بار اس کے بعد دوبارہ منبر کی طرف لوٹے اور کہا میں نے تم کو عورتوں کا مہر زیادہ باندھنے سے منع کیا تھا اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ اپنے مال میں جو چاہے کرے۔ حضرت عمر نے مزید کہا کہ مہر اگر آخرت میں فخر اور بڑائی کی چیز ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں اور آپ کی عورتیں اس کی زیادہ مستحق تھیں (لو كان المهر سناء ورفعة في الآخرة كان بنات النبي صلى الله عليه وسلم ونساؤہ احق بذلك ، كنز الاعمال جلد ۸)

Printed page