ظہورِ آیات کا مقام
Al-Risala, August 1982, pp. 44–46
By Maulana Wahiduddin Khan
محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین تھے۔ آپ کے بعد پچھلے انبیاء کی نبوتیں عملی طور پر منسوخ ہوگئیں۔ آپ کی نبوت خدا کی نظر میں مستند نبوت ہے اور صرف آپ کی پیروی سے کسی کو نجات مل سکتی ہے۔ کے ظہور کے ذریعہ اللہ نے یہ چاہا کہ وہ اپنے اس فیصلے کا ایک حسی مظاہرہ یا علامتی نمونہ دکھائے۔ کے لئے معراج میں یہ کیا گیا کہ سابقہ انبیاءکو ایک مقام پر جمع کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کی ہدایت پر ان کی امامت فرمائی اور تمام انبیا ء نے آپ کی قیادت میں آپ کے پیچھے نماز ادا کی (قد رأیتنی فی جماعة من الانبياء ۔ فكانت الصلوة فاممتهم ، صحیح مسلم)
امامت انبیاء کا یہ واقعہ کعبہ (عرب) میں بھی ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے لئے معراج ہوئی اور آپ کو بیت المقدس (فلسطین) لے جایا گیا۔ اس کی وجہ قرآن میں یہ بتائی گئی ہے ـــــــــ تاکہ ہم پیغمبر کو اپنی نشانیاں دکھائیں (لنریہ من آیاتنا ، اسراء ۱) بیت المقدس تاریخی طور پر وہ مقام بن چکا تھا جہاں امت یہود کے سلسلہ کی خدائی نشانیاں پچھلے ہزاروں سال سے ظاہر ہو رہی تھیں۔ اب معراج کے موقع پر
خود نبی آخرالزمان کو خدائی نشانی دکھانے کے لئے وہاں لے جانا ظاہر کرتا ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کی وراثت اب آپ کی امت کو دے دی گئی۔ پھر جب بیت المقدس مسلمانوں کے حصہ میں آیا تو اس کی وہ دینی اور آیاتی حیثیت بھی انہیں کی طرف لوٹ آئے گی جو قدیم انبیاء کے زمانہ میں انہیں حاصل تھی۔ بابل سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر جب خدا کی رحمت ہوتی تو وہ فلسطین میں فارغ البال اور ذی اقتدار بنا دئے جاتے ۔ اور جب ان پر خدا کا عتاب ہوتا تو فلسطین ان سے چھن جاتا اور وہ سخت مصیبتوں کی زد میں آجاتے۔ فلسطین بنی اسرائیل کے مرحوم یا مغضوب ہونے کی علامت تھی۔ یہی معاملہ خدا کا اب مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ فلسطین مسلمانوں کے حق میں حکم خداوندی کی علامت ہے۔ اگر مسلمانوں کو فلسطین پر غلبہ حاصل ہو اور وہاں وہ امن کی زندگی بسر کر رہے ہوں تو سمجھنا چاہئے کہ خدا ان سے خوش ہے۔ اگر مسلمانوں کو فلسطین پر غلبہ حاصل نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ عتاب خدا وندی کی زد میں آگئے ہیں ( احبار، باب ۲۶، استثنا، باب ۲۸)
نبی آخر الزمان کے ظہور کے بعد بیت المقدس اور کعبہ دونوں کی وراثت آپ کی امت کو دی جاچکی اس اعتبار سے امت مسلمہ کے بارہ میں مرحومیت یا مغصوبیت کا اظہار کعبہ کی سطح پر بھی ہوسکتا تھا۔ کعبہ دین محفوظ کا قبلہ اور اس کا قیامت تک کے لئے مرکز ہے، اس لئے اس کو تخریبی فتنوں سے بچانا بھی کعبہ محفوظ نہ رہے تو دین کی محفوظیت بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ اس بنا پر ضروری ہوا کہ امت مسلمہ کے بارے میں آیات رحمت یا آیات غیر رحمت کے ظہور کے لئے بیت المقدس کو بدستور اپنی سابقہ حیثیت پر باقی رکھا جائے ۔
فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت سمجھنا خدا کی سنت سے بے خبری کا ثبوت ہے۔ یہ در اصل خدا کا وہ معاملہ ہے جو وہ حاملین کتاب کے ساتھ اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ حامل کتاب ہونے کی ذمہ داری کو ادا نہ کر رہے ہوں ۔ پہلے یہود کتاب الہی کے حامل اس لئے پچھلے زمانہ میں یہود کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا رہا۔ اب مسلمان کتاب الہی کے حامل ہیں ، اس لئے اب خدا کا وہ معاملہ فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ ہوگا جو پہلے فلسطین کے یہود کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ پھر یہ کام یہود سے کیوں لیا جا رہا ہے، اس کی خاص مصلحت ہے۔ یہود کا فلسطین میں جمع ہونا اور ان کے ذریعہ مسلمانوں کو ذلت کی سزا دینا بیک وقت دو مقاصد کا حامل ہے۔ ایک طرف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود کو ایک مقام پر جمع کرکے بالآخر انہیں کوئی سخت اجتماعی سزا دی جانے والی ہے۔ ایک ” مغضوب “ قوم کے ذریعہ مسلمانوں کو سزا دینا اس شدت عتاب کو بتارہا ہے جس کا مورد اس وقت
مسلمان بن رہے ہیں اور اس وقت تک بنتے رہیں گے جب تک وہ دوبارہ اپنے آپ کو کتاب الہی کی بنیاد پر کھڑا نہ کریں۔
آج تمام دنیا کے مسلمان فلسطینیوں کی حمایت پر متحد ہیں۔ شاید عالم اسلام کا دوسرا کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں جس پر ان کے درمیان اتنا زیادہ اتفاق پایا جانا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں نے فلسطین کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بنا رکھا ہے۔ مسلمانوں کے تمام اعضا غورو کا بر اس معاملہ میں یکساں طور پر امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں اور مجاہدین فلسطین کے نام اپنے حمایتی الفاظ نشر کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاتا چاہتے ہیں۔ اس طرح فلسطین کا مسئلہ عملاً، تمام دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ کی عزت تمام مسلمانوں کی عزت ہے اور فلسطینی مسلمانوں کی بے عزتی تمام مسلمانوں کی بے عزتی ۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی عمومی حمایت کسی بھی درجہ میں فلسطینیوں کے مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ فلسطینی مسئلہ دن بدن سخت سے سخت تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ کسی اور مقام پر پیدا ہوا ہے اور مسلمان اس کا حل کسی اور مقام پر تلاش کر رہے ہیں ۔ یہ مسئلہ امریکہ اور اسرائیل کی سطح پر نہیں ہے بلکہ خدا کی کتاب کی سطح پر ہے۔ اگر یہ امریکہ کا مسئلہ ہوتا تو ہم اس کو اسی طرح حل کر چکے ہوتے جس طرح ویت نام نے اس کو بہت پہلے حل کر لیا۔ خدا کی کتاب کے ساتھ غفلت اور بے انصافی نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے اور خدا کی کتاب کے ساتھ غفلت اور بے انصافی کو ختم کر کے ہی یہ مسئلہ دوبارہ ختم ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ مزید اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان جو کچھ اسلام کے نام پر ہو رہا ہے وہی وہ چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کو ان سے مطلوب ہو یا جو کتاب الہی کی اقامت کے ہم معنی ہو۔ زمانہ میں اتنی بڑی بڑی اسلامی شخصیتیں پیدا ہوئی ہیں اور اتنے بڑے پیمانہ پر اسلامی کام ہو رہا ہے ہیں کہ اگر یہی وہ چیز ہوتی جو خدا کو مطلوب ہو تو کبھی ممکن نہ تھا کہ مسلمان عتاب خداوندی کی زد میں آئیں کیونکہ یہ سب کام مقدار میں اتنے زیادہ ہیں کہ اگر وہ صحیح اور مطلوب ہوں تو ان پر نصرت خداوندی کا نزول ہونا چاہئے نہ کہ عتاب خداوندی کا۔
یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس پر آج تمام دنیا کے مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے ۔ کیونکہ خدا اگر انھیں رد کر دے تو پھر ان کے لئے نہ دنیا میں کوئی جگہ ہے اور نہ آخرت میں۔ غیر مطلوب سرگرمیاں، خواہ وہ دین کے نام پر کی جارہی ہوں، کسی کو خدا کی نظر میں رحمت و نصرت کا مستحق نہیں بناتیں۔