خیر امت
Al-Risala, September 1982, pp. 12–16
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح ڈھائی ہزار سالہ عمل کے ذریعہ ایک ایسی قوم نکالی گئی جو اپنے انسانی اوصاف کے اعتبار سے تمام قوموں میں سب سے بہتر تھی (کنتم خیر امة اخرجت للناس ، آل عمران (۱۱۰) حضرت عبد اللہ بن عباس نے خیر امت سے مہاجرین کا گروہ مراد لیا ہے (هم الذین هاجروا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة الى المدينة، تفسیر ابن کثیر) مہاجرین دراصل اس گروہ کی علامت تھے۔ اس سے وہ پورا عرب گروہ مراد ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔
پیغمبروں کو ہر زمانہ میں ایک ہی سب سے بڑی رکاوٹ پیش آئی ہے۔ ان کی مخاطب قوموں کے پاس جو آبائی دین ہوتا تھا اس کے ساتھ مادی رونقیں اور درودیوار کی عظمتیں شامل ہوئی تھیں۔ دوسری طرف وقت کا پیغمبر دلیل مجرد کی سطح پر کھڑا ہوتا تھا۔ عرب میں جو قوم تیار ہوئی اس کے اندر یہ انوکھی صفت تھی کہ وہ حق کو دلیل مجرد کی سطح پر پا سکے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے حق کے حوالے کر دے جس نے اپنی ظاہری روپ اختیار نہیں کیا ہے۔ کھلے آسمان اور وسیع صحراؤں کے درمیان جو قوم تیار ہوئی وہ حیرت انگیز طور پر اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ حقیقت کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھ سکے، وہ ایک ایسے حق کے لئے اپنا سب کچھ سونپ دے جس سے بظاہر دنیا میں کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ اصحاب رسول کی اس خصوصیت کو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے تین
لفظوں میں اس طرح ادا کیا ہے: وہ اس امت کے سب سے افضل لوگ تھے۔ وہ سب سے زیادہ نیک دل، سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلف والے تھے۔ اللہ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت اور دین کے قیام کے لیے چن لیا تھا(کانوا افضل ھذہ الامۃ ابرھا قلوبا واعمقھا علما واقلھا تکلفا اختارھم اللہ لصحبۃ نبیہ ولا قامۃ دینہ)
دور شرک میں انسان سے سب سے اہم صفت جو کھوئی گئی تھی' وہ تھی __ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے کی صلاحیت۔ اب انسان حقیقت کو محسوسات اور مظاہر کی سطح پر دیکھتا تھا، وہ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا۔ یہی اصل رکاوٹ تھی جس کی وجہ سے پچھلے زمانے میں نبیوں کا مذاق اُڑایا جاتا رہا۔
وہ خدا کے منکر نہ تھے مگر انھوں نے خدا کو محسوسات کے پیکر میں ڈھال لیا تھا۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا کو سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اس لیے انھوں نے نظر آنے والی چیزوں کو خدائی کا پیکر فرض کر کے ان کو اپنا مرکز توجہ بنا لیا تھا، خواہ یہ مادی بڑائیاں ہوں یا انسانی بُرائیماں ۔ ان کی یہی کمزوری پیغمبر کی پیغمبری پر یقین کرنے میں مانع تھی۔ ہر پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے وہ محض ایک انسان ہوتا ہے۔ ابھی اس کے ساتھ وہ تاریخی بُرائیماں شامل نہیں ہوتیں جو بعد کے دور میں اس کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اپنی دعا میں فرمایا تھا : اے میرے رب ، اس شہر (مکہ) کو تو امن والا شہر بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجیں۔ اے میرے رب ، ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے میرے رب ، میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسے میدان میں بسایا ہے جہاں کھیتی نہیں، تیرے محترم گھر کے پاس، اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں (ابراہیم ۳۷- ۳۵)
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا غلبہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ عالی شان بت خانے ہر طرف انسان کے لئے بظاہر نا ممکن ہو گیا تھا کہ وہ اس سے ہٹ کر سوچ سکے۔ اس وقت اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک جنتیل زمین میں ایک نئی نسل پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ ایک محفوظ علاقہ میں ایسے افراد تیار کرنے کا منصوبہ تھا جو ظواہر سے اوپر اٹھ کر حقائق کا پرستار بن سکے۔ چنانچہ اسی انسانی مادہ سے وہ قوم بنی جس کے متعلق قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:
ولكن ٱللَّهَ حبب اليكم الايمان وزينه في قلوبكم مگر اللہ نے ایمان کو تمھارے لئے محبوب بنا دیا اور اس وكره اليكم الكفر والفسوق والعصيان کو تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور تمھارے لئے کفر
اولئك هم الراشدون (الحجرات ۷) اور فسق اور نافرمانی کو قابل نفرت بنا دیا۔ راہ راست والے ہیں۔
اس آیت کو ہم اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب کہ اس کو ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں رکھ کر دیکھیں جب کہ اصحابِ رسول کے ایمان کا واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے دکھائی دینے والے خداؤں کے ہجوم میں دکھائی نہ دینے والے خدا کو پایا اور اس کو اپنا سب کچھ بنا لیا۔ عظمت کے مناروں کے درمیان انھوں نے عظمتوں سے خالی پیغمبر کو پہچانا اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا۔ ایک دین غریب (اجنبی دین) اپنی ساری بے سرد سامانی کے باوجود ان کی نظر میں اتنا محبوب ہو گیا کہ اس کی خاطر کوئی بھی قربانی کرنا ان کے لیے مشکل نہ رہا۔ خلاصہ یہ کہ انھوں نے ایک ایسی سچائی کو دیکھ لیا جو ابھی مجرد روپ میں تھی، جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ جو ابھی قومی فخر کا نشان نہیں بنا تھا، جس میں اپنا سب کچھ دے دینا تھا۔ میں اس کے بدلے کچھ بھی پانا نہ تھا۔
اس معاملہ کی ایک نمائندہ مثال وہ ہے جو ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ کے وقت پیش آئی۔ اس زمانہ میں جب کہ مکہ میں اسلام کے حالات بے حد تنگ ہو چکے تھے، مدینہ میں کچھ مسلمانوں کی تبلیغ سے اسلام حتی کہ ہر گھر میں داخل ہو گیا۔ اس وقت مدینہ کے کچھ لوگوں نے طے کیا کہ وہ مکہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نصرت کی بیعت کریں اور آپ کو مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کی دعوت دیں۔ حضرت جابر انصاری کہتے ہیں کہ جب مدینہ کے گھر گھر میں اسلام پہنچ گیا تو ہم نے مشورہ کیا کہ آخر کب تک ہم اللہ کے رسول کو اس حال میں چھوڑے رکھیں کہ آپ مکہ کے پہاڑوں میں پریشان اور ڈرے سہمے پھرتے رہیں (ثم انتم واجمیعا عاقلنا حتی متى نترك رسول الله يطوف ويطرد في جبال مكة ويخاف) رسول اللہ کا بے یار و مددگار ہونا ظاہر بینوں کے لئے اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہی نہیں۔ اگر اللہ کے رسول ہوتے تو آپ کی یہ حالت کیوں ہوتی۔ مگر اہل مدینہ نے آپ کے معاملہ کو حقیقت کی نظر سے دیکھا۔ انھوں نے یہ راز پا لیا کہ آپ کا معاملہ ایک خدائی معاملہ ہے اور آپ کی مدد کر کے وہ خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔
بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر مدینہ کے ستر سے کچھ اوپر نمائندوں نے مکہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت کیسے نازک حالات میں ہوئی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس وفد کے ایک رکن کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے مکہ کے لئے اس طرح روانہ ہوئے کہ ہمارا قبیلہ جو حسب معمول زیارت کعبہ کے لئے جا رہا تھا اس کے ساتھ خاموشی سے حج کے نام پر شریک ہو گئے۔ مکہ کے قریب قبیلہ والوں نے پڑاؤ ڈالا۔ رات کے وقت ہم دوسروں کی طرح ان کے ساتھ سو گئے۔ یہاں تک کہ جب رات کا تہائی
اولئک ھم الراشدون (الحجرات 7) اور فسق اور نافرمانی کو قابلِ نفرت بنا دیا۔ راہِ راست والے ہیں۔
اس آیت کو ہم اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب کہ اس کو ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں رکھ کر دیکھیں، جب کہ اصحابِ رسول کے ایمان کا واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے دکھائی دینے والے خداؤں کے ہجوم میں دکھائی نہ دینے والے خدا کو پایا اور اس کو اپنا سب کچھ بنا لیا۔ عظمت کے مناروں کے درمیان انھوں نے عظمتوں سے خالی پیغمبر کو پہچانا اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا۔ ایک دین غریب (اجنبی دین) اپنی ساری بے سرد سامانی کے باوجود ان کی نظر میں اتنا محبوب ہو گیا کہ اس کی خاطر کوئی بھی قربانی کرنا ان کے لیے مشکل نہ رہا۔ خلاصہ یہ کہ انھوں نے ایک ایسی سچائی کو دیکھ لیا جو ابھی مجرد روپ میں تھی، جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ جو ابھی قومی فخر کا نشان نہیں بنا تھا اور جس میں اپنا سب کچھ دے دینا تھا۔ میں اس کے بدلے کچھ بھی پانا نہ تھا۔
اس معاملہ کی ایک نمائندہ مثال وہ ہے جو ہجرت سے پہلے بیعتِ عقبہ ثانیہ کے وقت پیش آئی۔ اس زمانہ میں جب کہ مکہ میں اسلام کے حالات بے حد تنگ ہو چکے تھے، مدینہ میں کچھ مسلمانوں کی تبلیغ سے اسلام حتیٰ کہ ہر گھر میں داخل ہو گیا۔ اس وقت مدینہ کے کچھ لوگوں نے طے کیا کہ وہ مکہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نصرت کی بیعت کریں اور آپ کو مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کی دعوت دیں۔ حضرت جابر انصاری کہتے ہیں کہ جب مدینہ کے گھر گھر میں اسلام پہنچ گیا تو ہم نے مشورہ کیا کہ آخر کب تک ہم اللہ کے رسول کو اس حال میں چھوڑے رکھیں کہ آپ مکہ کے پہاڑوں میں پریشان اور ڈرے سہمے پھرتے رہیں (ثم ائتمرو جمیعا فقلنا حتیٰ متی نترك رسول الله يطوف ويطرد فى جبال مكة ويخاف) رسول اللہ کا بے یار و مددگار ہونا ظاہر بینوں کے لئے اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہی نہیں۔ اگسا اللہ کے رسول ہوتے تو آپ کی یہ حالت کیوں ہوتی۔ مگر اہل مدینہ نے آپ کے معاملہ کو حقیقت کی نظر سے دیکھا۔ انھوں نے یہ راز پا لیا کہ آپ کا معاملہ ایک خدائی معاملہ ہے اور آپ کی مدد کر کے وہ خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔
بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر مدینہ کے ستر سے کچھ اوپر نمائندوں نے مکہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت کیسے نازک حالات میں ہوئی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس وفد کے ایک رکن کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے مکہ کے لئے اس طرح روانہ ہوئے کہ ہمارا قبیلہ جو حسبِ معمول زیارتِ کعبہ کے لئے جا رہا تھا اس کے ساتھ خاموشی سے حج کے نام پر شریک ہو گئے۔ مکہ کے قریب قبیلہ والوں نے پڑاؤ ڈالا۔ رات کے وقت ہم دوسروں کی طرح ان کے ساتھ سو گئے۔ یہاں تک کہ جب رات کا تہائی
حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ کی قرار داد کے مطابق اپنے بستروں سے خاموشی کے ساتھ اٹھے، اور مقام موعود کی طرف اس طرح چلے جیسے چڑیا جھاڑیوں میں آہستہ آہستہ چھپتی ہوئی چلتی ہے (تسلسل القطا مستخفيین، سیرة ابن هشام ، جز رشثانی، صفحه ۴۹)
وہ لمحہ بھی کیسا عجیب تھا جب کہ ایک دنیا پیغمبر کو رد کر چکی تھی ، اس وقت کچھ لوگ اس کو قبول کرنے کے لئے سبقت کر رہے تھے، یہ وہ وقت تھا کہ پیغمبر سے ان کا وطن چھینا جا چکا تھا۔ طائف سے انہیں پتھر مار کر بھگا دیا گیا تھا۔ تمام قبائل نے آپ کو پناہ میں لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں مدینہ کے لوگوں نے آپ کی صداقت کو پہچانا اور آپ کی پکار پر لبیک کہا۔ اس وقت جب کہ انصار مدینہ بیعت کے لئے بڑھے، ایک شخص نے اٹھ کر کہا، کیا تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو۔ یہ اپنے اموال اور اپنی اولاد کو ہلاک کرنے پر بیعت کرنا ہے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ ہم علی نھكة الاموال والاولاد بیعت کر رہے ہیں پھر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہم نے اس عہد بیعت کو آخر تک پورا کر دیا تو ہمارے لئے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا جنت۔ انھوں نے کہا، اپنا ہاتھ لائیے، ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو اس طرح ایک متنازعہ صداقت کے حوالے کرنا، اپنا سب کچھ اس طرح ایک غیر قائم شدہ حق کو سونپ دینا اتنا انوکھا واقعہ ہے کہ وہ اجتماعی سطح پر تاریخ میں صرف ایک ہی بار پیش آیا ہے، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔