Al-Risala · September 1982

غير متعلق مسائل سے تعرض نہ کرنا

Al-Risala, September 1982, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو عرب میں وہ تمام مسائل پوری طرح موجود تھے جن کو موجودہ زمانہ میں قومی مسائل کہا جاتا ہے اور جن مسائل کے نام پر عام طور پر دنیا میں تحریکیں اٹھتی ہیں۔ ذہین افراد کو متاثر کرتے ہیں اور وہ ان کا نعرہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ تمام مسائل موجود تھے لیکن آپ نے ان سے مطلق تعرض نہیں کیا۔ اگر آپ ان مسائل میں الجھتے تو یہ خدا کے منصوبہ میں اپنے کو شامل کرنا نہ ہوتا۔ وہ سارے مواقع جو ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں پیدا کئے گئے تھے برباد ہو کر رہ جاتے۔

حبش نے ۶۵۲ میں عرب کے سرحدی علاقہ یمن پر قبضہ کر لیا تھا۔ ابر ہہ اس زمانہ میں شاہ حبش کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ ابرہہ کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (۵۷۰ء) میں اس نے ہاتھیوں کی فوج سے مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا دے اور مکہ کی مرکزی حیثیت کو ختم کر دے۔ ۵۰ سالہ قبضہ کے بعد یمن پر حبش کی حکومت ختم ہوئی اور اس پر شاہ فارس کی حکومت

قائم گئی جس کی طرف سے باذان یمن کا گورنر مقرر ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اور اس کی خبر کسریٰ (شاہ فارس) کو پہنچی تو اس نے باذان کو لکھا کہ اس آدمی کے پاس جاؤ جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے کہو کہ وہ اس دعویٰ سے باز آئے۔ اگر وہ باز نہ آئے تو اس کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیجو( (والا فابعث الی براسه سیرہ ابن هشام)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں ظاہر ہوئے تو اس وقت عرب کی سرحدوں پر غیر ملکی قبضہ نے کیسے سنگین مسائل پیدا کر رکھے تھے۔ ان حالات میں ایک صورت یہ تھی کہ آپ اپنے ہم قوموں کو غیر ملکی قبضہ کے خلاف اکساتے اور اس کے خلاف جنگ چھیڑ دیتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو یہ خدا کے منصوبے سے انحراف کے ہم معنی ہوتا۔ کیونکہ خدا کا منصوبہ تو یہ تھا کہ لوگوں سے غیر متعلق امور پر ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ خاموشی سے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا جائے۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور تاریخ نے دیکھا کہ بالآخر خود باذان نے اسلام قبول کر لیا اور یمن کے عیسائی باشندوں کی اکثریت نے بھی ہو ۔ مقصد ایک قومی لیڈر ناکام طور پر سیاسی کارروائیوں کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا وہ آپ نے کامیاب طور پر دعوتی کارروائی کے ذریعہ حاصل کر لیا۔

ابو طالب کی وفات کے بعد قبائلی رسم کے مطابق بنو ہاشم کا سردار ابو لہب مقرر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حمایت میں لینے سے انکار کر دیا۔ اب آپ کو کسی دوسرے حمایتی قبیلہ کی ضرورت پیش آئی۔ آپ حمایتی کی تلاش میں مختلف قبائل کے پاس گئے۔ عرب کا ایک سرحدی قبیلہ بنوشیبان بن ثعلبہ تھا۔ آپ اس سے ملے تو قبیلہ کے سردار مثنیٰ بن حارثہ نے کہا کہ ہم کسریٰ (شاہ فارس) کی مملکت کے قریب وہاں ہم ایک معاہدہ کے تحت مقیم ہیں جو کسریٰ نے ہم سے لیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم کوئی نئی بات نہ کریں گے اور نہ کسی نئی بات کرنے والے کو پناہ دیں گے۔ اور شاید بادشاہوں کو وہ بات ناپسند ہو جس کی طرف آپ بلاتے ہیں (ان لا تحدث حدا ولا نووی محد تا۔ وعلی هذا الامر الذي تدعو اليه تكرهه الملوک، سيرة ابن كثير)

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اطراف عرب میں بیرونی سلطنتوں کے نفوذ نے جو مسائل پیدا کئے تھے وہ صرف سیاسی یا ملکی ہی نہ تھے بلکہ دعوت و تبلیغ کے معاملہ تک بھی پہنچ گئے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے ایسا نہیں کیا کہ یہ کہہ کر پہلے مرحلہ ہی میں ان سے لڑائی چھیڑ دیں کہ جب تک یہ خارجی رکاوٹیں دور نہ ہوں کوئی دعوتی کام نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ اول مرحلہ میں ان خارجی طاقتوں سے لڑ جاتے تو یہ خدائی منصوبہ کے کیونکہ خدائی منصوبہ تو یہ تھا کہ روم و فارس کو آپس میں بیس سال تک لڑا کر بالکل کمزور کر دیا

جائے اور پھر خود انھیں پر جارحیت کا الزام ڈال کر مسلمانوں کے لئے ان کو فتح کرنا آسان بنا دیا جائے۔ اگر مسلمان ابتدائی مرحلہ میں روم و فارس سے لڑ جاتے تو وہ نتیجہ بالکل برعکس صورت میں نکلتا جو بعد کے تصادم کے ذریعہ حیرت انگیز غیر ملکی فتوحات کی صورت میں برآمد ہوا۔

Printed page