Al-Risala · September 1982

خدائی منصوبہ سے مطابقت

Al-Risala, September 1982, pp. 18–21

By Maulana Wahiduddin Khan

کسان کا معاملہ قدرت کے کاگ (دندانہ) میں اپنا کاگ دینے کا معاملہ ہے۔ خدا نے ہماری زمین پر فصل اگانے کے بہترین امکانات پیدا کئے ہیں۔ مگر ان امکانات کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کے لئے کسان کو ایک حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر زمین کی سطح پر زرخیز مٹی (Soil) کی تہ رکھی گئی ہے جو معلوم کائنات میں کسی بھی دوسرے مقام پر نہیں۔ مگر تمام زرخیزی کے باوجود ا مٹی سے فصل اسی وقت اگتی ہے جب کہ اس میں نمی بھی ہو۔ اس نمی کے نہ ہونے کی وجہ سے خشک علاقوں کے صحرا چٹیل بیابان بن کر رہ گئے ہیں، اس حقیقت کو قدرت لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کر کے نہیں بتاتی بلکہ خاموش اشارہ کی زبان میں بتاتی ہے۔ کو اس سے خاموش اشارہ کی زبان میں جاننا پڑتا ہے۔ چنانچہ کسان یہ کرتا ہے کہ وہ یا تو بارش سے نم ہونے والی زمین میں اپنی فصل ہوتا ہے یا آب پاشی کے ذریعہ پہلے اس میں نمی پہنچاتا ہے، پھر اپنا دانہ اس میں ڈالتا ہے ۔ یہی معاملہ داعی کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عرب میں اگر چہ بہترین حالات پیدا کر دیے گئے تھے اس کے باوجود ضروری تھا کہ آپ ربانی حکمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے کام کو آگے بڑھائیں۔ اگر آپ کا منصوبہ خدائی منصوبہ کی رعایت کے بغیر چلتا تو آپ کو کبھی وہ کامیابی حاصل نہ ہوتی جو عملاً آپ کو حاصل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا بنیادی اصول یہ تھا کہ دعوتی عمل میں ساری اہمیت مسئلہ آخرت کو دی جائے۔ مسئلہ دنیا کو کسی بھی حال میں دعوت کا اشونہ بنایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی مسئلہ انسان کا ابدی اور حقیقی مسئلہ ہے۔ دوسرے تمام مسائل وقتی اور اضافی مسئلے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کے بغیر انسان کی کامیابی بھی اتنی ہی بے معنی ہے جتنی کہ اس کی ناکامی بے معنی۔

دوسری بات یہ کہ انسانی زندگی میں ہر قسم کی کامیابی کا تعلق افراد کے کردار سے ہے۔ کے اندر حقیقی اور مستقل کردار صرف آخرت پر گہرے یقین ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ عقیدہ آخرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزاد اور خود مختار نہیں ہے، بلکہ وہ ہر آن خدا کی پکڑ میں ہے۔ یہ عقیدہ آدمی سے بے راہ روی کا مزاج چھین لیتا ہے اور اس کو پابند اور ذمہ دار انسان بنا دیتا ہے۔ قرآن وحدیث کو اگر خالی الذہن ہو کر پڑھا جائے تو اس میں آخرت کا مسئلہ سب سے زیادہ ابھرا ہوا مسئلہ نظر آئے گا۔ دوسرے مسئلوں کا ذکر بھی اگر چہ آتا ہے مگر وہ ضمناً ہے نہ اصلاً۔

دوسری بات یہ کہ داعی اور مدعو کے درمیان کسی بھی حال میں کوئی مادی جھگڑا نہ کھڑا کیا جائے ۔ مدعو کو کسی بھی حال میں فریق نہ بننے دیا جائے، خواہ اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس حکمت کی ایک نمایاں مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ قریش نے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ کر یہ صورت حال پیدا کر دی تھی کہ مسلم گروہ اور غیر مسلم گروہ دونوں ایک دوسرے کے جنگی فریق بن گئے تھے۔ تمام وقت جنگ کی باتوں اور جنگ کی تیاریوں میں گزرنے لگا تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ہر مطالبہ کو مانتے ہوئے ان سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا۔ یہ معاہدہ اس قدر یک طرفہ تھا کہ بہت سے مسلمانوں نے اس کو ذلت کا معاہدہ سمجھا، مگر خدا کے نزدیک وہ فتح مبین (الفتح ۱) کا دروازہ تھا۔ کیونکہ اس کے ذریعہ جنگی مقابلہ آرائی کی فضا ختم ہوتی تھی اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال ہو رہا تھا۔ چنانچہ اس معاہدہ کے بعد جیسے ہی اہل عرب جنگی فریق کے بجائے مدعو کے مقام پر آئے، ان کے درمیان دعوت حق کی آواز پھیلنے لگی۔ یہاں تک کہ صرف دو سال میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دس گنا بڑھ گئی۔ جو کہ جنگ سے فتح ہوتا نظر نہ آتا تھا وہ دعوتی عمل کے ذریعہ مسخر ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ عمل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مدعو پر قابو پانے کے باوجود اس کے ساتھ فراخی کا سلوک کیا جائے۔ اس معاملہ کی مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں پھیلی فتح مکہ کے بعد قریش کے تمام وہ لوگ پوری طرح آپ کے قابو میں تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ اور مسلمانوں کے ساتھ بدترین ظلم کئے تھے۔ مگر آپ نے ماضی کے جرائم کی بنیاد پر کسی کو سزا نہ دی۔ یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ قریش کے لوگ جب بندھے ہوئے آپ کے سامنے حاضر کئے گئے تو آپ نے فرمایا: اذهبوا فانتم الطلقاء (جاؤ تم سب آزاد ہو) کچھ لوگوں کے بارے میں آپ نے وقتی طور پر قتل کئے جانے کا حکم دے دیا۔ مگر اس کے بعد ان میں سے بھی ہر اس شخص کو معاف کر دیا گیا جب کہ اس نے یا اس کی طرف سے کسی نے آکر آپ سے جان بخشی کی درخواست کی۔ اس قسم کے سترہ نامزد آدمیوں میں سے صرف پانچ کو قتل کیا گیا جنہوں نے معافی نہیں مانگی تھی۔ احد کی جنگ میں وحشی بن حرب نے حضرت حمزہ کو قتل کر دیا ۔ اس کے بعد ہند بنت عتبہ نے آپ کی لاش کو لے کر اس کا مثلہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو وقتی طور پر آپ کی زبان سے نکل گیا کہ اگر اللہ نے مجھے ان کے اوپر فتح دی تو میں ان کے تین آدمیوں کا مثلہ کروں گا (لئِن أظهرني الله عليهم لأمثلنَّ ‌بثلاثين رجلاً منهم ، تفسیر ابن کثیر، جلد ثانی، صفحه ۳۵۲) فتح مکہ کے بعد آپ نے جن سترہ آدمیوں کے قتل کا حکم دیا تھا ان میں وحشی اور ہند دونوں شامل تھے۔ مگر دونوں نے جب آپ کی خدمت میں آکر معافی مانگی تو دونوں کو معاف کر دیا گیا۔ کیونکہ یہی طریقہ منصوبہ الہی کے مطابق تھا۔

یہ اصول بے حد اہم حکمت پر مابنی ہے۔ انسان پتھر نہیں ہے کہ ایک پتھر کو توڑ دیا جائے تو اس کے دوسرے قریبی پتھر توڑنے والے کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہ کریں۔ انسان زندہ معاشرہ کا ایک زندہ جزو جب بھی ایک انسان پر جارحانہ کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے قریبی لوگوں میں انتقام کا جذبہ بھڑک اس طرح سماج میں تخریبی کارروائیاں جنم لیتی ہیں۔ فتح کے بعد جو وقت نئی تعمیر میں لگتا وہ تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے میں صرف ہونے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد پچھلے مخالفین کو عمومی معافی دے کر آئندہ کے لئے ہر قسم کی تخریبی سرگرمیوں کا دروازہ بند کر دیا۔ مزید یہ کہ ان کی اکثریت اسلام قبول کر کے اسلام کی طاقت کا ذریعہ بن گئی، جیسے کہ عکرمہ بن ابی جہل۔

فتح وغلبہ حاصل کرنے کے بعد اجتماعی معاملات کی اصلاح کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد بازی کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا بلکہ صبر وتدریج کے ذریعہ اصلاحات کا نفاذ کیا۔ مکہ کے قریش دین ابراہیمی کے وارث تھے۔ مگر انہوں نے اصل دین ابراہیمی کو بگاڑ دیا اور اس میں بہت سی بدعتیں جاری کردیں۔ مثلاً حضرت ابراہیم نے حج کو قمری مہینوں کی بنیاد پر ذی الحجہ میں قائم کیا تھا۔ سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قمری مہینوں کی مطابقت موسموں کے ساتھ باقی نہیں چنانچہ حج کبھی ایک موسم میں آتا اور کبھی دوسرے موسم میں۔ یہ صورتِ قریش کے تجارتی مفاد کے خلاف تھی۔ انہوں نے حج کو ہمیشہ گرمی کے موسم میں رکھنے کے لئے نسی (کبیسہ) کا طریقہ اختیار کر لیا۔ وہ قمری مہینوں میں ہر سال گیارہ دن بڑھا دیتے۔ اس طرح نام اگر چہ قمری مہینوں کا ہوتا مگر عملاً اس کا سال شمسی سال کے ساتھ چلتا۔ اس کی وجہ سے تاریخیں ۳۳ سال تک کے لئے بدل جاتیں، ایک بار مہینوں کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے بعد دوبارہ ۳۳ سال پر ایسا ہوتا کہ حج ابراہیمی طریقہ کے مطابق اصل ذی الحجہ میں پڑتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مامور تھے کہ وہ قریش کی بدعتوں کو ختم کر کے حج کو دوبارہ ابراہیمی طریقہ پر قائم کریں۔ (رمضان ۸ھ) کے بعد آپ عرب کے حکمراں بن گئے۔ آپ ایسا کر سکتے تھے کہ نسی کی بدعت کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیں۔ مگر آپ نے صبر سے کام لیا۔ اس وقت نسی کے ۳۳ سالہ دور کو پورا ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔ آپ نے دو سال انتظار فرمایا۔ مکہ کے فاتح ہونے کے باوجود دو سال آپ حج کے لئے نہیں گئے۔ آپ نے صرف تیسرے سال (۱۰ھ) حج کی عبادت میں شرکت کی جو کہ ۳۳ سالہ دور کو پورا کر کے ٹھیک ابراہیمی تاریخ پر ذی الحجہ میں ہو رہا تھا۔ اس وقت مشہور حجتہ الوداع میں آپ نے اعلان فرما دیا کہ اس سال حج جس طرح ہو رہا ہے اسی طرح اب ہر سال ہوگا۔ اب نسی کا اصول ہمیشہ کے لئے ختم کیا جاتا ہے۔ یہی بات ہے جو حبتہ الوداع کے خطبہ میں آپ نے ان الفاظ میں ادا فرمائی:

ایھا الناس ان الزمان قد استد ار هو اليوم اے لوگو زمانہ گھوم گیا۔ پس آج کے دن وہ اپنی اسی کھیتہ يوم خلق الله السموات والارض، وان ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین و آسمان کو عدۃ الشهور عند الله اثنا عشر شهداً پیدا کیا تھا۔ اور مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک (ابن جریر و ابن مردويه) ۱۲ مہینے ہیں۔

اس تاخیر میں بہت گہری مصلحت تھی۔ کیونکہ مذہب میں جب کوئی طریقہ عرصہ تک رائج رہے تو وہ مقدس بن جاتا ہے۔ لوگوں کے لئے اس کے خلاف سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چونکہ دو سال بعد خود ہی حج ان تاریخوں پر آرہا تھا جو آپ چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے قبل از وقت اقدام کر کے غیر ضروری مسئلہ کھڑا کرنے سے پرہیز جب فطری رفتار سے حج اپنی اصل تاریخ پر آگیا تو آپ نے اعلان فرما دیا کہ یہی حج کی اصل تاریخ ہے اور آئندہ اب انھیں تاریخوں میں حج ہوتا رہے گا۔

یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنی پوری تحریک میں ربانی حکمت کو ملحوظ رکھا۔ آپ نے خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملایا، آپ نے خدائی منصوبہ سے موافقت کرتے ہوئے تمام کارروائیاں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی کوششوں کے عظیم الشان نتائج

Printed page