دور جدید میں اسلامی دعوت
Al-Risala, September 1982, pp. 21–35
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کی دعوت کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ایک، پیغمبر آخر الزماں کے ظہور سے دوسرا، پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد۔ آپ سے پہلے خدا کی جو کتابیں آئیں ان کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان لوگوں پر ڈالی گئی تھی جن کی طرف وہ کتابیں بھیجی گئی تھیں۔ اس لئے ان کے بارے میں استحفاظ (حفاظت طلب کرنا) کا لفظ آیا ہے (بما استحفظوا من كتاب الله وكانوا عليه شُهَدَآءَۚﵞ مائدہ ۴۴) مگر قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود اپنے ہاتھ میں لے لی (انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحافظون، الحجر (۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مامور تھے کہ شرک کو مغلوب کریں اور توحید کو غالب و منکر کی حیثیت سے دنیا میں رائج کردیں (الانفال (۳۹) یہ کام صرف خدا کی نصرت سے ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ حالات پیدا کئے جن کو استعمال کر کے آپ نے شرک کو مغلوب کیا اور توحید کو فکری غلبہ کے مقام پر پہنچایا۔
رسول اور اصحاب رسول کی کوششوں کے نتیجہ میں شرک ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو گیا۔
اس کی کوئی امید نہیں کہ شرک دوبارہ ایک غالب فکر کی حیثیت سے دنیا میں ابھر سکے۔ تاہم موجودہ زمانہ میں دوبارہ یہ واقعہ ہوا کہ توحید نے غالب فکر کی حیثیت سے اپنا مقام کھو دیا۔ آج ساری دنیا میں الحاد کو غالب فکر کی حیثیت حاصل ہے۔ بے خدا ذہن یا سکولر طرزِ فکر آج دنیا کا غالب فکر ہے۔ اس کے مقابلہ میں توحید کا فکر عملاً دوسرے درجہ پر چلا گیا ہے۔
موجودہ زمانہ میں کرنے کا اصل کام یہی ہے کہ ملحدانہ طرزِ فکر کو مغلوب کیا جائے تاکہ توحید اپنا غلبہ کا مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔ اللہ تعالیٰ کو یقیناً معلوم تھا کہ آئندہ دور الحاد آنے والا ہے۔ اس لیے اس کی نصرت دوبارہ متحرک ہوئی۔ پچھلے ہزار سالہ عمل کے دوران اس نے دوبارہ ایسے حالات پیدا کرنے شروع کئے جو بالآخر دعوت توحید کے لئے معاون بن سکیں۔ یہ عمل اب اپنی تکمیل کے مرحلہ میں پہنچ گیا ہے۔ بظاہر الحاد کا فکری غلبہ ہے۔ مگر وہ حالات پوری طرح پیدا ہو چکے ہیں جن کو استعمال کر کے دوبارہ توحید کو فکری غلبہ کا مقام دیا جا سکے ۔
پہلے مرحلہ میں غلبہ توحید کا کام دعوت کے بعد طاقت کے ذریعہ انجام پایا (وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، البقره ۱۹۳، بل نقذف بالحق على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق، الانبيار (۱۸) مگر دوسرے مرحلہ میں یہ کام تبیین و تبلیغ کے ذریعہ انجام پانا ہے، جیسا کہ قرآن کے اشارہ سے معلوم ہوتا ہے : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے دنیا میں بھی اور يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ ان کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ یہ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (حم سجده ۵۳) (قرآن) بالکل حق ہے۔ کیا تیرے رب کا ہر بات پر شاہد ہونا کافی نہیں موجودہ زمانہ میں ایک زبردست ذہنی انقلاب آیا ہے۔ یہ انقلاب کیا ہے؟ اس کے لئے کوئی دوسرا موزوں لفظ نہ ہونے کی وجہ سے میں اس کو سائنسی انقلاب کہتا ہوں۔ جدید سائنسی انقلاب نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسی فکری تبدیلیاں پیدا کی ہیں جو دعوت توحید کے عین موافق ہیں۔ ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو صرف قلمی و لسانی تبلیغ کے ذریعہ غلبہ توحید کا وہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے لئے اس سے پہلے تلوار اٹھانی پڑی تھی ۔
جدید سائنسی انقلاب در اصل صدر اول کے اسلامی انقلاب کا ایک ضمنی حاصل (By-product) ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی انقلاب کے ذریعہ ایسے اسباب پیدا کئے جنہوں نے تاریخ کے اندر اپنا عمل شروع کیا۔
یہاں تک کہ وہ اس انقلاب تک پہنچا جس کو جدید سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ گویا خدا نے صدر اول میں شرک کے اوپر توحید کو غلبہ دیا تو اسی کے اندر وہ اسباب بھی پیدا کر دئے جو بعد کے زمانہ میں الحاد پر توحید کو غالب کرنے میں مددگار بن سکیں۔
اسلام کے ذریعہ آنے والے توحیدی انقلاب سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ شرک در اصل مظاہر پرستی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کی ہر چیز جو نمایاں نظر آئی اسی کو انسان نے پوجنا شروع کر دیا، خواہ وہ آسمان کا سورج ہو یا زمین کا بادشاہ۔ اس کی وجہ سے دور شرک میں سائنسی تحقیق کا کام ممکن نہ ہو سکا۔ آرنلڈ ٹوائن بی کے الفاظ میں، فطرت کے مظاہر اس وقت پرستش کا موضوع (Object of Worship) بنے ہوئے تھے، پھر وہ تحقیق کا موضوع (Object of Investigation) کیسے بنتے۔ اسلام نے شرک کو مغلوب کرکے توحید کو غالب کیا تو ایک خدا کے سوا ہر چیز مخلوق نظر آنے لگی، اس انقلاب نے یہ ممکن بنا دیا کہ چیزوں پر تحقیق کا عمل جاری کیا جا سکے۔ یہ عمل ابتدائی صورت میں دور اول ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ ایک بار چاند گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ وہ کسی بڑے آدمی کی پیدائش یا موت کی بنا پر نہیں ہوتے۔ آپ نے مادی بڑائی کی بھی نفی کردی اور انسانی بڑائی کی بھی۔ یہ فکری لہر عقیدہ سے الگ ہو کر یورپ پہنچی اور بالآخر جدید انقلاب کا سبب بنی۔
اس انقلاب کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ توہماتی دور کا خاتمہ ہو گیا۔ توہم پرستی کیا ہے۔ نام ہے حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے بجائے مفروضات وقیاسات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کا۔ مثلاً یہ فرض کر لینا کہ جب کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو سورج یا چاند گہنا جاتے ہیں)۔ یہ ذہن اسلام کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایسا آدمی حقائق واقعی کی بنیاد پر اسلام اور غیر اسلام کا جائزہ نہیں لیتا بلکہ پیشگی مفروضات کی بنیاد پر بلا دلیل ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط مان لیتا ہے۔ اسلام تاریخی طور پر ایک مستند دین ہے اور دیگر تمام مذاہب تاریخی استناد سے محروم ہیں۔ کے دور میں انسان اس کو اہمیت نہیں دے پاتا تھا۔ جدید دور نے اس کو پوری اہمیت کے ساتھ لیا۔ موجودہ زمانہ میں تنقید عالیہ (Higher Criticism) کے نام سے ایک مستقل فن وجود میں آ گیا ہے۔ فن کے تحت یہ حقیقت پوری طرح مسلم ہو گئی ہے کہ تاریخی طور پر معتبر دین صرف اسلام ہے۔ ادیان کو تاریخی اعتبار یت کا درجہ حاصل نہیں۔
سائنسی ذہن نے کائنات کو تجربہ اور مشاہدہ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کی۔
نتیجہ میں کائنات میں چھپے ہوئے ایسے فطری حقائق انسان کے علم میں آئے جو اسلام کی تعلیمات کی تصدیق اعلیٰ سطح پر کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انسان کی تحقیق نے بتایا کہ کائنات میں ہر جگہ ایک ہی قانونِ فطرت جو قانون زمین کے احوال پر حکمراں ہے وہی قانون کائنات کے دور دراز مقامات پر بھی حکمراں اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک ہے۔ دو خدا یا بہت سے خداؤں کی اس کائنات میں گنجائش نہیں۔
دین توحید کو قدیم زمانہ میں اختیار کرنے کے لئے، ایک علمی رکاوٹ، قدیم فلسفہ بھی تھا۔ زمانہ میں فلسفہ کو غالب علم کا مقام حاصل تھا۔ تعلیم یافتہ طبقہ کے سوچنے کی ذہنی زمین اس زمانہ میں فلسفہ ہوتا اس کے نتیجہ میں دین توحید کی راہ میں ایک بہت بڑی مصنوعی رکاوٹ حائل ہوگئی تھی۔ قدیم فلسفہ کا آخری نشانہ ہمیشہ سے آخری سچائی کی تلاش رہا ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً پانچ ہزار سال کی شان دار تاریخ کے باوجود فلسفہ اپنے نشانہ تک پہنچنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسفہ انسان کی محدودیتوں (Limitations) کا ادراک نہ کر سکا۔ سچائی تک پہنچنے کے لئے ساری کوششیں صرف کرتا رہا۔ جب کہ انسان اپنی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے بطور خود آخری سچائی تک پہنچ ہی نہ سکتا تھا۔
اس فلسفیانہ طرزِ فکر کی وجہ سے ہزاروں برس تک انسان یہ چاہتا رہا کہ دین توحید کی بنیاد جن اساسی عقائد پر قائم ہے اس کو انسان کے لئے مکمل طور پر معلوم اور مشاہد بنا دیا جائے۔ مگر یہ تمام غیبی حقیقتیں تھیں اور انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ ان غیبی حقیقتوں کا کامل ادراک نہیں کر سکتا۔ جدید سائنس کا، دینی نقطہ نظر سے، سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اس مفروضہ کو ڈھا دیا۔ نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی صلاحیتیں محدود ہیں۔ وہ اپنی محدودیت کی وجہ سے حقیقت کا کلی ادراک نہیں کر سکتا۔ قدیم فلسفہ کی پیدا کردہ ذہنی زمین اب ساری دنیا میں دفاعی حیثیت کے مقام پر جا چکی ہے اور اب سائنس کی دریافت کردہ ذہنی زمین کو علمی دنیا میں غالب مقام حاصل ہے۔ ذہن کی اس تبدیلی نے دین توحید کے لئے راستہ صاف کر دیا ہے۔ اب اس نقطہ نظر کو، کم از کم بالواسطہ طور پر، مکمل علمی تائید حاصل ہے کہ انسان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ حقیقت اعلیٰ کو پانے کے لئے وہ پیغمبر کی اطلاع کا اعتبار کرے۔ اب یہ مطالبہ سراسر غیر علمی مطالبہ بن چکا ہے کہ خدا اور وحی اور آخرت کو ہماری آنکھوں سے ہمیں دکھاؤ، اس کے بعد ہی ہم اس پر ایمان لائیں گے۔ معلوم تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ خود علم انسانی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کا علم محدود ہے
اور ہمیشہ محدود رہے گا۔ انسان سائنسی ذرائع سے جب کائنات کی کھوج کرتا ہے تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ کائنات اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کہ انسان کا محدود ذہن اس کا احاطہ کر سکے۔ سائنس کی یہ دریافت اسلامی نقطہ نظر سے بے حد اہم ہے ۔ کیونکہ اس سے رسالت کی اہمیت ثابت ہوتی ہے ۔ طرف انسان کا یہ حال ہے کہ وہ حقیقت کو آخری حد تک جان لینا چاہتا ہے ۔ دوسری طرف انسان اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ایسی محدودیت کا شکار ہے کہ وہ کبھی بھی حقیقت کو آخری حد تک نہیں جان سکتا ۔ انسانی زندگی کا یہ خلا واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس کو ایک برتر رہنما کی ضرورت ہے۔ اُسی برتر رہنما کا دوسرا نام پیغمبر ہے۔ انسانی محدودیت کے بارے میں سائنس کے اقرار نے پیغمبر کی ضرورت کو خالص علمی سطح پر ثابت کر دیا ہے۔
قدیم زمانہ میں انسان کو اظہار رائے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ اس کی اصل وجہ بادشاہوں اور بڑے انسانوں کے تقدس کا عقیدہ تھا۔ جو لوگ کسی وجہ سے اونچے مقام پر پہنچ جاتے ان کو مقدس سمجھ لیا جاتا۔ ان کی رائے دوسروں سے برتر مانی جاتی۔ ان کو یہ حق مل جاتا کہ جس طرح چاہیں دوسروں کو اپنی مرضی کا پابند بنائیں۔ توحید کے انقلاب نے انسانی بڑائی کا خاتمہ کیا اور یہ اعلان کیا کہ کسی انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت نہیں۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نئی فکری لہر چل پڑی۔ یہی وہ فکری لہر ہے جس کی سیاسی تکمیل بالآخر یورپ میں جمہوریت کی صورت میں ہوئی۔ جمہوری انقلاب نے تمام انسانوں کو برابر ٹھہرا دیا۔ ہر شخص کے لئے یہ فکری حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق جو چاہے لکھے اور جو اس انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدا کے دین کی تبلیغ اس طرح کی جائے کہ تبلیغ کرنے والے کے لئے کسی طرح کی پکڑ دھکڑ کا اندیشہ نہ ہو۔
سائنس نے آج کے انسان کے لئے خدا کی بہت سی وہ مادی نعمتیں کھولی ہیں جو ہزاروں برس سے کائنات کے اندر چھپی ہوئی تھیں ۔ ان میں اسلامی دعوت کے نقطہ نظر سے سب سے اہم جدید ذرائع پریس، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اسی طرح مختلف قسم کی تیز رفتار سواریاں ۔ یہ چیزیں اسلام کے حق میں عظیم نعمتیں ہیں ۔ ان کو استعمال کر کے اسلامی دعوت کو عالمی سطح پر پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہ مواقع جو عین اسلامی دعوت کے حق میں ہیں، پچھلے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ زمانہ میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے ڈھائی ہزار سالہ عمل کے ذریعہ اسلام کے غلبہ اول کے حالات فراہم کئے، اسی طرح اس نے دوبارہ ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں اسلام کے غلبہ ثانی کے حالات فراہم کر دیئے ہیں۔ یہ حالات خود اپنے زور پر واقعہ نہیں بن جائیں گے ۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کے لئے زندہ
انسانوں کی ایک جماعت درکار ہے۔ ایسی ایک جماعت اگر کھڑی ہو جائے تو قریبی مستقبل میں اسی طرح دوبارہ اسلام کو فکری غلبہ مل سکتا ہے جس طرح قرن اول میں اس کو شرک کے مقابلہ میں فکری غلبہ حاصل
اوپر جن امکانات کا ذکر ہوا وہ تقریباً ایک سو سال سے ایسی کسی جماعت کا انتظار کر رہے ہیں مگر بدقسمتی سے ایسی کوئی جماعت ابھی تک کھڑی نہ ہوسکی۔ اس میں شک نہیں کہ پچھلے سو سال کے اندر ہمارے یہاں بے شمار جماعتیں اور تحریکیں اٹھی ہیں ، مگر یہ تحریکیں وقتی حالات ، خصوصاً سیاسی حالات کے رد عمل کے طور پر اٹھیں نہ کہ اس ربانی شعور کے تحت جو پچھلے ہزار سال سے تاریخ کے اندر کام کرتا رہا ہے اور چودھویں صدی ہجری میں اپنی تکمیل کو پہنچا ہے۔
سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقت ور اہل کفر بظاہر کمز ور اہل ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدت احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے ۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: اللهم ان تهلك هذہ العصابة لا تعبد بعدها في الارض (خدايا اگر یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی)۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بے سرو سامانی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں یہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی ۔ اسی طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لئے ہوئے ہو ، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے ، کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں اور بالا خر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے