Al-Risala · September 1982

اصحابِ رسول

Al-Risala, September 1982, pp. 36–27

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے کہا گیا ہے :

فان آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو وان تولوا فانما هم في شقاق (البقرہ ۱۳۷) تو بے شک وہ ہدایت یاب ہوئے اور اگر وہ منہ موڑیں تو وہ اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ اصحابِ رسول نہ صرف اول الایمان ہیں بلکہ وہی ہمیشہ کے لئے حق کا نمونہ خدا کے یہاں جو ایمان معتبر ہے وہ وہی ایمان ہے جو صحابہ کرام جیسا ایمان ہو۔ دین و ایمان کی کوئی ایسی قسم جو صحابہ کرام کے دین و ایمان سے مختلف ہو، اللہ تعالیٰ کو مطلوب نہیں۔ یہاں صحابہ کرام کی چند خصوصیات مختصراً درج کی جاتی ہیں دین ان کے لئے محبوب ترین گیا تھا اصحابِ رسول کی خصوصیت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ ایمان ان کے لئے ایک محبوب شئے بن گیا تھا (الحجرات ۷)، محبت کسی چیز سے تعلق کا آخری درجہ ہے۔ اور جب کسی چیز سے محبت کے درجہ کا تعلق پیدا ہو جائے تو وہ آدمی کے لئے ہر چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن اس چیز کے بارے میں اس طرح متحرک ہو جاتا ہے کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے اس سے متعلق ہر بات کو جان لیتا ہے ۔ اس کو خواہ معروف معنوں میں کوئی نقشہ کار نہ دیا گیا ہو مگر اس کا ذہن خود بتا دیتا ہے کہ اس کو اپنی محبوب شئے کے لئے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے (التوبہ ۴۶)

محبت کی سطح کے تعلق کا مطلب ہے دل چسپی کی سطح کا تعلق ۔ یعنی یہ کہ آدمی اسلام کے نفع نقصان کو خود اپنا نفع نقصان سمجھنے لگے ۔ اصحابِ رسول کو اسلام سے اسی قسم کا تعلق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ اسلام کے فائدے سے اسی طرح خوش ہوتے تھے جس طرح کوئی شخص اپنے بیٹے کی کامیابی سے خوش ہوتا ہے ۔ اسلام کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اسی طرح بے چین ہو جاتے تھے جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کے متعلق ناخوش گوار خبر سن کر تڑپ اٹھتا ہے اور اس وقت تک اسے چین نہیں آتا جب تک وہ اس کی تلافی نہ کرلے ۔

کسی چیز سے محبت کے درجے کا تعلق پیدا ہو جائے تو آدمی کا ذہن اس کے بارے میں پوری طرح

جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اس کی ضرورت اور تقاضوں کو وہ بتائے بغیر جان لیتا ہے۔ اس کی بات کو پانے کے لئے کوئی نفسیاتی گرہ اس کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ راستے میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے وہ کسی چیز کو عذر نہیں بناتا۔

جب آدمی کسی معاملہ کو اپنا معاملہ سمجھ لے تو اس کے بعد اس کو نہ زیادہ بتانے کی ضرورت ہوتی اور نہ زیادہ سمجھانے کی۔ اس کا قلبی تعلق اس کے لئے ہر دوسری چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ وہ کسی معاوضہ کی امید کے بغیر یک طرفہ طور پر اپنا سب کچھ اس کے لئے لٹا دیتا ہے۔ اس کی خاطر کھونا بھی اس کو پانا معلوم ہوتا ہے۔ اس کی خاطر بے قیمت ہو جانا اس کی نظر میں سب سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے وہ ہر دوسری مصلحت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کے لئے وہ ہر تکلیف کو اس طرح سہہ لیتا ہے جیسے کہ وہ کوئی تکلیف ہی

اصحاب رسول کوئی غیر معمولی انسان نہ تھے۔ وہ کوئی ماورا ئے بشر مخلوق نہیں تھے۔ ان کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ محبت کے درجہ کا تعلق جو عام انسانوں کو صرف اپنے آپ سے ہوتا ہے وہی تعلق ان کو دین و ایمان سے ہو گیا تھا۔ عام آدمی اپنے مستقبل کی تعمیر کو جو اہمیت دیتا ہے وہی اہمیت وہ اسلام کے مستقبل کی تعمیر کو دینے وہ دین کے لئے اپنا حصہ ادا کرنے کو اتنا ہی ضروری سمجھنے لگے تھے جتنا کوئی شخص اپنی ذاتی دلچسپی کے معاملہ میں اپنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو استعمال کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ ان کی یہی خصوصیت تھی کہ وہ تاریخ کے وہ گروہ بنے جس نے اسلام کو عظیم ترین کامیابی کے مقام تک پہنچایا۔

Printed page