پیغمبر کو آغاز تاریخ میں پہچاننا
Al-Risala, September 1982, pp. 27–29
By Maulana Wahiduddin Khan
صحابہ کی یہ انوکھی صفت تھی کہ انھوں نے اپنے ایک معاصر رسول کو پہچانا اور اس کا ساتھ دیا۔ یہ کام اتنا مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں جماعت کی سطح پر صرف ایک بار پیش آیا ہے۔ قدیم تاریخ کے ہر دور میں یہ قصہ پیش آیا کہ رسولوں کے مخاطبین نے ان کا انکار کیا اور ان کا مذاق اڑایا۔ بائبل میں ہے کہ ”تم نے میرے نبیوں کو ناچیز جانا“ یہ نبیوں کو ناچیز جاننے والے کون لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو وحی ورسالت کو مانتے تھے۔ نبیوں کے نام پر ان کے یہاں ادارے قائم تھے اور بڑے بڑے جشن ہوتے تھے۔ مگر یہ سب کچھ قدیم نبیوں کے نام پر ہوتا تھا ۔ جہاں تک وقت کے نبی کا سوال تھا، اس کے لئے ان کے پاس استہزار و تمسخر کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہود نے حضرت مسیح کا انکار کیا، حالانکہ وہ موسیٰ کو مانتے تھے۔ نصاریٰ نے حضرت محمد کا انکار کیا، حالانکہ وہ حضرت مسیح کی پرستش کی حد تک عزت کرتے تھے۔ اسی طرح قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر مارے اور آپ کو گھر سے نکالا، حالانکہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہونے پر فخر کرتے تھے۔
اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم نبی کی نبوت تاریخی روایات کے نتیجہ میں ثابت شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ کسی قوم کے قومی اثاثہ کا ایک لازمی جز نہ ہوتی ہے کسی قوم میں آنے والا نبی اس کے بعد کی نسلوں کے لئے ایک طرح کا مقدس ہیرو بن جاتا ہے۔ اس کو ماننا اپنے قومی تشخص کو قائم کرنے کے ہم معنی ظاہر ہے کہ ایسے نبی کو کون نہیں مانے گا۔ مگر وقت کے نبی کی نبوت ایک متنازعہ نبوت ہوتی ہے۔ وہ التباس کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کو ماننے کے لئے ظواہر کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کا ساتھ دینے کے لئے اپنی انا کو دفن کرنا ہوتا ہے۔ اس کے مشن کی راہ میں اپنا سرمایہ خرچ کرنا ایک ایسے مشن کی راہ میں اپنا سرمایہ خرچ کرنا ہوتا ہے جس کا برسر حق ہونا بھی اختلافی ہو، جس کے بارے میں تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہ ہوئی ہوں۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنہوں نے معاصر رسول کو اس طرح مانا جس طرح کوئی شخص تاریخی رسول کو مانتا ہے۔
غزوہ خندق میں جب محاصرہ شدید ہوا اور معمولی ضروریات کی فراہمی نا ممکن ہوگئی تو ایک مسلمان کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا کہ محمد ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ ہم کسریٰ اور قیصر کے خزانے حاصل کریں گے اور اب یہ حال ہے کہ ہمارا ایک شخص بیت الخلا جانے کے لئے بھی محفوظ نہیں (کان محمد یعد نا ان ناکل کنوز کسریٰ و قیصر و احدنا لا یأمن ان یذهب الی الغائط ، سیرۃ ابن ہشام جز وثانی صفحہ ۴۱۴) غزوہ خندق کے وقت رسول اللہ کا وعدہ محض ایک لفظی وعدہ تھا، آج یہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے۔ صحابہ نے اس وعدہ کے تاریخی واقعہ بننے سے پہلے رسول کی عظمت کو مانا۔ ہم آج اس وعدہ کے تاریخی واقعہ بننے کے بعد رسول کی عظمت کو مان رہے ہیں۔ دونوں ماننے میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک کو دوسرے سے کوئی نسبت نہیں۔ ایک غیر مسلم محقق بھی پیغمبر اسلام کو تاریخ کا سب سے بڑا انسان کہنے پر مجبور ہے مگر آپ کی زندگی میں آپ کی عظمت کو پہچاننا اتنا مشکل تھا کہ صرف وہی لوگ اس کو پہچان سکتے تھے جن کو خدا کی طرف سے خصوصی توفیق ملی ہو۔ قرآن کو دور نزاع میں اپنانا سیرت کی کتابوں میں صحابہ کا دعوتی طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ قرآن کے نازل شدہ حصہ کو لے لیتے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سناتے تھے (عرض علیہم الاسلام وتلا عليهم القرآن) چنانچہ مدینہ میں جو صحابہ تبلیغ کے لئے گئے ان کو وہاں مقری (قرآن پڑھنے والا) کہا جاتا تھا۔ یہ بات آج کے ماحول میں بظاہر انوکھی معلوم نہیں ہوتی۔ لیکن اگر چودہ سو سال کی تاریخ کو حذف کر کے آپ اسلام کے ابتدائی دور میں پہنچ جائیں اور اس وقت کے حالات میں اسے دیکھیں تو یہ اتنا انوکھا واقعہ معلوم ہوگا کہ نہ اس سے پہلے وہ کبھی جماعتی سطح پر پیش آیا اور نہ اس کے بعد۔
آج جب ہم لفظ ” قرآن “ بولتے ہیں تو یہ ہمارے لئے ایک ایسی عظیم کتاب کا نام ہوتا ہے جس نے چودہ صدیوں میں اپنی عظمت کو اس طرح مسلم کیا ہے کہ آج کروڑوں انسان اس کو خدا کی کتاب ماننے پر مجبور ہیں۔ آپ کو قرآن سے منسوب کرنا کسی آدمی کے لئے فخر و اعزاز کی بات بن چکی ہے۔ مگر زمانہ نزول میں لوگوں کے نزدیک اس کی یہ حیثیت نہ تھی۔ عرب میں بہت سے لوگ تھے جو یہ کہتے تھے کہ محمد نے پرانے زمانے کے قصے کہانیوں کو جوڑ کر ایک کتاب بنالی ہے۔ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسی ایک کتاب بنالیں لو نشاء لقلنا مثل هذا ان هذا الا اساطیر الاولین ، الانفال (۳۱) کوئی قرآن میں تکرار کو دیکھ کر کہتا کہ یہ کوئی خاص کتاب نہیں۔ محمد کے پاس بس چند باتیں ہیں، انہیں کو وہ صبح شام دہراتے رہتے ہیں رو قالوا اساطیر الاولین اکتتيبها فهي تملی علیہ بكرة و اصيلا، الفرقان (۵)
ایسی حالت میں قرآن کو پہچاننا گویا مستقبل میں ظاہر ہونے والے واقعہ کو حال میں دیکھنا تھا۔ ایک چھپی ہوئی حقیقت کو اس کے ثابت شدہ بننے سے پہلے پالینا تھا۔ پھر ایسے وقت میں قرآن کو کتاب دعوت بنا لینا اور بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ کیونکہ اس کے لئے اپنی عظمت کو کھو کر دوسرے کی عظمت میں گم ہونا پڑتا ہے۔ یہ اپنے مقابلہ میں دوسری شخصیت کا اعتراف کرنا ہے، اور وہ بھی ایسی شخصیت کا جس کی حیثیت ابھی مسلم نہ ہوئی ہو۔ عرب کے مشہور شاعر لبید نے اسلام قبول کیا اور شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے پوچھا کہ تم نے شاعری کیوں چھوڑ دی۔ لبید نے کہا : ابعد القرآن کیا قرآن کے بعد بھی آج کوئی آدمی شاعری چھوڑ کر یہ جملہ کہے تو اس کو زبردست عظمت اور مقبولیت حاصل ہوگی۔ مگر لبید کے قول میں اور آج کے شاعر کے قول میں کوئی نسبت نہیں کیونکہ آج کا شاعر تاریخ کے اختتام پر یہ جملہ کہہ رہا ہے جب کہ لبید نے تاریخ کے آغاز پر یہ جملہ کہا تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے۔ لا يستوى منكم من انفق من قبل الفتح و قاتل تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں وہ ان اولئك اعظم درجنة من الذين انفقوا من لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور بعد و قاتلوا الحدید ۱۰ جہاد کیا۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔