ایک تقابل
Al-Risala, September 1982, pp. 2–6
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو اسلامی انقلاب آیا اس میں تاریخی روایات کے مطابق کل ۱۰۱ آدمی ہلاک ہوئے۔ اس انقلاب کی تکمیل ۲۳ سال میں ہوئی۔ ان ۲۳ سالوں میں جو غزوات پیش آئے ان کی تعداد ام بتائی جاتی ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ۲۷ غزوات میں شریک تھے اور عملاً باقاعدہ جنگ صرف چند ہی غزوات میں پیش آئی۔ ان لڑائیوں میں مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس طرح
مسلمان مقتولین ۲۵۹ غیرمسلم مقتولین ۷۵۹ = ۱۰/۰ صدر اول کا یہ انقلاب تاریخ کا عظیم ترین انقلاب تھا جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا۔ بڑے انقلاب میں مقتولین کی یہ تعداد اتنی کم ہے کہ اس کو غیر خونی انقلاب (Bloodless Revolution) کہا جا سکتا ہے۔
ہمارے لکھنے اور بولنے والے اکثر پر جوش انداز میں اس انقلاب کا مقابلہ موجودہ زما کے غیر اسلامی انقلابات سے کرتے ہیں۔ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلامی انقلاب صرف ایک ہزار آدمیوں کی جان لے کر کامیاب ہو گیا۔ جبکہ فرانس میں جمہوری انقلاب لانے کے لئے اور روس میں اشتراکی انقلاب لانے کے لئے اتنے زیادہ آدمیوں کو قربان ہونا پڑا جن کی تعداد لاکھوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ تقابل ہم کو بہت پسند ہے کیونکہ اس میں ہماری پر فخر نفسیات کو تسکین ملتی ہے۔ مگر یہاں تقابل کی ایک اور صورت ہے جس پر مسلمانوں نے کبھی غور نہیں کیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دوسرا تقابل نصیحت کا تقابل ہے اور نصیحت آدمی کے لئے ہمیشہ بہت کڑوی ہوتی ہے۔
یہ دوسرا تقابل یہ ہے کہ آپ صدر اول کی اسلامی دعوت میں مرنے والے کا مقابلہ موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں میں مرنے والوں سے کریں۔ بالفاظ دیگر، صدر اول کے انقلاب سے خود اپنی انقلابی کوششوں کا موازنہ نہ کریں۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں دینی انقلاب اور اسلامی جہاد کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھائی ہیں مسلمان جس طرح زمانہ رسالت کے دینی انقلاب کا تقابل غیر مسلموں کے لادینی انقلابات سے اسی طرح انہیں چاہئے کہ وہ زمانہ رسالت کے انقلاب کو سامنے رکھ کر خود اپنی اٹھائی ہوئی تحریکوں کو تولیں اور ان کے نتائج کا جائزہ لیں۔
اگر مسلمان یہ تقابل کریں تو وہ حیرت انگیز طور پر پائیں گے کہ انہوں نے پیمبری تحریک کے مقابلہ میں دوسری اقوام کی لادینی تحریکوں کو جس مقام پر کھڑا کر رکھا ہے ، عین اسی مقام پر خود ان کی موجودہ زمانہ کی تحریکیں بھی کھڑی ہوئی ہیں ۔ الجزائر کے جہاد آزادی میں ۲۵ لاکھ مسلمان مرے، ہندوستان کے جہاد آزادی میں ۵ لاکھ علماء اور مسلمان شہید ہوئے ، اسلامی پاکستان کو وجود میں لانے کے درمیان ایک کروڑ انسان کام آگئے۔ شام ، عراق، ایران، مصر، فلسطین اور دوسرے علاقوں میں جو لوگ اسلام کے نام پر جانیں دے رہے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ ان تمام قربانیوں کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ صدر اول کی اسلامی تحریک میں دس سو آدمی کام آئے ، اور اس کے بعد ایسا دور رس انقلاب آیا جس کے اثرات ساری دنیا نے محسوس کر لئے۔
موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں میں مجموعی طور پر دس کروڑ آدمی ہلاک اور برباد ہو گئے۔ اس کے باوجود زمین کے اوپر کوئی ایک چھوٹا سا خطہ بھی نہیں جہاں اسلامی انقلاب حقیقی معنوں میں کامیاب اور نتیجہ خیز نظر آتا ہو۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہماری کوششوں کا بالکل الٹا نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ ہمارے حق میں بائیبل کے وہ الفاظ پورے ہوئے ہیں جو یہود کے بارے میں کہے گئے تھے۔ " اور تمھارا بیج بونا فضول ہو گا کیونکہ تمھارے دشمن اس کی فصل کھائیں گے۔ اور جن کو تم سے عداوت ہے وہی تم پر حکمرانی کریں گے۔ اور تمہاری قوت بے فائدہ صرف ہوگی کیونکہ تمھاری زمین سے کچھ پیدا اور میدان کے درخت پھلنے ہی کے نہیں۔ " (احبار، باب ۲۶)
ہماری جدید تاریخ ان الفاظ کے عین مصداق ثابت ہو رہی ہے۔ ہم نے خلافت اسلامی اور اتحاد عالمی کی دھواں دھار تحریکیں چلائیں اور اس کی راہ میں ان گنت قربانیاں دیں۔ مگر جب نتیجہ نکلا تو ساری مسلم دنیا بہت سی قومی حکومتوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ہم نے آزادی وطن کے لئے جہاد کیا مگر جب وطن آزاد ہوا تو عملاً وہ دوسرے فرقوں کے قبضہ میں چلا گیا ۔ ہم نے اسلامی پاکستان وجود میں لانے کے لئے قربانیاں دیں مگر جب اسلامی پاکستان بنا تو وہاں غیر اسلامی لیڈروں کی حکومت قائم تھی۔ ہم نے مصر میں اسلامی اقتدار قائم کرنے کے لئے عظیم الشان تحریک اٹھائی مگر جب مصر کی قسمت کا فیصلہ ہوا تو وہ اسلام پسندوں کے بجائے فوجی حوصلہ مندوں کے ہاتھ میں جا چکا تھا۔ تقریباً ثلث صدی سے فلسطین کی یہودی ریاست کو مٹانے کے لئے جہاد جاری ہے اور مسلمانوں کا جان و مال بے پناہ مقدار میں تباہ ہو رہا ہے مگر عملاً صرف یہ ہوا ہے کہ یہودی ریاست کی قوت اور وسعت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں آخری درد ناک خبر جو بہت جلد مسلمانوں کو سننی ہوگی وہ یہ کہ ایران میں ناقابل بیان قربانیوں کے بعد اسلامی اقتدار لایا گیا مگر یہ اسلامی اقتدار بہت جلد ملحد طاقتوں کا اقتدار قائم ہونے کا ابتدائی زینہ بن گیا۔ یہ موجودہ زمانہ کی پتھر سے بھی زیادہ سنگین حقیقتیں ہیں۔ کوئی شخص یہ کر سکتا ہے کہ اپنے ذہن میں خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا کر اس میں جیتا رہے مگر آئندہ آنے والا مورخ یقیناً ہماری خوش خیالیوں کی تصدیق نہیں وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ فرانس اور روس کے انقلاب میں مرنے والوں کے حصہ میں پھر بھی یہ فائدہ آیا کہ انہوں نے عالمی فکر کا دھارا موڑ دیا۔ اس کے بعد دنیا میں شہنشاہی طرز فکر کے بجائے جمہوری طرز فکر رائج ہو گیا اور سرمایہ دارانہ طریق معیشت پر سوشلسٹ طریق معیشت کو فکری غلبہ حاصل ہو گیا ۔ مگر اسلام کے نام پر برباد ہونے والے اگر چہ تعداد میں ان سے بھی زیادہ تھے مگر وہ عالمی فکر پر کسی قسم کا اثر نہ ڈال سکے۔ صدر اول کا اسلامی انقلاب بتاتا ہے کہ اگر ایک ہزار آدمی بھی یہ ثبوت دے دیں کہ وہ خدا کے دین کی خاطر قربانی کی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں تو خدا ان کی قربانی کو قبول کر کے اسلام کو زمین پر غالب کر دیتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں کروڑوں آدمیوں نے قربانی کا ثبوت دیا مگر خدا کی نصرت ان کا ساتھ دینے کے لئے آسمان سے نہیں اتری۔ وہ اس کے باوجود مغلوب ہی بنے رہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہماری یہ تمام قربانیاں حقیقتاً اس صراطِ مستقیم کے مطابق نہ تھیں جس کی پیروی پر خدا نے نصرِ عزیز اور فتحِ مبین کا وعدہ
کوئی کسان اگر کہے کہ میں نے گیہوں کے بیج زمین میں ڈالے مگر اس سے گیہوں اگنے کے بجائے جھاڑ جھنکار اُگ گئے تو ایسا کسان جھوٹ بولتا ہے ۔ کیونکہ خدا کی اس دنیا میں یہ ممکن ہی نہیں کہ آدمی گیہوں کے بیج بوئے اور اس سے اس کے لئے جھاڑ جھنکاڑا گے۔ یہ نا ممکن ہے، یہ کرور بار نا ممکن ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں ہماری قربانیاں اگر فی الواقع اس راہ پر ہوتیں جس راہ پر رسول اور اصحابِ رسول چلے اور اپنی جانیں دیں تو ناممکن تھا کہ اتنی غیر معمولی کوششوں کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلے۔ واقعات کا یہ کھلا ہوا فیصلہ ہے۔ کے باوجود کوئی آدمی خوش فہمی کے گنبد میں رہنا چاہے تو رہے ۔ بہت جلد قیامت اس کے گنبد کو توڑ دے گی ۔ اس کے بعد وہ دیکھے گا کہ وہاں اس کے لئے جھوٹی خوش فہمیوں کے کھنڈر کے سوا اور کچھ نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو خدا تمہاری مدد کرے گا۔ اور تمہارے قدموں کو جما دے گا (یا ایہا الذین آمنوا ان تنصروا ٱللَّهَ ینصرکم و یثبت اقدمکم، محمد، ۷) یہاں خدا کی نصرت کرنے سے مراد خدا کی اسکیم کے ساتھ موافقت ہے، یعنی واقعات کو ظہور میں لانے کے لئے خدا کا جو نقشہ ہے اور اس کے لئے اس نے جو موافق حالات فراہم کئے ہیں ان کے ساتھ اپنی کوششوں کو جوڑ دینا، جو لوگ اس طرح خدا کی نصرت کریں ان کو جماؤ حاصل ہوتا ہے اور بالآخر وہ کامیاب رہتے ہیں۔ خدا کی اس دنیا میں خدا کی منصوبہ سے مطابقت کرکے ہی کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے نہ کہ بطور خود آزادانہ عمل کر کے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ ایک پادری صاحب اپنے مکان کے سامنے ایک ہرا بھرا درخت دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر میں اس کا بیج بوؤں تو وہ دس سال میں پورا درخت بنے گا۔ نے ایسا کیا کہ کہیں سے ایک بڑا درخت کھدوا یا پھر کئی آدمیوں کے ذریعہ اس کو وہاں سے اٹھوایا اور اس کو لاکر اپنے گھر کے سامنے لگادیا۔ وہ خوش تھے کہ انہوں نے دس سال کی مدت ایک دن میں طے کرلی ہے، لیکن اگلے دن جب وہ صبح کو سوکر اٹھے تو ان کو یہ دیکھ کر بڑا صدمہ ہوا کہ درخت کے پتے مرجھا چکے ہیں۔ شام تک شاخیں بھی چند دن کے بعد درخت کے پتے سوکھ کر جھڑ گئے اور اس کے بعد ان کے گھر کے سامنے صرف لکڑی کا ایک ٹھنٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اٹھیں دنوں پادری صاحب کا ایک دوست ان سے ملنے کے لئے آیا۔ دوست نے دیکھا کہ پادری صاحب اپنے گھر کے سامنے بے چینی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔ اس نے کہا، آج میں آپ کو غیر معمولی طور پر پریشان دیکھ رہا ہوں، آخر کیا بات ہے۔ پادری صاحب نے جواب دیا ــــ میں جلدی میں ہوں مگر خدا جلدی