Al-Risala · September 1982

شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا

Al-Risala, September 1982, pp. 23–34

By Maulana Wahiduddin Khan

خالد بن الولید بے حد بہادر تھے۔ ان کے اندر غیر معمولی فوجی قابلیت تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر حضرت ابو بکر کی خلافت تک وہ مسلسل اسلامی فوج کے سردار رہے۔ تاہم حضرت عمر کو ان کی بعض عادتیں پسند نہ تھیں۔ چنانچہ انھوں نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ ان کو سرداری کے عہدہ سے ہٹا دیا جائے۔ مگر حضرت ابو بکر نے ان کے مشورہ کو نہیں مانا۔ مگر حضرت عمر کو اپنی رائے پر اتنا اصرار تھا کہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو انھوں نے حضرت خالد کو سرداری سے معزول کر کے ایک معمولی سپاہی کی حیثیت دے دی ۔

اس وقت حضرت خالد شام کے علاقہ میں فتوحات کے کارنامے دکھا رہے تھے۔ عین اس وقت خلیفہ ثانی نے انھیں معزول کر کے ابو عبیدہ بن الجراح کو ان کے اوپر سردار لشکر بنا دیا۔ اس کے بعد فوجیوں کی ایک تعداد خالد بن ولید کے خیمہ میں جمع ہوئی اور ان سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، آپ خلیفہ کا حکم نہ مانیے۔ خالد نے سب کو رخصت کر دیا اور کہا کہ میں عمر کے لئے نہیں لڑتا بلکہ عمر کے رب کے لئے لڑتا ہوں (انی اتمام قائم

فی سبیل میں دکن، قاتل فی سبیل رب عس) وہ پہلے سردار لشکر کی حیثیت سے لڑتے تھے اور اب ایک ماتحت فوجی کی حیثیت سے لڑنے لگے۔

اس قسم کا کردار اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اتنا اونچا ہو جائے کہ وہ شکایتوں اور تلخیوں سے اوپر اٹھ کر سوچے اس کا رویہ رد عمل کے طور پر نہ بنے بلکہ مثبت فکر کے تحت بنے۔ وہ اللہ میں جینے والا ہو نہ کہ انسانی باتوں میں جینے والا۔

Printed page