قانونی حد سے آگے بڑھ کر ساتھ دینا
Al-Risala, September 1982, pp. 34–36
By Maulana Wahiduddin Khan
شعبان ۳ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ قریش کے تمام سرداروں کی رہنمائی میں ایک ہزار کا لشکر مدینہ کی طرف حملہ کرنے کے لئے بڑھ رہا ہے، اس میں چھ سو زرہ پوش تھے اور اسی کے ساتھ ایک سو سواروں کا خصوصی دستہ بھی شامل تھا۔ یہ ایک بہت نازک وقت تھا۔ آپ نے مدینہ کے انصار اور مہاجرین کو جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے یہ سوال رکھا کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے، حسب معمول اولاً مہاجرین کے ممتاز افراد اٹھے اور انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کا رب جس بات کا حکم دے رہا ہے اس کی طرف بڑھئے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم یہود کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ تم اور تمہارا خدا جا کر لڑئیے؛ ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ آپ اور آپ کا خدا چل کر لڑیں، ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے ہم آپ کا ساتھ چھوڑنے والے نہیں۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی اس قسم کی تقریروں کے با وجود بار بار یہ فرما رہے تھے کہ لوگو مجھے مشورہ دو (اشیروا علی ایہا الناس) چنانچہ سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا رخ ہماری طرف ہے۔ آپ نے کہا، ہاں، اس پر سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا: ہم آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق کی، اور اس بات کی گواہی دی کہ جو کچھ آپ لائے ہیں، وہ حق ہے، اور اس پر آپ سے سمع و طاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں، پس اے خدا کے رسول، آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو کر گزرئے، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ہمیں لے کر سمندر کے سامنے جا پہنچیں اور اس میں گھس جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں گھس جائیں گے۔ سے ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو ہرگز یہ ناگوار نہیں ہے کہ آپ ہمیں لے کر کل کے دن دشمن سے ٹکرا جائیں۔ میں ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ مقابلہ کے وقت سچے اترنے والے ہیں۔ شاید اللہ تعالی آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہم کو لے کر چلیں۔ (سیرت ابن ہشام) انصار کے قائد کی اس تقریر کے بعد اقدام کا فیصلہ کر لیا گیا۔
بدر کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انصار کی طرف رخ کرنا بے سبب نہ تھا۔ ایک خاص پس منظر تھا۔ ابن ہشام اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وذلك انهم حين بايعوه بالعقبة قالوا: يارسول الله، انا برآء من ذما مك حتى تصل الى ديارنا، فاذا وصلت إلينا فأنت في ذمتنا نمنعك مما نمنع منه أبناءنا ونساءنا، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخوف الا تكون الأنصار ترى عليها نصره الا ممن دهمه بالمدينة من عدوه، وأن ليس عليهم ان يسير بهم الى عدو من بلادهم، (سيرة ابن هشام ، جزء ثاني، صفحه ۲۵۳) اور ایسا اس لئے ہوا کہ انصار نے جب عقبہ میں بیعت کی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ اے خدا کے رسول ، ہم آپ کی ذمہ داری سے بری ہیں یہاں تک کہ آپ ہمارے دیس میں جب آپ ہمارے پاس آجائیں گے تو آپ ہماری ذمہ داری میں ہوں گے اور ہم آپ کا دفاع کریں گے جس طرح ہم اپنے لڑکوں اور عورتوں کا دفاع کرتے ہیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ انصار کہیں یہ سمجھتے ہوں کہ ان پر آپ کی مدد کرنا اس وقت ہے جب کہ آپ کا دشمن مدینہ پہنچ کر حملہ کرے ۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنی بستی سے دور جا کر مقابلہ کریں ۔ انصار کی بیعت قدیم عربی اصطلاح کے مطابق بیعت تسار (دفاعی بیعت) تھی۔ اس کے مطابق مدینہ سے ۸۰ میل دور بدر کے مقام پر جاکر لڑنا ان کے لئے ضروری نہ تھا مگر انصار نے اس کو اپنے لئے عذر نہیں بنایا۔ حد کو توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور بدر کے میدان میں جاکر قربانی پیش کی۔ اختلاف سے بچ کر اصل نشانہ پر لگے رہتا اخر ج الطبراني عن المسور بن مخرمة قال : خرج رسول اللہ صلی الله عليه وسلم علی اصحابه فقال إن الله بعثنى رحمة للناس كافة فأدعو عفى رحمكم الله ، ولا تختلفوا كما اختلف الحواريون على عيسى بن مريم فانه دعاهم الى مثل ما ادعوكم اليه فاما من بعد مكانه فكرهه فشكا عيسى بن مريم ذلك الى الله عزوجل ۔ اصحاب رسول الله صلی الله عليه وسلم نحن یا رسول الله نؤدى اليك فابعثنا حيث شئت مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے سامنے تقریر کی اور فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمہ داری کو ادا کرو۔ خدا تم پر رحم کرے۔ اور تم لوگ اختلاف نہ کرنا جس طرح عیسیٰ بن مریم کے حواریوں نے اختلاف کیا۔ انھوں نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کے لئے پکارا جس کی طرف میں تم کو پکار رہا ہوں ۔ پس جس کا مقام دور تھا اس کو وہاں جانا ناگوار ہوا تو عیسیٰ بن مریم نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کی۔
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول ہم آپ کی ذمہ داری کو ادا کریں گے ۔ آپ ہم کو بھیجے جہاں آپ چاہیں۔
اجتماعی کام میں رکاوٹ ڈالنے والی سب سے بڑی چیز اختلاف ہے۔ مگر صحابہ کرام کو اللہ کے خوف نے اتنا بے نفس بنا دیا تھا کہ وہ اختلافات سے بلند ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگے وہتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ کے زمانے میں انھوں نے عرب میں اور اطراف عرب میں آپ کی منشا کے مطابق اسلام کی دعوت پوری طرح پہنچائی، آپ کی وفات کے بعد رہ مال وجاہ کے حصول میں نہیں پڑے بلکہ اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے۔ ہر صحابی کا گھر اس زمانہ میں ایک چھوٹا مدرسہ بنا ہوا تھا جہاں وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے لوگوں کو عربی سکھاتے اور قرآن وسنت کی تعلیم دیتے۔ اس زمانہ میں ایک طرف مسلمانوں کا ایک طبقہ فتوحات اور سیاسی انتظامات میں لگا ہوا تھا۔ عام طریقہ کے مطابق اصحاب رسول کو اپنا سیاسی حصہ لینے میں سرگرم ہونا چاہئے تھا۔ مگر وہ اس سے بے پرواہ ہوگئے۔ انھوں نے اسلامی فتوحات کے ذریعہ پیدا ہونے والی فضا کو تبلیغ دین کے لئے استعمال کیا، اس طرح ان کے اور ان کے شاگردوں کے خاموش پچاس سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ جغرافی خطہ وجود میں آیا جس کو عرب دنیا کہا جاتا ہے، جہاں لوگوں نے نہ صرف اپنے دین کو بدلا بلکہ ان کی زبان اور ان کی تہذیب بھی بدل گئی۔