پچھلی نشست پر بیٹھنے کے لئے راضی ہو جانا
Al-Risala, September 1982, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سب سے پہلا مسئلہ خلیفہ کا انتخاب تھا۔ انصار بنو ساعدہ کی چوپال (سقیفہ) میں جمع ہو گئے۔ اس وقت سعد بن عبادہ انصار کے سب سے زیادہ ابھرے ہوئے سردار چنانچہ انصار میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ مقرر کیا جانا چاہئے۔ مہاجرین کو یہ خبر ملی تو ان کے ممتاز افراد تیزی سے چل کر مذکورہ مقام پر پہنچے۔ حضرت ابو بکر نے تقریر کرتے ہوئے کہا: أما ما ذكرتم فيكم من خير فأنتم له اهل، ولن (اے انصار) تم نے اپنی جس فضیلت کا ذکر کیا ہے اس کے تكون العرب هذا الأمر الا لهذ الحي من قريش تم اہل ہو۔ مگر عرب اس معاملہ (امارت) کو قریش کے سوا کسی هم اوسط العرب نسباً و داراً، وقد رضيت لكم اور قبیلہ کے بارے میں نہیں جانتے۔ وہ عربوں میں نسب احد هذين الرجلين فبايعوايهما شئتم اور مقام کے اعتبار سے سب سے بہتر ہیں۔ لئے ان دو آدمیوں (عمر اور ابو عبیدہ بن الجراح) میں سے کسی ایک پر راضی ہوں۔ تم دونوں میں سے جس سے چاہو