Al-Risala · September 1982

بیعت کر لو

Al-Risala, September 1982, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد حضرت عمر اٹھے اور انھوں نے فوراً حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرلی اور پھر تمام مہاجرین نے بیعت کی۔ اس کے بعد انصار نے بھی حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ تاہم انصار کے ایک طبقہ کے لئے یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ ایک شخص نے مہاجرین سے کہا کہ تم لوگوں نے سعد ابن عبادہ کو قتل کر دیا ( قتلتم سعد ابن عبادہ )

انصار نے اسلام کے لئے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ انھوں نے اسلام کے بے یار و مددگار قافلہ کو اس وقت پناہ دی جب کہ انھیں اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انصار اس فیصلہ پر راضی ہو گئے کہ اقتدار میں ان کا حصہ نہ ہو اور خلیفہ صرف مہاجرین ( قریش ) میں سے منتخب کیا جائے ۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے پیچھے بہت گہری مصلحت تھی۔ قریش سیکڑوں سال سے عرب کے قائد بنے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں اگر کسی غیر قریش کو خلیفہ مقرر کیا جاتا تو اس کے لئے اجتماعی نظم کو سنبھالنا نا ممکن ہو جاتا ۔ یہ انصار کی حقیقت پسندی تھی کہ انھوں نے اپنی اس کمی کو جانا اور یک طرفہ فیصلہ پر راضی ہو گئے ۔ تاہم یہ حقیقت پسندی کی اتنی نایاب قسم ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

Printed page