Al-Risala · September 1982

غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی طاقت

Al-Risala, September 1982, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

احد کی لڑائی اسلام کی تمام جنگوں میں سب سے زیادہ سخت لڑائی تھی۔ قریش کے تمام جنگی جوان غصہ میں بھرے ہوئے مسلمانوں کے اوپر ٹوٹ پڑے تھے۔ عین اس وقت جب کہ قتل و خون کا معرکہ گرم تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لی اور کہا کہ کون اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا۔ کچھ لوگ آپ کی مگر آپ نے انھیں تلوار نہ دی۔ پھر ابو دجانہ سامنے آئے اور پوچھا کہ اے خدا کے رسول! اس تلوار کا حق کیا آپ نے فرمایا کہ تم اس سے دشمن کو مارو یہاں تک کہ اس کو ٹیڑھا کر دو ( ان تضرب بہ العد وحتى ينحنی ) ۔ ابو دجانہ نے کہا کہ میں اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے انھیں تلوار دے دی۔ حضرت ابو دجانہ تلوار لے کر چلے۔ اس وقت ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ اکڑ کر چلنے لگے۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اس قسم کی چال خدا کو پسند نہیں سوا ایسے موقع کے ( انہا لمشية يبغضها الله الا في مثل هذا الموطن )

ابو دجانہ نے اپنے سر پر لال کپڑا باندھ لیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ موت سے نڈر ہو کر جنگ کے لئے نکل پڑے ہیں۔ وہ انتہائی بہادری کے ساتھ لڑرہے تھے۔ جو بھی ان کے سامنے آتا وہ ان کی تلوار کا نشانہ بن جاتا۔ کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا جس کو خود ابو دجانہ ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں :

رایت انسانا يحمش الناس حمشا شديداً میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بری طرح لوگوں کو جنگ

قصدت له فلما حملت عليه السيف فاذا پرا بها رہا تھا۔ میں اس کی طرف لپکا۔ جب میں نے اس۔ امراة فاكر مت سيف رسول الله صلى الله عليه پر تلوار اٹھائی تو اس نے کہا یا ویلاه (ہائے تباہی) اب وسلم ان اضرب به امراة (سيرت ابن هشام جلد ۳ ، صفحه ۱۴) تلوار کو اس سے پاک رکھا کہ اس سے کسی عورت کو قتل کروں اس واقعہ کو ایک صحابی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : پھر میں نے دیکھا کہ ان کی تلوار ہند بنت عتبہ کے سر پر اٹھ گئی ہے مگر اس کے بعد انھوں نے اپنی تلوار اس سے ہٹالی وشتم رایته قد حمل السيف علی مغرق راس هند. بنت عتبة ، ثم عدل السيف عنها) جنگ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات میں سے ایک ہدایت یہ تھی کہ عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو نہ مارا جائے۔ حضرت ابو دجانہ نے عین قتل و خون کے ہنگامہ میں اس کو یاد رکھا اور اپنی چلی ہوئی تلوار کو درمیان سے روک لیا۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کو اپنے جذبات پر کتنا زیادہ قابو تھا۔ ان کے افعال ان کے شعور کے ماتحت تھے نہ کہ ان کے جذبات کے ماتحت۔ وہ انتہائی اشتعال انگیز موقع پر انتہائی ٹھنڈا فیصلہ کر سکتے تھے۔ وہ غصہ اور انتقام کی آخری حد پر پہنچ کر بھی اچانک اپنا ذہن تبدیل کر سکتے تھے ۔ وہ ایک رخ پر پوری رفتار سے چل پڑنے کے بعد معا اپنا رخ دوسری طرف پھیر سکتے تھے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر عملاً وہ اتنی زیادہ مشکل ہے کہ اس پر کوئی ایسا شخص ہی قادر ہو سکتا ہے جو خدا سے اس طرح ڈرنے والا ہو گویا خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہوا ہے اور وہ اس کو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ درخت کی طرح آگے بڑھنا قرآن میں انجیل اور تورات کے دو حوالوں کا ذکر ہے۔ تورات کا حوالہ صحابہ کرام کے انفرادی اوصاف سے متعلق ہے۔ اس کے بعد انجیل کے حوالے سے ان کی اجتماعی صفت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : و مثلهم فى الانجيل كزرع اخرج شطأه فازره اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو ۔ فاستغلظ فاستوی علی سوقه يعجب الزراع اس نے نکالا اپنا انکھوا۔ پھر اس کو مضبوط کیا۔ پھر وہ موٹا ليغيظ بهم الكفار وعد الله الذين آمنوا و ہوا۔ پھر اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ اچھا لگتا ہے کسانوں کو عملوا الصالحات منهم مغفرة واجراً عظيماً تاکہ منکروں کا دل ان سے جلائے۔ اللہ نے ان لوگوں سے آخر) جو ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔

موجودہ انجیل میں تمثیل ان لفظوں میں ہے ــــــــ اور اس نے کہا، خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی

آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے ۔ اور وہ بیج اس طرح آگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔ زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے۔ پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے۔ کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا (مرقس ۴: ۳۲-۲۶)

انجیل اور قرآن کی اس تمثیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے اصحاب کا اجتماعی ارتقاء درخت کی اس کا آغاز بیج سے ہوگا، پھر وہ دھیرے دھیرے بڑھے گا اور اپنا تنہ مضبوط کرتے ہوئے اوپر اٹھے گا، یہاں تک کہ فطری رفتار سے تدریجی ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچ جائے گا۔ اس کی ترقی اتنی شان دار ہوگی کہ ایک طرف اہل ایمان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوں گے اور دوسری طرف دشمن دانت پیس رہے ہوں گے کہ اس کا معاملہ اتنا مضبوط ہے کہ اس کے خلاف ہمارا کچھ بس نہیں چلتا ۔

اسلام کو درخت کی طرح ترقی دینے کے لئے خدا کا یہ منصوبہ تھا جو صحابہ کرام کے ذریعہ انجام پایا۔ تاہم یہ کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ جلد بازی کے بجائے صبر کو اپنا طریقہ بنائیں۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ فوری محرکات کے تحت وہ کوئی اقدام نہ کریں۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے قوانین فطرت کی پیروی کریں۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اس سے بے پروا ہو کر کام کریں کہ نتیجہ ان کی زندگی میں سامنے آتا ہے یا ان کے بعد۔ "درخت اسلام" کو اگانے کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اپنے جذبات کو کچلیں اور اپنی امنگوں کو دفن کر دیں۔ صحابہ کرام نے یہ سب کچھ کیا۔ انھوں نے کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدائی اسکیم کے حوالہ کر دیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ زمین میں خدا کا دین ایک ایسے ابدی باغ کی صورت میں کھڑا ہو گیا جس کو ساری دنیا مل کر بھی مٹانا چاہے تو نہ مٹا سکے۔

Printed page