مردانِ کار کی ضرورت
Al-Risala, September 1982, pp. 30–44
By Maulana Wahiduddin Khan
اکثر لوگ احیاء اسلام کی مہم کو اس کے ”پروگرام“ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کو اسی وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ انھیں ایک متعین پروگرام بتا دیا جائے۔ مگر پروگرام کو تحریک کا بدل سمجھنا تحریک کی وسعتوں کی تصغیر (Underestimation)ہے۔ پروگرام ایک محدود نقشہ کار کا نام ہے اور انسانی زندگی اس سے زیادہ وسیع ہے کہ وہ کسی محدود نقشہ کار کے دائرہ میں سما سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا پروگرام خود افراد کو پروگرام ساز بنانا ہے نہ کہ افراد کے ہاتھوں میں کوئی لگا بندھا پروگرام دینا۔ اسلامی دعوت یہی کام کرتی ہے۔ حقیقی اسلامی دعوت افراد کے ذہن کو اس طرح جگا دیتی ہے کہ وہ خود پروگرام ساز بن جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں صرف توحید کی دعوت پیش کی تھی۔ آپ نے اس قسم کی کوئی چیز لوگوں کو نہیں دی جس کو موجودہ زمانہ میں ”پروگرام“ کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہر وہ شخص جو آپ کی دعوت سے متاثر ہوتا اس کو اپنے لئے مکمل پروگرام مل جاتا تھا۔ وہ آپ سے توحید کا شعور لینے کے بعد خود ہی سارا کام کرنے لگتا تھا۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ مکہ چھوڑ کر حبش گئے ان کو آپ نے معروف معنوں میں کوئی پروگرام نہیں بتایا تھا۔ مگر انھوں نے حبش میں اسلام کی اتنی کامیاب نمائندگی کی کہ اسلام بین الاقوامی دعوت کے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ آپ کی ہجرت سے پہلے جو مسلمان مدینہ گئے ان کو آپ نے قرآن کی سورتوں کے سوا اور کچھ نہیں دیا تھا۔ مگر انھوں نے مدینہ میں اسلامی دعوت کی مہم اس طرح چلائی کہ صرف چند سالوں میں مدینہ اس قابل ہو گیا کہ وہ دار الہجرت (اسلام کا مرکز) بن سکے۔ تقلیدی مذہب سے ہٹا کر شعوری مذہب پر لانے کی مہم سب سے بڑی انقلابی مہم ہے۔ وہ ایسے افراد وجود میں لاتی ہے جو اپنی ذات میں مکمل پروگرام ہوتے ہیں۔ ایسی مہم کی زد انسان کے پورے وجود پر پڑتی ہے۔ وہ انسانی فطرت کو اس طرح جگاتی ہے کہ اس کے اندر ربانی حکمت کا چشمہ ابل پڑے۔ اب ایسے انسان وجود میں آتے ہیں جو خدا کے پاؤں سے چلیں، جو خدا کے ہاتھ سے پکڑیں، جو خدا کی آنکھ سے دیکھیں اور خدا کے کان سے سنیں۔ وہ حدیث کے الفاظ میں، وہ بے پناہ انسان بن جائیں جس کی ہوش مندی ہر دوسری چیز سے بلند تر ثابت ہوتی ہے (اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور اللہ) ایسا آدمی خود ہر چیز کا بدل بن جاتا اس کے پاس ہر سوال کا صحیح ترین جواب ہوتا ہے۔ وہ ہر موقع پر اپنے لئے کامیاب ترین راہِ عمل تلاش کر لیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں یہی حکمت ربانی جگادی تھی، اس کے بعد انھیں کسی اور چیز کی ضرورت نہ رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا نے انسان کی فطرت میں وہ سب کچھ بھر دیا ہے جس کی اسے اپنی زندگی میں ضرورت عام حالات میں یہ فطرت ڈھکی ہوئی رہتی ہے۔ اسی انسانی فطرت سے جمود اور تعصب اور بے شعوری کے پردوں کو ہٹانا اسلامی دعوت کا اصل کام ہے۔ ان پردوں کے ہٹتے ہی انسانی فطرت اس آفاقی روشنی میں آجا تی ہے جس سے تمام زمین و آسمان جگمگارہے ہیں۔ اس کے بعد ہر چیز اس کو اپنے واقعی روپ میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ اور جو آدمی چیزوں کو ان کے واقعی روپ میں دیکھ لے اس کے لیے پروگرام کا مسئلہ اتناہی آسان ہو جاتا ہے جتنا آنکھ والے ایک شخص کے لیے سیڑھی کے زینوں پر قدم رکھتے ہوئے کسی عمارت کے
یہاں میں ایک واقعہ نقل کروں گا جو اس مسئلہ کو بہت خوبی کے ساتھ واضح کرتا ہے۔
ایک ہندوستانی خاتون اپنے شوہر کے ساتھ طرابلس میں رہتی تھیں۔ وہ عربی نہیں جانتی تھیں۔ ان کی زندگی بالکل گھریلو زندگی تھی۔ باہر کی دینیا سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ایک روز رات کو اچانک ان کے شوہر کے پیٹ میں سخت درد اٹھا۔ گھر میں بیوی کے سوا کوئی دوسرا نہ تھا جو ڈاکٹر کو بلائے۔ طرابلس میں گھریلو ٹیلی فون بھی نہیں ہوتے کہ ٹیلی فون پر ڈاکٹر یا اسپتال سے رابطہ قائم کیا جائے۔ مگر بستر پر تڑپتا ہوا شوہر اور اس سے قلبی تعلق خاتون کے لیے اپنی ہستی کا بدل بن گیا۔ وہ رات کے سناٹے میں اپنے گھر سے نکلی۔ راستہ سے ناواقفیت، مقامی زبان سے اجنبیت، کسی ڈاکٹر کا نام یا پتہ معلوم نہ ہونا کوئی بھی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہ بنی۔ بیتابی کی رہنمائی میں چلتی رہی۔ یہاں تک کہ بے شمار مرحلوں سے گزرنے کے بعد بالآخر وہ ایک پاکستانی ڈاکٹر کے گھر پہنچ گئی۔ پاکستانی ڈاکٹر اس کی زبان (اردو) جانتا تھا۔ وہ فوراً اس کے ساتھ آیا۔ دیکھنے کے بعد اس نے سمجھ لیا کہ یہ اپنڈکس کا کیس ہے اور اس کا فوراً آپریشن ہونا چاہئے، چنانچہ اسی وقت وہ اس کو اپنی گاڑی میں بٹھاکر اسپتال لے گیا۔ وہاں اس کا آپریشن ہوا اور چند دن کے بعد وہ اچھا ہو کر اپنے گھر واپس آگیا۔ اس قسم کا واقعہ ہر آدمی کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ ہر آدمی ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے جس کے بارے میں پہلے سے اس کے پاس کوئی نقشہ عمل نہیں ہوتا۔ مگر وہ پوری طرح اس کا مقابلہ کرتا ہے اور بالآخر کامیاب ہو جاتا ہے۔ تاہم اس قسم کے قصے کے ساتھ ہمیشہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے ذاتی معاملات میں پیش آتے ہیں۔ اگر تعلق اور دلچسپی کا یہی درجہ دن کے ساتھ پیدا ہو جائے تو دین کے معاملات بھی اسی طرح حل ہونے لگیں جس طرح لوگ اپنے ذاتی معاملات روزانہ حل کر رہے ہیں۔ پھر لوگوں کے لئے نہ دینی تقاضوں کو جاننا مشکل رہے اور نہ دین کے لئے قربانی دینا۔ وہ اپنے پروگرام کو اسی طرح پالیں جس طرح مذکورہ خاتون نے اپنے ڈاکٹر کو پالیا۔
ہم سے اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس نقشہ کار کیا ہے۔ آہ ، لوگوں کو کس طرح بتایا جائے کہ نقشہ کار کی نہیں بلکہ مردان کار کی ضرورت ہے۔ کوئی واقعہ خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی، اس کو برپا کرنے والے ہمیشہ انسان ہوتے ہیں۔ نہ کہ کوئی پروگرام یا نقشہ کار۔ اجتماعی زندگی میں انقلاب ہمیشہ وہ لوگ لاتے ہیں جو اپنی ذات میں پروگرام ہوں نہ کہ وہ لوگ جنہیں کوئی لگا بندھا ڈھرا دے دیا جائے اور اس پر وہ دوڑتے رہیں۔ شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر کا واقعہ ہے۔ ایک بار انھوں نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد انھوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ وہ ہاتھ اٹھائے خاموش دعا کرتے رہے۔ اس وقت اورنگ زیب کے ان کے وزیر سعد اللہ خاں کھڑے ہوئے تھے۔ اورنگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعد اللہ خاں نے کہا: عالی جاہ، آپ کی سلطنت کا پرچم کشمیر سے لے کر راس کماری تک لہرا رہا ہے، کیا اس کے بعد بھی کوئی ارمان ہے جو آپ کے دل میں باقی رہ گیا ہے۔ اورنگ زیب یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے اور اس کے بعد تاثر کے ساتھ کہا: سعد اللہ، مردے خواہم (سعد اللہ، میں ایک مرد چاہتا ہوں) اورنگ زیب کے پاس وہ چیز مکمل طور پر موجود تھی جس کو نقشہ کار کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے پاس حکومت اور وسائل بھی پوری طرح موجود تھے۔ اس کے باوجود وہ مغل سلطنت کو مستحکم بنانے میں اس لئے ناکام ہو گیا کہ اس کے پاس مردان کار نہ تھے۔ اگر اورنگ زیب کے پاس سچے مردان کار کی ٹیم موجود ہوتی تو اورنگ زیب کے بعد آنے والی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جیسا کہ اب ہمیں نظر آتی ہے۔
اسلام کے مشن کو آج انسانوں کی بھیڑ میں انسان کی تلاش ہے۔ خدا کے نام پر بولنے والوں کے درمیان اس کو اس انسان کی تلاش ہے جس کو خدا کے خوف نے چپ کر رکھا ہو، دنیا کے پیچھے پیچھے دوڑنے والوں کے درمیان وہ اس انسان کی راہ دیکھ رہا ہے جو آخرت کی خاطر کھڑا ہو گیا ہو۔ خدا کے نام پر خوشیاں منانے والوں کے درمیان وہ اس انسان کو ڈھونڈھ رہا ہے جس کو خدا کی یاد نے رونے پر مجبور کر دیا ہو۔ اپنی انا کا جھنڈا اٹھانے والوں کے درمیان اس کو اس انسان کی تلاش ہے جس نے خدا کو اس طرح پایا ہو کہ اس کے پاس ایک بے انا روح کے سوا اور کچھ باقی نہ رہ گیا ہو۔ دین کے نام پر لڑنے والوں کے درمیان وہ اس انسان کو تلاش کر رہا ہے جس نے دین کی خاطر لڑائی بھڑائی چھوڑ دی ہو۔ حاسبواا اغیارکم کا جھنڈا اٹھانے والی فوج کے درمیان وہ ان لوگوں کا انتظار کر رہا ہے جو حاسبو انفسکم کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آج اسلام کو مطلوب اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعہ اسلام دوبارہ فکری غلبہ کا مقام حاصل کرے گا۔ آج اسلام کو ایسے انسان درکار ہیں جو اپنے کو اس حد تک خالص کریں کہ وہ ظواہر سے گزر کر حقیقت کو جو اس صبر کے حامل ہوں کہ غیر متعلق مسائل سے اپنا دامن بچاکر اصل نشانہ پر اپنی ساری توجہ مرکوز
رکھیں جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو اتنا ہیچ سمجھیں کہ دنیا کی ہر قربانی دینا ان کے لئے آسان ہو جائے۔ زیادہ حقیقت پسند ہوں کہ اپنے مقابلہ میں دوسروں کی خوبی دیکھ سکیں اور اپنی سیٹ پر دوسرے کو بٹھا سکیں۔ جو حقائق کو اس طرح دیکھنے لگیں کہ کوئی لفظی شوشہ انہیں اس سے بد کا نہ والا ثابت نہ ہو۔ جو منفی جذبات سے اس قدر خالی ہوں کہ کوئی ذاتی رنجش انہیں منحرف نہ کر سکے اور کسی کی ترقی انہیں حسد میں مبتلا نہ کرے۔ کو اپنے مقام پر رکھ کر دیکھیں اور اپنے کو دوسرے کے مقام پر۔ جو ظواہر سے زیادہ حقیقت کے دلدادہ ہوں۔ اور حال سے زیادہ مستقبل پر نظر رکھتے ہوں۔ خلاصہ یہ کہ وہ دنیا کے بجائے آخرت میں جیتے ہوں اور اپنی بڑائی کے بجائے خدا کی بڑائی میں گم ہو چکے ہوں۔ ایسے ہی لوگوں نے دورِ اول میں اسلام کو غالب فکر کا مقام عطا کیا تھا اور ایسے ہی لوگ دورِ ثانی میں بھی اسلام کو غالب فکر کا مقام عطا کریں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ پروگرام کا سوال اصلاً افراد تیار کرنے کا سوال ہے۔ افراد کسی تربیتی نظام میں نہیں ڈھلتے اور نہ کسی قسم کے خارجی ہنگاموں کے درمیان بنتے ہیں۔ افراد تیار کرنے کی صورت تو صرف یہ ہے کہ دین قیم کی بنیاد پر ایک ایسی بے آمیز تحریک اٹھے جو فطرت انسانی کو مس کرنے والی ہو۔ جو آدمی کے باطن میں ضرب لگا کر اس کے اندر سوئے ہوئے ربانی انسان کو جگا دے، جو انسان کے فکر میں خدا کا رنگ اس طرح گھولے کہ اس کی پوری ہستی خدا کے رنگ میں رنگ جائے۔
ایسی تحریک حالات کے رد عمل کے طور پر نہیں اٹھتی۔ وہ فطرت کے ساز پر خدا کا ابدی نغمہ چھیڑنے کے ہم معنی ہوتی ہے۔ وہ کتاب الہی کی حکمت کو لسانِ عصر میں کھولتی ہے۔ وہ پیغمبرانہ دعوت کا زمانی اظہار ہوتی ہے۔ خدا اور انسان کے درمیان ربط بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ سورج کی روشنی اور پھولوں کی مہک کی طرح خدا کے تخلیقی حسن کا نمونہ ہوتی ہے۔ کسی معاشرہ میں ایسی تحریک کا اٹھنا اس بات کی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ وہاں وہ ربانی انسان بن کر اٹھیں جو اپنی ذات میں پرو گرام ہوں۔ تاہم پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی دعوت اٹھنے کے بعد بھی عملاً صرف وہی لوگ اس سے فیض یاب ہوتے ہیں جو پہلے سے اپنے اندر زرخیزی کا مادہ رکھتے ہوں۔ بنجر زمین بارش سے پہلے بھی بنجر رہتی ہے اور بارش کے بعد بھی۔ بنجر (والبلد الطيب يخرج نباته باذن ربه وَٱلَّذِي خَبُثَ لا يخرج الا نكدا، الاعراف ۵۸)
اسلام کی نئی تاریخ شروع کرنے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ انسانوں کی ایسی جماعت ہے جس کی فطری صلاحیتیں زندہ ہوں۔ تاکہ اس کو جب اسلام کی دعوت فطرت کا مخاطب بنایا جائے تو وہ اس کو صحیح طور پر قبول کر سکے۔ جب اس کے اندر اسلام کا بیج ڈالا جائے تو اس کی کھیتی اس طرح لہلہا اٹھے جس طرح زر خیز زمین میں دانہ ڈالنے کے بعد اس کی فصل لہلہا اٹھتی ہے۔ اسلام کی دعوت اپنی قبولیت کے لئے آج ایسے کسی گروہ کا۔
انتظار کر رہی ہے۔ اس قسم کے زندہ افراد اگر مسلمانوں میں سے نکل آئیں قو یہ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے اور اگر ایسے جاندار لوگ مسلمانوں میں سے نہ نکلیں تو خدا کسی دوسری قوم کو یہ توفیق دے گا اور اس کے اندر سے ایسے زندہ افراد اٹھائے گا جو اسلام کی بارش سے نہائیں اور دنیا کو اس میں نہلانے کے لئے اپنا سب کچھ لگادیں (فان تتولوا يستبدل تو ما غيركم ثم لا يكونوا امثالكم)
اوپر ہم نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے متعلق دعا کی کہ خدایا یہ گر وہ (العصابه) اگر ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔ بدر کل ۳۱۳ تھے۔ مگر یہی ۳۱۳ کی تعداد رسول کی نظر میں فیصلہ کن بن گئی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے غلبہر کے لئے اصل میں جو چیز درکار ہے وہ کسی قسم کی بھیڑ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ بھیڑ کے اندر دعوتی عمل کر کے اس کے زندہ افراد کو اس سے نکال لیا جائے۔ یہ زندہ افراد خواہ ۳۱۳ ہوں مگر ان کو انسانیت کا خلاصہ ہونا چاہئے۔ شعور کے اعتبار سے وہ شعور ربانی کے ہم سطح ہوں اور عمل کے اعتبار سے وہ اخلاق خداوندی کا پیکر بن چکے ہوں۔ ان کا سوچنا اور کرنا دونوں خدا کی میزان عدل میں پورا اتر رہا ہو۔ ایسے گروہ کو چھانٹ کر نکالنا ہی دعوت اسلامی کا اصل مقصود ہے۔ ایسا گروہ وجود میں آ جائے گا تو خواہ وہ ۳۱۳ جیسی اقلیت میں کیوں نہ ہو وہ خدا کی مدد سے خدا کے دین کو غلبہ کے مقام پر پہنچا کر رہے گا۔ ایسا ایک گروہ ہمیشہ خدا کی فرقان ہوتا ہے۔ اور جو گر وہ خدا کی فرقان بن جائے اس کے لئے اس دنیا میں غلبہ کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔