I am in hurry, but God doesn't
Al-Risala, September 1982, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد پادری صاحب نے درخت کے مذکورہ قصہ کو بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں ان میں ایک حصہ خدا کا ہوتا ہے اور ایک حصہ انسان کا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دو دندانہ دار پہیوں (Cog Wheels) کے ملنے سے مشین کا چلنا۔ ایک پہ خدا کا ہے، دوسرا پہیہ انسان کا۔ انسان جب خدا کے پہیہ کا ساتھ دیتا ہے تو وہ کامیاب رہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ خدا کے پہیے کی رفتار کا لحاظ کئے بغیر چلنا چاہے تو وہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ خدا کا پہیہ مضبوط ہے اور انسان کا پہیہ کمزور۔
خدا نے کروڑوں سال کے عمل سے زمین کے اوپر زرخیز مٹی کی تہ بچھائی جس کے اوپر کوئی درخت اگے۔ سورج کے ذریعہ اوپر سے ضروری حرارت بھیجی۔ آفاقی اہتمام کے تحت پانی مہیا فرمایا۔ موسموں کی تبدیلی کے ذریعہ اس کی پرورش کا انتظام کیا۔ کھرب ہا کھرب کی تعداد میں بیکٹیریا پیدا کئے جو درخت کی جڑوں کو نائٹروجن کی غذا یہ تمام انتظام گویا خدا کا دندانہ دار پہیہ (Cog Wheel) ہے۔ اب انسان کو اس میں اپنا دندانہ دار پہیہ ملانا ہے تاکہ مذکورہ مواقع اس کے لئے درخت کی صورت اختیار کر سکیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایک بیج لے اور اس کو زمین میں دبا دے۔ اگر وہ ایسا کرے تو گویا اس نے خدا کے پہیے میں اپنے پہیے کو ملایا۔ بعد فطرت کی مشین چلنا شروع ہو جائے گی اور وقت پر اپنا نتیجہ دکھائے گی ۔ اس کے برعکس اگر انسان اپنا یہ بیج پتھر پر ڈال دے، یا بیج کے بجائے اس کے ہم شکل پلاسٹک کے دانے زمین میں بوئے ۔ یا وہ ایسا کرے کہ بیج بونے کے بجائے پورا درخت اکھاڑ کر لائے اور اس کو اپنی زمین میں اچانک کھڑا کرنا چاہے تو گویا اس نے اپنا پہیہ خدا کے پہیے میں نہیں ملایا، اس نے اپنے آپ کو خدا کے منصوبے میں شامل نہیں کیا۔ ایسے آدمی کے لئے اس دنیا میں ہرے بھرے درخت کا مالک بننا مقدر نہیں۔
یہی معاملہ اسلامی انقلاب کا بھی ہے۔ وہ بھی خدا کے پیدا کردہ مواقع کو سمجھنے اور ان کو استعمال کرنے سے ظہور میں آتا ہے، نہ کہ خود ساختہ قسم کی اچھل کود مچانے سے۔ صدر اول میں جو انقلاب آیا وہ اس لئے آیا کہ خدا کے کچھ بندوں نے اپنا پہیہ خدا کے پہیے میں ملا دیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ میں ہماری تمام قربانیاں اس لئے رائیگاں چلی گئیں کہ ہم نے خدائی منصوبے کے ساتھ موافقت نہیں کی بلکہ خود ساختہ راہوں میں غبیہ متعلق قسم کی
ہنگامہ آرائیاں کرتے رہے ۔