دین توحید اور دین شرک
Al-Risala, September 1982, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے اشارات (البقرہ ۲۱۳) سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے بعد جب انسان زمین پر آباد ہوا تو سب کا دین توحید تھا۔ یہ صورتِ چند سو سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر مظاہر پرستی کا آغاز ہوا جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ دکھائی نہ دینے والے خدا کو اپنا مرکزِ توجہ بنانا انسان کے لئے مشکل تھا، چنانچہ اس نے عقیدہ خدا کو مانتے ہوئے یہ کیا کہ دکھائی دینے والی چیزوں کو اپنا مرکزِ توجہ بنالیا۔ یہی وہ دور ہے جب کہ سورج ، چاند اور ستاروں کی پرستش شروع ہوئی ۔ پہاڑوں اور سمندروں کو دیوتا سمجھ لیا گیا۔ حتی کہ انسانوں میں سے جس کے پاس عظمت و اقتدار نظر آیا اس کو بھی خدا کا شریک فرض کر لیا گیا۔ اس طرح تقریباً ایک ہزار سال بعد وہ وقت آیا جب کہ توحید کا فکری غلبہ ختم ہو گیا ۔ اور انسانی ذہن پر دین شرک غالب آگیا۔ ابتدائی دین توحید میں اس بگاڑ کے بعد خدا نے اپنے پیغمبر بھیجنے شروع کئے ۔ مگر ان پیغمبروں کو کبھی اتنی مقبولیت حاصل نہ ہو سکی کہ دین شرک کو مٹا کر دوبارہ دین توحید کو غالب اور سر بلند کرتے ۔ انسانی نسل اس زمانہ میں جن جن مقامات پر پھیلی تھی، ہر مقام پر خدا کے پیغمبر لگا تار آتے رہے (المومنون ۴۴) ایک حدیث کے مطابق ان پیغمبروں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھی۔ مگر تمام پیغمبروں کا یہ حال ہوا کہ ان کو استہزاء کا موضوع بنالیا گیا (یبس ۳۰) جب آدمی سچائی کا انکار کرتا ہے، بلکہ اس کا مذاق اڑانے پر اتر آتا ہے تو یہ خواہ مخواہ نہیں ہوتا ۔ رویہ آدمی ہمیشہ کسی چیز کے بل پر اختیار کرتا ہے ۔ اس کے پاس کوئی ناز ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ حق سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ یہ کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے :
فلما جاء تهم رسلهم بالبينات فرحوا بما جب ان کے پاس ان کے رسول دلائل لے کر آئے تو وہ عندهم من العلم وحاق بهم ما كانوا به اس علم پر مگن رہے جو ان کے پاس تھا اور ان کو گھیر لیا المومنون ۸۳ اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
یہاں ”علم“ سے مراد وہ بگڑا ہوا مذہب ہے جو زمانہ گزرنے کے بعد ان قوموں کے نزدیک مقدس بن گیا تھا۔ قسم کا آبائی مذہب ہمیشہ ایک قائم شدہ مذہب ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مانے ہوئے بزرگوں کے نام وابستہ اس کے اوپر بڑے بڑے ادارے چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر ان کا پورا قومی ڈھانچہ کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو لمبی روایات کے نتیجہ میں عظمت کا سب سے اونچا مقام مل چکا ہوتا ہے ۔ ان قوموں کے پاس ایک طرف ان کا یہ مسلمہ مذہب تھا۔ جو شرک کی بنیاد پر قائم تھا۔ پیغمبر ایک ایسی توحید کی آواز بلند کرتا جو وقت کے ماحول میں اجنبی ہوتی تھی۔ اس کا داعی حق ہونا ایک ایسے
دعوے کی حیثیت رکھتا تھا جس کی پشت پر ابھی تاریخ کی تصدیقات جمع نہیں ہوئی ہیں۔ اسی کے پاس اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے لفظی دلیل کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس تقابل میں انہیں وقت کا پیغمبر واضح طور پر حقیر نظر آنا اور ان کا اپنا آیانی مذہب واضح طور پر عظیم۔ حضرت مسیح بے گھر تھے اور درخت کے نیچے سوتے تھے۔ دوسری طرف یہودیوں کا مذہبی سردار ہیکل کی عظیم عمارت میں جلوہ افروز تھا۔ پھر ہیکل کے صدر نشین کے مقابلہ میں درخت کے نیچے سونے والا لوگوں کو زیادہ بر سر حق کیسے نظر آتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قومیں اپنے معاصر پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بناتی رہیں۔ اس استہزاء پر جو چیز انہیں آمادہ کرتی وہ ان کا یہ احساس تھا کہ ہم تو مسلّمہ اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں، پھر ان کے مقابلہ میں اس معمولی آدمی کی کیا حیثیت۔ اکابر کی اس فہرست میں اگرچہ قدیم انبیاء تک ہوتے تھے۔ مگر ان انبیاء کی حیثیت عملاً ان کے یہاں ایک قسم کے قومی ہیرو کی تھی نہ کہ فی الواقع داعی حق کی ۔