اعلان کلمہ اللہ
Al-Risala, September 1982, pp. 8–12
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے دیکھا ہوگا کہ سڑکوں کے چورا ہے پر کھمبا لگا ہوتا ہے جس میں ہری اور لال روشنیاں ہوتی ہیں۔ جس رخ پر ہری روشنی ہو ادھر سواریوں کو جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور جس رخ پر لال روشنی ہو رہی ہو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ادھر سواریاں نہ جائیں۔ اگر کوئی سواری اس نشان دہی کی خلاف ورزی کرے تو وہ ٹریفک قوانین کے مطابق قابل سزا قرار پاتی ہے۔
داعی حق کی حیثیت اصلاً اس قسم کے رہنما کھمبا کی ہے۔ وہ خدا کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے کہ زندگی کے راستوں پر کھڑا ہو کر لوگوں کو بتائے کہ وہ کدھر جائیں اور کدھر نہ جائیں ۔ کون سا راستہ جنت کی طرف جا رہا ہے اور کون سا جہنم کی طرف۔ (و كذلك جعلناكم امة وسطاً لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول
ابتدائی دور توحید کے بعد غلبہ شرک کے زمانے میں خدا کی طرف سے جو رسول آئے وہ اسی خاص مقصد کے لئے آئے۔ ان کو خدا نے حقیقت کا صحیح علم دے کر کھڑا کیا کہ وہ قوموں کی رہنمائی کریں اور ان کو یہ بتائیں کہ کہ دنیا کی زندگی میں ان کے لئے صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ ہر نبی نے اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح انجام دیا ۔ انھوں نے ان کی قابل فہم زبان میں دلائل کی پوری قوت کے ساتھ لوگوں کے سامنے حق کو پیش کیا اور مسلسل اتنی وضاحت کی کہ ان کے مخاطبین کے سامنے اتمام حجت کی حد تک خدا کا پیغام پہنچ گیا پھر جس نے رسول کا ساتھ دیا وہ خدا کے نزدیک جنتی ٹھہرا۔ جس نے رسول کو نہ مانا وہ سرکش اور باغی قرار دے کر جہنم میں ڈال دیا گیا ۔ تاہم اللہ تعالیٰ کو حق کے اعلان کے ساتھ یہ بھی مطلوب تھا کہ دوبارہ حق کا اظہار ہو۔ حق کا اعلان تو یہ ہے
کہ لوگوں کو حق کے بارے میں پوری طرح بتا دیا جائے۔ خیر خواہی اور حکمت کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کو اس طرح کھول دیا جائے کہ سننے والوں کے لئے یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہم اس سے بے خبر تھے۔ جانتے ہی نہ تھے کہ زندگی میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ اسی کا نام اتمام حجت ہے۔ اظہار اس سے آگے کی چیز ہے۔ اظہار کا مطلب یہ ہے کہ دینی فکر دنیا کا غالب فکر بن جائے۔ مقابلہ میں دوسرے افکار پست اور مغلوب ہو کر رہ جائیں ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اعلان کلمہ اللہ کہا گیا ہے : اظہار دین یا اعلان کلمہ اللہ سے مراد اصلاً حدود و قوانین کا نفاذ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فکری غلبہ ہے۔ قسم کا غلبہ جیسا غلبہ موجودہ زمانہ میں جدید علوم کو قدیم روایتی علوم پر حاصل ہوا ہے۔ مثلاً سرمایہ داری پر سوشلزم کا فکری غلبہ، شہنشاہیت پر جمہوریت کا فکری غلبہ اور قیاسی فلسفہ پر تجرباتی سائنس کا فکری غلبہ۔ سائنسی دنیا میں بعض علوم نے غالب علم کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ اور بعض دوسرے علوم نے ان کے مقابلہ میں اپنی برتری کھودی ہے۔ اسی قسم کا غلبہ دین حق کا بھی دین باطل کے اوپر مطلوب ہے۔ خدا قادر مطلق ہے ۔ اس کے لئے بہت آسان تھا کہ وہ حق کو دوسری باتوں پر فائق و برتر کر دے جس طرح اس نے سورج کی روشنی کو دوسری تمام زمینی روشنیوں پر فائق کر رکھا ہے۔ مگر موجودہ دنیا امتحان کی یہاں خدا اپنے مطلوب واقعات کو اسباب کے روپ میں ظاہر کرتا ہے نہ کہ معجزات کے روپ میں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ اسباب کے دائرہ میں اس مقصد کے لئے تمام ضروری حالات پیدا کئے جائیں اور اس کے بعد ایک ایسا پیغمبر بھیجا جائے جس کو خصوصی طور پر غلبہ کی نسبت دی گئی ہو۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل کر کے نہ صرف حق کا اعلان کرے بلکہ حق کا اظہار بھی کر دے تاکہ خدا کے بندوں پر خدا کی نعمت کا اتمام ہو اور ان پر ان برکتوں کے دروازے کھلیں جو ان کی نادانی سے ان کے اوپر بند پڑے یہی وہ بات ہے جو قرآن کی ان آیتوں میں کہی گئی ہے:
يريدون ليطفئوا نور الله بافواههم والله وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں متم نورہ ولو کرة الكفرون ٥ هو الذي ارسل اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ وہ منکروں رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو هدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو تمام دينہ ولو كره المشركون ٥ الصفت ٨ - ۹ دین پر غالب کر دے خواہ وہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو ایک نئی قوم برپا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انا دعوة ابراھیم (میں ابراہیم کی دعا ہوں) حضرت ابراہیم
نے کعبہ کی تعمیر کے وقت یہ دعا کی تھی کہ اے خدا تو میرے لڑکے اسمٰعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کر (البقرہ ۱۲۹) تاہم حضرت ابراہیم کی دعا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے درمیان تقریباً ڈھائی ہزار سال کا غور کرنے کی بات ہے کہ حضرت زکریا نے اپنی اولاد میں ایک پیغمبر پیدا کئے جانے کی دعا کی تو ایک سال کے اندر ہی آپ کے یہاں حضرت یحییٰ پیدا ہو گئے (آل عمران ۳۹) اور حضرت ابراہیم نے اسی قسم کی دعا فرمائی تو اس کی عملی قبولیت میں ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔
اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یحییٰ کو ایک وقتی کردار ادا کرنا تھا۔ آپ اس لئے بھیجے گئے کہ یہود کے دینی بھرم کو کھولیں اور بالآخر ان کے ہاتھوں قتل ہو کر یہ ثابت کریں کہ یہود اب اتنا بگڑ چکے ہیں کہ انھیں معزول کر دیا جائے اور ان کی جگہ دوسری قوم کو کتاب الہیٰ کا حامل بنایا جائے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر اسلام کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ شرک کو مغلوب کر کے توحید کو غالب فکر کی حیثیت دے دیں۔ اس کام کو اسباب کے ڈھانچہ میں انجام دینے کے لئے ایک نئی صالح قوم اور موافق حالات درکار تھے۔ یہی وہ قوم اور یہی وہ حالات ہیں جن کو وجود میں لانے کے لئے ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔
اس منصوبہ کے تحت حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ وہ عراق کے متمدن علاقہ سے نکلیں اور حجاز کے خشک اور غیر آباد مقام پر اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لا کر بسا دیں (ابراہیم ۳۷) یہ مقام اس وقت وادی غیر ذی زرع ہونے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ تھا۔ یہاں تمدنی آلائشوں سے دور رہ کر خالص فطرت کی آغوش میں ایک ایسی قوم کی تعمیر کی جاسکتی تھی جس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطری صلاحیتیں محفوظ ہوں۔ ربنا واجعلنا مسلمين لك ومن ذريتنا امة مسلمة لك، البقرہ (۱۲۸) قبولیت دعا میں ڈھائی ہزار سالہ تاخیر کا واضح مطلب یہ تھا کہ مخصوص ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ وہ جاندار قوم وجود میں آئے جو خدا کے دین کی سچی حامل بن سکے۔ جو پورے معنوں میں ایک جان دار قوم ہو اور ان تمام مصنوعی کمیوں سے پاک ہو جن کی وجہ سے دور اول میں خدا کے دین کے اظہار کے لئے کار آمد آدمی مل سکے۔ جب منصوبہ کے مطابق مکمل اسٹیج تیار ہو گیا اس وقت بنو ہاشم کے یہاں آمنہ بنت وہب کے پیٹ سے وہ پیغمبر غلبہ پیدا کر دیا گیا جس کی دعا حضرت ابراہیم کی زبان پر جاری ہوئی تھی۔
حضرت ابراہیم نے خدا کے حکم سے ہاجرہ اور اسمٰعیل کو موجودہ مکہ کے مقام پر لا کر بسا دیا جہاں اس وقت سوکھی زمین اور خشک پتھروں کے سوا اور کچھ نہ تھا نہ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا اور اسمٰعییل پیاس کی شدت سے ہاتھ پاؤں مارنے لگے تو خشک بیابان میں زمزم کا چشمہ نکل آیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ خدا نے اگر چہ تم کو بڑے سخت محاذ پر کھڑا کیا ہے مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کہ تم کو بے سہارا چھوڑ دے۔ تمھارا معاملہ خدا
کا معاملہ ہے اور خدا ہر نازک موڑ پر تمہاری مدد کے لئے موجود رہے گا۔ اسماعیل جب نوجوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس خواب کو انھوں نے حکم خداوندی سمجھا اور بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے مگر عین اس وقت جب کہ ان کی چھری اسماعیل کے گلے پر پہنچ چکی تھی خدانے آواز دے کر انھیں روک دیا اور اس کے بدلے انھیں ایک مینڈھا دیا جس کو وہ خدا کے نام پر یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ تم سے اگر چہ ہم نے بہت بڑی قربانی مانگی ہے مگر یہ صرف جذبہ کا امتحان قربانی پیش تو کرنا ہوگا مگر ابھی قربان ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ خدا تمھیں بچائے گا کیونکہ اصل مقصد تم کو ایک بڑے کام کے لئے استعمال کرنا ہے نہ کہ خواہ مخواہ ہلاک کر دینا۔
حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو انھوں نے قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے شادی کرلی جو زم زم نکلنے کے بعد آکر مکہ میں آباد ہوگیا تھا۔ حضرت ابراہیم جو اس وقت شام میں تھے، ایک روز گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اس وقت گھر پر اسماعیل نہ تھے، صرف ان کی بیوی موجود تھیں جو اپنے خسر کو پہچانتی نہ تھیں، حضرت ابراہیم نے پوچھا کہ اسماعیل کہاں گئے ہیں، بیوی نے کہا کہ شکار کرنے کے لئے۔ پھر پوچھا کہ تم لوگوں کی گزر کیسی ہوتی بیوی نے معاشی تنگی اور گھر کی ویرانی کی شکایت کی، اس کے بعد حضرت ابراہیم واپس چلے گئے اور خاتون سے کہا کہ جب اسماعیل آئیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچا دینا کہ اپنی چوکھٹ کو بدل دو (غیر عتبة بابك)، حضرت اسماعیل نے واپسی کے بعد جب پورا واقعہ سنا تو انھوں نے سمجھ لیا کہ یہ میرے باپ تھے جو ہمارا حال دیکھنے آئے تھے اور ’’چوکھٹ بدل دو‘‘ کا مطلب استعارے کی زبان میں یہ ہے کہ اس بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی کرو، کیونکہ وہ اس نسل کو پیدا کرنے کے لئے موزوں نہیں جس کا منصوبہ خدا نے بتایا چنانچہ انھوں نے اس بیوی کو طلاق دے دی اور دوسری عورت سے شادی کرلی۔ اس کے کچھ دن بعد حضرت ابراہیم دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، اب بھی اسماعیل گھر پر موجود نہ ملے۔ حضرت ابراہیم نے دوسری بیوی سے بھی وہی سوال کیا جو انھوں نے پہلی بیوی سے کیا تھا۔ اس بیوی نے اسماعیل کی تعریف کی اور کہا کہ جو کچھ ہے بہت اچھا ہے، سب خدا کا شکر ہے، اس کے بعد حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ اسماعیل آئیں تو ان کو میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچا دینا کہ چوکھٹ کو قائم رکھو (ثبت عتبة بابك) یعنی تمھاری یہ بیوی پیش نظر منصوبہ کے لئے بالکل ٹھیک ہے، اس کے ساتھ اپنا تعلق باقی رکھو (تفسیر ابن کثیر) اس طرح عرب کے الگ تھلگ علاقے میں اسماعیل کے ابتدائی خاندان سے ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی جس نے بالآخر اس جاندار قوم (بنو اسماعیل) کی صورت اختیار کی جو نبی آخرالزماں کا گہوارہ بن سکے اور تاریخ کی اس عظیم ترین ذمہ داری کو سنبھالے جو خدا اس کے سپرد کرنا چاہتا تھا۔
یہ قوم جو عرب کے صحراؤں اور چٹیل بیابانوں میں تیار ہوتی، اس کی خصوصیات کو ایک لفظ میں المرو رة کہا جا سکتا ہے۔ المر ورة کے لفظی معنی ہیں مردانگی۔ یہ عربوں کے یہاں کسی کے جوہر انسانیت کو بتانے کے لئے سب سے اونچا لفظ سمجھا جاتا تھا۔ قدیم عربی شاعر کہتا ہے:
اذا المرء اعیتہ المرو رة ناشئا فطلبها كهلا عليه شديد (آدمی اگر اٹھتی جوانی میں مردانگی کا مقام حاصل کرنے سے عاجز رہ جائے تو بڑھاپے میں اس کو حاصل کرنا بہت
پروفیسر فلپ ہٹی نے عرب تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب کے بیابانوں میں صدیوں کے عمل سے جو قوم تیار ہوئی وہ دنیا کی ایک نرالی قوم تھی جو مندرجہ ذیل اخلاقی صفات میں کمال درجہ رکھتی تھی : Courage, endurance in time of trouble (sabr) observance of the rights and obligations of neighbourliness (jiwar)
manliness (muruah) generosity and hospitality, regard for women and fulfilment of solemn promises. (P. 253)
ہمت، مشکل کے وقت برداشت، پڑوسی کے حقوق اور ذمہ داریوں کی ادائیگی، مردانگی، فیاضی اور مہمان نوازی، عورتوں کی عزت اور وعدہ کر لینے کے بعد اسے پورا کرنا۔